(تیسری قسط)
یہ اجتماع اِس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا قانون بننے کے بعد بھی رجسٹریشن عملًا بند ہے اور مدارس کو ناشائستہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ قومی خزانے پر ایک روپے کا بوجھ ڈالے بغیر لاکھوں طلبہ اور طالبات کو نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے خدمت خلق کا کام ان جگہوں پر بھی ہو رہا ہے جہاں حکومت کی بھی پہنچ نہیں ہے۔
یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ 2004ء میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کی قیادت کے ساتھ سول ودفاعی عمائدینِ ریاست کی موجودگی میں طویل اجلاس کیا اس میں اتفاقِ رائے سے سوسائٹیز ایکٹ میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کیلئے سیکشن 21 کا اضافہ کیا گیا تھا۔ پھر اسے پارلیمنٹ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے باقاعدہ منظور کرا کے ایکٹ بنایا گیا اور اس کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہوا۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کی رکن تنظیمات نے اضلاع میں اپنے کوآرڈینیٹر مقرر کیے اور تیزی کے ساتھ رجسٹریشن کا عمل جاری ہوا مگر بعد میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے روک دیا گیا۔ پس آج بھی یہ قانون موجود ہے اور مؤثر ہے اس پر حسبِ سابق عمل کیا جائے۔ ہم اس بات کی تحسین کرتے ہیں کہ دس دسمبر کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اعلان کیا کہ ہم صوبائی حکومتوں سے کہہ دیں گے کہ جو مدارس سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں انہیں یہ سہولت فراہم کی جائے۔ اس اجتماع کا متفقہ مطالبہ ہے کہ جنابِ فیلڈ مارشل کی اس یقین دہانی پر لفظًا ومعناً عمل کیا جائے، دینی مدارس بھرپور تعاون کریں گے۔اس قانون میں تحریر تھا: ہر مدرسے کا سربراہ یہ ڈکلریشن دے گا: ‘ہمارے ادارے میں کسی قسم کی عسکریت انتہا پسندی اور فرقہ ورانہ نفرت انگیزی کی تعلیم نہیں دی جائے گی۔ البتہ یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ کلاس روم کی حد تک تقابلِ ادیان ومذاہب کے موضوعات پر علمِ عقائد کی ابحاث اس سے مستثنیٰ ہیں، یہ مسائل قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہیں۔ اس طرح کی علمی اور نظریاتی بحثیں امریکا اور مغرب کی مسیحی درسگاہوں میں بھی ہوتی ہیں۔ ہم ایک مطالعاتی دورے کے دوران امریکا کی ان درسگاہوں میں یہ سب دیکھ چکے ہیں۔ یہ بھی طے تھا کہ مدرسے کا اطلاق ان اداروں پر ہو گا جہاں طلبہ وطالبات کے لیے اقامتی درسگاہیں ہیں اور جن میں تعلیم کے ساتھ طلبہ و طالبات کو قیام وطعام کی سہولتیں بھی دی جاتی ہیں اور کفالت کی جاتی ہے۔ عام مساجد میں یا نجی مقامات پر جو دینی تعلیم کے ادارے ہیں اور ان میں طلبہ وطالبات روزانہ آتے ہیں اور پڑھ کر چلے جاتے ہیں وہ مدرسے کی اصطلاحی تعریف سے خارج ہیں۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور چیف آف ڈیفنس فورسز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دینی مدارس اور مساجد کے بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنے کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے، اسے آسان اور قابلِ عمل بنایا جائے۔ ایف اے ٹی ایف اور عالمی اداروں کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر طرح کے دینی رفاہی اور فلاحی اداروں کے مالی معاملات میں شفافیت آئے اور شفافیت تبھی آ سکتی ہے کہ بینکوں میں اکائونٹ کھلیں اور مالی معاملات شفاف ہوں۔ پس بینکوں میں اکائونٹ کھولنے کی سہولتیں دیے بغیر مالی شفافیت کیسے آسکتی ہے۔
ہم یہ بات دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس کا بنیادی کام شریعتِ حق کی تعلیم ہے اور حکومت سمیت کسی بھی حلقے کی ترغیب و تحریص یا کسی قسم کے دباؤ کے بغیر مستند اور حق گو علما پیدا کرنا ہے۔ اس لیے ان کا اپنے نصاب ونظام میں مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہونا ضروری ہے اور دینی مدارس کسی ایسے اقدام کیلئے ہرگز تیار نہیں ہوں گے جو ان کے اس بنیادی ہدف کی راہ میں رکاوٹ ہو۔ انہیں کسی ایسے نظام میں داخل ہونے پر مجبور کرنا سراسر زیادتی اور متفقہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہم حکومت کو متوجہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں عرصے سے بلاجواز رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ ملک پہلے ہی مسائل کا شکار ہے ایسے حالات میں اس تنازعے کو جاری رکھنے سے مسائل مزید الجھیں گے اور یہ ملک کیلئے سخت مضر ہو گا۔ مدارس پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ عصری تعلیم نہیں دیتے؛ اوّل تو اس وقت بعض مدارس اپنے وسائل کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی دے رہے ہیں اور ان کے طلبہ سرکاری بورڈوں کے امتحانات میں پوزیشنیں بھی لے رہے ہیں۔ جہاں اس کی کمی ہے دینی مدارس اسے خود اپنی ضرورت سمجھ کر پورا کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔
