دفاعِ وطن کے لیے قومی وحدت و یکجہتی کی ناگزیر ضرورت

وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کی مناسبت سے جاری کردہ پیغام میں کہا کہ ان کی سیاسی بصیرت نے تاریخ کا رخ موڑ دیا اور سامراجی قوتوں کو شکست ہوئی۔ قائد ِ اعظم کے سیاسی شعو ر نے برِصغیر کے مسلمانوں کی رہنمائی کی جس کی بدولت اس خطے کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن حاصل کیا۔قائد اعظم نے ایک آزاد اور خود مختار اسلامی ،فلاحی ریاست کے لیے بھرپور جدوجہدکی ۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے بر صغیر کے مسلمانوں کی عظیم تر سیاسی خدمت انجام دی۔وہ تاریخ کے ان نازک لمحات میں جبکہ انگریز بر صغیر سے رخصت ہورہا تھا،اگراسلامیانِ ہند کے لیے ایک الگ اور آزاد ریاست کی جدوجہد نہ فرماتے تو آج جو کچھ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آرہاہے ، اس سے کئی گنا بدترین حالات اس خطے کے تمام مسلمان خود پر گزرتے دیکھ رہے ہوتے۔ ایک صدی قبل وجود میںآنے والی انتہا پسند جماعت آر ایس ایس آج بھارتی اقتدار پر قابض ہے ۔ مودی کی قیادت میں انتہا پسند برہم سامراج پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کردینے کے لیے بے تاب ہے ۔ انتہا پسند برہمن لیڈر متعصب مودی پر اس وجہ سے تنقید کررہے ہیں کہ بھارتی افواج بنگلہ دیش پر حملہ آور ہوکر اسے اکھنڈ بھارت کا حصہ بنانے میں تاخیر کیوں کررہی ہیں ؟اطلاعات کے مطابق اس وقت پچھتر بھارتی جنگی جہاز، ایس چار سو دفاعی نظام ، براہموس میزائل اور دیگر بھاری ہتھیار بنگلہ دیش کی سرحد پر منتقل کردیے گئے ہیں۔دوسری طرف اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک بھرپور دفاعی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایسے میں اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر بنگلہ دیش کی آزادی کو بھارت سے خطرات لاحق ہوں تو پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک کے دفاع کے لیے گزشتہ مئی کی مانند معرکۂ حق لڑنے کے لیے ایک مرتبہ پھر میدانِ جنگ میں دکھائی دے۔

بھارتی برہمن سامرج کے ہاتھوں بر صغیر کے مسلمانوں کے دینی تشخص، اجتماعی طرزِ حیات اور ان کی آزادی کو لاحق خطرات محض مفروضات نہیں ۔ یہ ایسے تلخ حقائق ہیں جن سے کوئی کور چشم ہی انکار کرسکتاہے ۔ بھارت نے قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی مملکتِ خداداد کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کرلیا تھا۔ پاک، بھارت جنگوں کی بنیادی وجہ ”اکھنڈ بھارت ” کا خواب ہے جو ہر بھارتی حکمران دیکھتا چلا آرہاہے ۔ اس خوا ب کی تکمیل میں اب تک سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی مسلح افواج کی قوت بنی رہی ہے ۔ اگر پاکستان بطور ایک آزاد مسلم ریاست وجود میں نہ آتا تو مسلمانوں کو ایک عظیم الشان عسکری طاقت کسی طور حاصل نہ ہوسکتی تھی جو آج نہ صرف پچیس کروڑ اسلامیان پاکستان کے محافظ کا کردار ادا کررہی ہے بلکہ بنگلہ دیش کے سترہ کروڑ کے لگ بھگ مسلمان بھی اس عسکری قوت سے ہاتھ ملانے کے بعد اب بھارت کے آتشیں لشکر کی آنکھوں میں آنکھ ڈالے کھڑے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیپال اور سری لنکا جیسے چھوٹے ممالک جو کہ بھارتیوں کے غرور،تمسخراور دھمکی آمیز رویے سے تنگ آچکے ہیں، اس وقت پاکستان کے قریب ہیں جبکہ بنگلہ دیش بھارت کی سات ریاستوں کی آزادی کے لیے کمربستہ دکھائی دیتاہے ۔ خطے میں چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے دفاعی اشتراک نے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے ایسا بندباندھ دیا ہے جس کاسیاسی و سفارتی تدارک انتہاپسند مودی اور اس کے جارحیت پسند چیلوں کے بس کی بات دکھائی نہیں دے رہی لہذا ان کی طرف سے جارحیت قرین قیاس ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ماہِ مئی میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شرم ناک فوجی شکست کے بعد سے پاکستان نے اپنی دفاعی پالیسی کو بہت تیزی سے نئے خطوط پر استوارکیاہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت نے بیک وقت سفارتی ، معاشی اور دفاعی میدانوں میں ایک جامع حکمت ِ عملی کے تحت پیش قدمی کی ہے۔ اس نئی پالیسی کو ”ہارڈ اسٹیٹ ”کے نام سے موسوم کیا جارہاہے ۔اس جامع حکمت عملی کے تحت ایک طرف افوا ج پاکستان کے نظام کو مربوط، مؤثر، مستحکم اور ہمہ گیر بنایا گیاہے تو دوسری جانب پاکستان نے علاقائی اور عالمی سطح پر بھی بھارت کے پھیلائے ہوئے جال کو توڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔پاکستان کی کوشش ہے کہ جس طرح میدان جنگ میں بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا گیاہے اسی طرح بھارتی معاشی جال اور اس کے پھیلائے ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بھی توڑ دیا جائے تاکہ پاکستان کو درپیش پراکسی وار کا خاتمہ کیا جاسکے۔اس محاذ پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے جہاں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو قابلِ اعتماد اتحادیوں کی ضرورت ہے وہاں داخلی فتنہ و فساد،سیاسی و مذہبی انارکی اور جتھوں کی غنڈ ہ گردی کا خاتمہ بھی اہم ہے ۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس کے جاری کردہ اعلامیے میں بھی اسی پر زور دیا گیاہے کہ قومی یکجہتی کو سبوتاژکرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ کوئی بھی طاقت افواجِ پاکستان اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا نہیں کرسکتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی جانب پاکستان پر مسلط کردہ بالواسطہ جنگ کا اب مؤ ثر جواب دیا جارہاہے ۔ یہ امر کسی بھی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں کہ اس وقت افغانستان کی سرزمین بھارتی پراکسی جنگ کا مرکز بنی ہوئی ہے ۔ طالبان حکومت نے بھارتی اور بعض عرب ممالک کی پشت پناہی کی بدولت فتنہ ٔ خوارج، فتنہ ٔ ہندوستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کے خلاف کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت مختلف آزاد ذرائع تصدیق کرچکے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال کی جارہی ہے۔ ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود سات ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ہتھیار ایسے دہشت گرد گروہوں کی دسترس میں ہیں جو کہ پاکستان کے شہروں پر حملہ کررہے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اہلِ وطن اس ہمہ گیر جنگ کی نوعیت اور شدت کومحسوس کرتے ہوئے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں او ر فی الحال داخلی اختلافات کو ایک جانب رکھ دیں۔پاکستان پر مسلط ہائبرڈ واردراصل جغرافیائی سیاست کا اہم حصہ ہے لہذا عالمی سیاست میںاب فوج کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ایسے میںیہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ پاکستان اپنا دفاع کررہاہے ۔ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا تقاضا ہے کہ جنگی حالات کا احساس کیا جائے۔ قومی وحدت و یکجہتی کے تقاضوں کا خیال رکھا جائے،اختلافی مسائل میں محتاط زبان استعمال کی جائے اور باہمی تعلق اور وضع داری کو قائم رکھا جائے۔