گزشتہ دنوں بھارت میں خدا کے وجود پر مناظرہ ہوا۔ یہ مناظرہ ملحد جاوید اختر اور اسلام پسند مفتی شمائل کے مابین ہوا۔ بحث کے آغاز میں مفتی شمائل ندوی نے اعلان کیا کہ ہم خدا کے وجود کو سائنس کی رو سے ثابت نہیں کر سکتے، کیونکہ خدا کا وجود حسیات سے ماوراء ہے۔ یہ مناظرہ لاکھوں افراد نے براہ راست دیکھا۔
دراصل بات یہ ہے کہ مغرب کے عسکری استعماری غلبے کے ساتھ ساتھ دنیا پر مغرب کا فکری غلبہ بھی ہوتا گیا۔ اس غلبے کا تعلق مغرب کے جدید فلسفے سے ہے جس نے دنیا کی تیس تہذیبوں کی مابعد الطبعیات، ایمانیات، اعتقادات اور دیگر مسلمات کو قبول کرنے سے یکسر انکار کیا۔ یہ بھی کہا کہ مابعد الطبعیاتی سوالات احمقانہ سوالات ہیں۔ ان کا جواب معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا انسان نے خالق سے اپنا رشتہ توڑ کر ماضی کو تاریک زمانہ قرار دیا۔ انسان کو خالق مانا۔ اس دور کو جدید فلسفے کی زبان میں روشن خیالی آزاد خیالی انسان پرستی کازمانہ کہا جا تا ہے۔ جب انسان نے علم ہدایت کی روشنی کے لیے باہر، خارج، آسمان، وحی، پیغمبر اور بیرون کی طرف دیکھنے کے بجائے تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے اندرون کی طرف توجہ کی۔ اپنی عقلیت پر اعتماد کیا اور عقلیت کے ذریعے روشنی حاصل کی۔ ”کانٹ” کا مضمون What is Enlightment انسان کے اس ذہنی سفر بلکہ ذہنی ارتداد کی خوفناک کہانی ہے۔ انسان جب علم میں خود کفیل ہوگیا تو اس نے ایک نیا مذہب تخلیق کیا جو جدید فلسفے سے نکلا، جسے ہم انسان پرستی اور آزادی کا فلسفہ کہتے ہیں۔ لہٰذا عہد جدید کا انسان اس کے ارادے، اس کے ادارے، اس کا علم، اس کی سائنس اور اس کی ٹیکنالوجی انسان کی آزادی میں مسلسل اور مستقل اضافے میں مصروف ہے۔ اس آزادی کا ایک ہی مقصد ہے۔ وہ ہے زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرنا، لہٰذا عہد حاضر میں علم کی تعریف بھی بدل گئی ہے۔ جو جدید فلسفے کا اثر ہے۔ جدید انسان اسی جدید فلسفہ مغرب کی تخلیق ہے جو مابعد الطبعیاتی سوالات پر یقین نہیں رکھتا۔ ارسطو کی اتباع میں اس دنیا کو ابدی سمجھتا ہے۔ لہٰذا اس ابدی دنیا کو جنت بتانے میں مصروف عمل ہے۔ جدید ترقی اس جنت کے حصول کے وسائل مہیا کر رہی ہے۔
ادراکِ عہد حاضر کے لیے اور عہد حاضر کے تمام مقاصد کو جاننے کے لیے ہمیں جدید مغربی فلسفے سے کچھ نہ کچھ آگہی ضرور ی ہے۔ مسلمانوں نے ماضی میں یونانی فلسفے کا ناقدانہ جائزہ لیا تھا۔ بالکل اسی طرح ہمیں جدید فلسفے کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ جدید فلسفے نے ہمیں برے طریقے سے اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے۔ کیا کریں کچھ سمجھ نہیں آرہا؟ جدید فلسفہ پڑھنے اور سمجھنے سے یہ مسئلہ کسی حد تک حل ہوسکتا ہے۔ ہمیں جدید فلسفے کا کماحقہ ادراک ہی نہیں ہے۔ ان کے بھیانک مقاصد سے آگاہی نہیں ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ مولانا یوسف بنوری اور علامہ اقبال جدید فلسفے کی تباہ کاریوں سے بخوبی واقف تھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی اور اس میں مسلمانوں کی عارضی شکست ان کے سامنے تھی۔ فرنگی استعمار اور ہندو ثقافت کے یکے بعد دیگرے ہندوستان پر پنجے گاڑنے کی کوششوں سے وہ باخبر تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کی سرزمین ہند سے بے دخلی کا جو خواب دشمن دیکھ رہا تھا، وہ ان کے علم میں تھا۔ یہی حال اقبال کی شاعری کا ہے۔ مولانا قاسم نانوتوی کی کتابوں اور تحریروں میں جدید فلسفہ کے پیدا کردہ سوالات، شبہات اور اشکالات کا زبردست ردّ موجود ہے۔ اس میں علم کلام کے تمام خدو خال موجود ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب ”الانتباہات المفیدہ” جدیدیت، جدید فلسفے کا نہایت عالمانہ وفاضلانہ ردّ ہے۔ محمد حسن عسکری اور پروفیسر کرار حسن نے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ An answer to modrenism کے نام سے کیا ہے۔ جدید ذہن میں پیدا ہونے والے بہت سے شبہات کا ازالہ یہ مختصر کتاب کر دیتی ہے۔
مذکوہ بالا حضرات اس بات کے قائل تھے کہ مسلمان خصوصاً دین دار طبقہ اور علماء جدید فلسفے سے واقف ہوں۔ پہلے جدید فلسفے کو خود سمجھیں۔ پھر عوام کو سمجھائیں اور پھر اس کے سامنے سد اسکندری بن جائیں۔ یہ کام ہماری تاریخ کے آغاز میں امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کے ہاتھوں نہایت احسن طریقے سے مکمل ہو چکا ہے۔ امام غزالی یونانی زبان نہیں جانتے تھے، لیکن انہوں نے اس زبان کے بغیر ہی یونان کے فلسفے کو علمی شکست دی۔ ابن تیمیہ یونانی زبان جاتے تھے، انہوں نے یونانی منطق و فلسفے کو دوسرے طریقے سے شکست دی۔ وہ علماء جو انگریزی، فرانسی اور جرمن زبان نہیں جانتے وہ امام غزالی کے طریقے کی پیروی کریں۔ جو علماء ان زبانوں سے واقف ہیں، وہ اابن تیمیہ کے طریقے کی پیروی کریں۔ زبان سے عدم واقفیت جدید مغربی فلسفے کے فہم میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔
ملحد جاوید اختر اور اسلام پسند مفتی شمائل کے مابین ہونے والی اس پوری ڈیبیٹ کا فکری نتیجہ یہ ہے کہ وہ مدارس جو جدید تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتے ہیں، آج اسی کے کہ یہ اثرات ہیں کہ ایسے مدارس کے فضلاء عالم اسلام کی اتنی شاندار ترجمانی کر رہے ہیں۔ پوری دنیا ہمہ تن گوش ہوکر ان کو سن رہی ہے۔ ایک عالم دین جو بظاہر مدرسے کے پڑھے ہوئے ہیں مگر ان کی عصری تعلیم اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بھی لہجہ، کوئی بھی اصطلاح، کوئی بھی زبان ان کو مرعوب نہیں کر سکتی۔ آپ دیکھیں کہ جس لہجے میں ان پر سوال کیا گیا اسی لہجے میں جواب دیا، جس زبان میں ان پر اعتراض ہوا، اسی زبان میں ان کا کاؤنٹر کیا۔ ہمیں مزید ایسے مدارس کی ضرورت ہے جو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی ہم آہنگ ہوں۔ آج کے زمانے کی جدید ابحاث، جدید چیلنجز اور نوجوانوں جو درپیش چیلنجز بھی ہمارے سامنے ہوں۔ اگر ہم اس ایک بحث سے یہ نتیجہ اخذ کرلیں تو یہ بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔ اس ایک بحث سے نہ جانے کتنے نوجوان الحاد سے واپس آئے ہیں۔ کتنے نوجوان غیر مسلم سے مسلمان ہوئے۔ ایک نوجوان جو دینی اور عصری تعلیم رکھتا ہے، زمانے کے تقاضوں سے واقف ہے جب وہ اتنی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے تو اگر ہر مدرسہ اس کا اہتمام کرے گا تو کتنا بڑا انقلاب ہمارا منتظر ہوگا۔ آج کے دور میں کرنے کا یہ ایک بہت بڑا کام ہے۔