یہ دینی ادارے قرآن و حدیث اور اِسلامی فقہ کی تعلیم کے لیے مختص ہیں۔ ضروری عصری تعلیم کے بعد اگر ان کا سارا زور قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی پر ہے تو تخصصات کے اس دور میں اس کی حکمت ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کسی لا کالج سے یہ مطالبہ کرنا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین پیدا کیوں نہیں کرتے ایک لغو مطالبہ ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ عصری تعلیم کا شوشہ دراصل انہیں حکومت کے ماتحت کرنے کے لیے چھوڑا گیا ہے تاکہ علماء اور اہلِ مدارس کو دینی معاملات میں حق گوئی سے روکا جا سکے۔ یہ متفقہ اجتماع واضح کرنا چاہتا ہے کہ مدارس کسی ایسی کاوش کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
10۔ یہ اجتماع بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کی دل وجان سے نہ صرف حمایت کرتا ہے اور اس بات کو ہر مسلمان کا فریضہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک اس مقصد کے حصول کیلئے ہر ممکن کوشش سے دریغ نہ کرے۔ اگرچہ ظاہری طور پر جنگ بندی کا اعلان ہوگیا ہے لیکن اسرائیل کی طرف سے بے قصور اور پرامن لوگوں کی نسل کشی اور ان کو امداد پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں مسلم ملکوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی افواج وہاں بھیج کر حماس کو غیرمسلح کریں۔ متعدد مسلم حکومتیں اس سے انکار کر چکی ہیں اور اب پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ اجتماع پوری تاکید کے ساتھ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنی افواج کو بھیجنے سے گریز کرے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ میں نہ آئے بلکہ حماس کو فلسطین کے دفاعی نظام کا مؤثر حصہ بنایا جائے۔ الحمدللہ! پاکستان کی افواج جذبہ جہاد سے آراستہ ہیں اور انہیں فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کی کسی مقدس جدوجہد کے خلاف کھڑا کرنا قوم کے لیے ناقابلِ تصور ہے۔ اس سازش سے ملک کو محفوظ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کا ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں بیعت کی کئی صورتیں تھیں: سب سے پہلے بیعت علیٰ الاسلام تھی۔ ہجرت کے موقع پر بیعت علیٰ الہجر تھی اور اہلِ یثرب نے ہجرت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعتِ عقبہ اولیٰ اور عقبہ ثانیہ کی اور عہد کیا: ‘حالات خوشگوار ہوں یا ناگوار ہم نے ہر حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو سننے اور احکام کو ماننے کی شرط پر بیعت کی۔ (بخاری: 7199)۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: اور یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے ہر صورت میں کلمہ حق کہیں گے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یثرب آئیں گے تو جن سے ہم اپنے اہل وعیال کا دفاع کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی دفاع کریں گے اور (اس کے صلے اور انعام میں) ہمارے لیے جنت ہے۔ (مسنداحمد) پھرجب جہاد کا موقع آیا تو بیعت علیٰ الجہاد تھی اور ایک بیعتِ مومنات ہے جس کا ذکر سورة الممتحنہ: 8میں ہے۔ اب تو اہلِ اقتدار خود کہتے ہیں کہ جہاد کا اعلان افراد اور تنظیموں کا نہیں بلکہ ریاست کا حق ہے اور اس کیلئے ریاست کا قائم کردہ ادارہ پاکستان کی مسلح افواج ہیں اور مسلح افواج کا ماٹو ہے: ایمان تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ۔ پس حکومت اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ مسلح افواج کی پشتیبانی کریں اور انہیں ملک کے دفاع وسلامتی کیلئے تمام درکار سہولتیں فراہم کریں۔ یہ خلافت کا دور نہیں ہے کہ اس کی بیعت کی جائے۔

