فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے منصوبے سے ہوشیار!

اسرائیل نے جنگ سے متاثرہ غزہ میں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے 36 بین الاقوامی اداروں کو وارننگ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جب تک وہ نئے قوانین کے تحت عاید شرائط پوری نہیں کریں گے، انہیں علاقے میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) نئے قواعد کی تعمیل کیے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتیں۔ان اداروں میں ڈاکٹرز وِد آٹ بارڈرز، نارویجن ریفیوجی کونسل، کیئر انٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریسیکو کمیٹی، آکسفیم اور کیریٹس جیسے بڑے خیراتی ادارے بھی شامل ہیں، جو غزہ میں متاثرہ اور بھوک کے شکار شہریوں کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے نئے قوانین کے تحت ان اداروں کو فنڈنگ کے ذرائع، ملازمین کے ڈیٹا اور دیگر تفصیلی معلومات فراہم کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

مشرق وسطی کے امور پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ قواعد و ضوابط کی پابندی کی بات محض ایک بہانہ ہے، قابض وناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ میں صہیونی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے لاکھوں فلسطینیوں کے لیے بنیادی انسانی ضروریات فراہم کرنے والے اداروں پر قدغنیں لگانے اور انہیں کام سے روکنے کا اصل مقصد غزہ پر ایک بار پھر بھوک مسلط کرنا ہے تاکہ فلسطینی شہریوں کو ان کی جدی پشتی سرزمین سے بے دخل کرنے کے شیطانی منصوبے کو آگے بڑھایا جاسکے۔ اسرائیل اور اس کے پشت پناہ امریکا کا شاید یہ خیال ہے کہ بیرونی امداد بند ہونے اور قحط کی صورت حال پیداہونے کی صورت مین فلسطینی باشندے غزہ سے انخلا کرنے اور صومالی لینڈ یا کسی بھی دوسرے ملک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق فلوریڈا میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شیطانی جوڑی کی ملاقات کے بعد اسرائیل نے رفح کراسنگ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا بھی مقصد فلسطینیوں کے مصر کی طرف انخلا کے لیے راستہ بنانا بتایا جارہاہے۔

غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کو بنیادی انسانی ضروریات فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے صہیونی دہشت گرد ریاست اسرائیل کی جانب سے بے بنیاد الزامات کا سامنا کررہے ہیں ۔ ڈاکٹرز ود آٹ بارڈرز نے 22 دسمبر کو خبردار کیا تھا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن سے متعلق قابض اسرائیل کے نئے قواعد 2026 تک غزہ میں سیکڑوں ہزار فلسطینیوں کو زندگی بچانے والی طبی سہولیات سے محروم کر سکتے ہیں۔ یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں غیر سرکاری تنظیموں کو کام سے روکنے کی دھمکی سے تباہ حال علاقے کے مکینوں تک ضروری انسانی امداد کی فراہمی ممکن نہیں رہے گی۔ یورپی ممالک نے مشترکہ بیان میں غزہ میں انسانی صورت حال کے ایک بار پھر بگڑنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کو اپنی حدود میں غیر سرکاری تنظیموں کو پائیدار اور باقاعدہ انداز میں کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے اور فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا چاہیے۔ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن، سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم غزہ میں انسانی صورتحال کے دوبارہ بگڑنے پر سخت تشویش رکھتے ہیں۔ ان ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ طبی آلات اور پناہ گاہوں سے متعلق سامان سمیت بعض درآمدات پر عائد غیر معقول پابندیاں ختم کرے اور سرحدی گزرگاہیں کھولے تاکہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل میں اضافہ ہو سکے۔

مگر اسرائیل کسی اپیل،مطالبے اور انصاف کی بات پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہے اور اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ امریکا کا صہیونیت نواز بدکردار صدر ٹرمپ اس کی پشت پر ہے۔ ٹرمپ نے ستر ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قاتل اور بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے سرٹیفائیڈ جنگی مجرم نیتن یاہو کا فلوریڈا میں”جنگی ہیرو” کے طور پر استقبال کیا اور اسے امریکا کی جانب سے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا ہے جس کے بعد کسی ابہام کی گنجائش نہیں رہی کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطی میں کیا کرنے جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت حماس کوغیر مسلح ہونے کیلئے حتمی دو ماہ کی مہلت دی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ حماس سمیت فلسطینی مقاومتی تنظیمیں غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور وہاں ایک مقامی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت کے بغیر ہتھیارڈالنے پر آمادہ نہیں ہوں گی، ایسی صورت میں امریکا اور اسرائیل دیگر ممالک کی افواج کے ذریعے فلسطینی مقاومت کو طاقت کے زور پر غیر مسلح کرنے کی کوشش کریں گے اور دوبارہ جنگ چھیڑ دی جائے گی جس کی آڑ میں فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے اور غزہ میں عیاشی و فحاشی کے اڈے قائم کرنے کے امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے گا۔

یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ایک جانب فلسطینیوں کو غیر مسلح ہونے کے لیے دھمکیاں دی جارہی ہیں تو دوسری جانب صومال کے ایک حصے ارض الصومال(صومالی لینڈ) کو الگ کرکے وہاں فلسطینیوں کو بسانے کی باتیں ہورہی ہیں اورتیسری جانب یمن میں متحدہ عرب امارات کے ذریعے باغیوں کی پشت پناہی کرکے سعودی عرب کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ اب تک ٹرمپ کے نام نہاد منصوبے اور ابراہیم اکارڈ کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ عالم اسلام کے لیے ایک بڑا نازک وقت اور فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہاں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو غیر معمولی بیدار مغزی اور ہوشمندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ممالک کو صومالی لینڈ کو تسلیم کرانے کی نئی مہم کے مضمرات و نتائج سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اس پر صرف زبانی احتجاج پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردون نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے خود ساختہ جمہوریہ صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔ دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس پر مؤثر اور عملی سفارتی موقف اختیار کرنا چاہیے اور غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے امریکی و اسرائیلی منصوبے کی پوری طاقت کے ساتھ مخالفت و مزاحمت کرنی چاہیے۔