2026ء کا آغاز اور انسانیت کے مستقبل کا سوال

سال 2025 ماضی کا حصہ بن چکاہے اور دنیا نے 2026 میں قدم ایسے وقت رکھا ہے جب انسانیت جنگوں، قتل و غارت اور مسلسل تنازعات کے زخموں سے چور ہے۔ گزشتہ برس انسانی تاریخ کے ان سیاہ ادوار میں شمار ہوگا جب دنیا کے مختلف خطوں میں بہتا ہوا انسانی خون معمول بن گیا اور امن، انصاف اور بین الاقوامی قانون محض کاغذی دعوے ثابت ہوئے۔ ایک ایسا سال جس میں طاقت نے قانون کو، مفاد نے اخلاق کو اور جارحیت نے انسانیت کو بری طرح روند ڈالا۔

دو ہزار پچیس کا سب سے ہولناک اور المناک پہلو غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت تھی، جہاں بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام اپنی انتہاؤں کو پہنچا۔امریکا کے ڈیٹا مانیٹرنگ ادارے ایکلِڈ (ACLED ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران اسرائیل نے دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ بیرونِ ملک فوجی کارروائیاں کیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری سے 5 دسمبر 2025 تک اسرائیل نے کم از کم 10 ہزار 631 فوجی حملے کیے، جو ایک سال میں کسی بھی ریاست کی جانب سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان حملوں کا دائرہ فلسطین، ایران، لبنان، شام، یمن اور قطر تک پھیلا رہا۔

یہ اعداد و شمار اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ اسرائیل اب محض ایک علاقائی قابض قوت نہیں رہا بلکہ وہ ایک ایسی بے لگام ریاست بن چکا ہے جو عالمی قوانین، ریاستی خود مختاری اور انسانی جانوں کی کسی طور پر کوئی پروا نہیں کرتی۔غزہ میں یکطرفہ قتل و غارت کا یہ سلسلہ پورے سال جاری رہا۔ ہزاروں فضائی، زمینی اور بحری حملوں کے نتیجے میں ستر ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے۔ پورے شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے، اسپتال، اسکول، پناہ گاہیں اور امدادی مراکز تک محفوظ نہ رہے۔ عالمی برادری نے بیانات، قراردادوں اور رسمی مذمت سے آگے بڑھ کر کوئی مؤثر قدم نہ اٹھایا۔ بالآخر اکتوبر میں عالمی دباؤ اور عوامی احتجاج کی شدت کے باعث اسرائیل کو جنگ بندی کے نام پر حملوں میں کمی لانا پڑی، مگر یہ جنگ بندی روح سے عاری ثابت ہوئی۔ حملوں کی شدت کم ضرور ہوئی، مگر قتل و خون، ناکہ بندی اور انسانی امداد میں رکاوٹیں آج بھی جاری ہیں۔ دنیا میں کوئی ایسی قوت نظر نہیں آئی جو اسرائیل کو معاہدے کی خلاف ورزی پر جواب دہ ٹھہرا سکے۔

دو ہزار پچیس صرف غزہ تک محدود نہیں رہا۔ لبنان، شام، یمن، ایران اور حتیٰ کہ قطر جیسے ممالک بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں آئے۔ لبنان میں روزانہ کی بنیاد پر حملے، ایران میں بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں، یمن میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اور دوحہ پر حملہ اس بات کی واضح علامت ہیں کہ اسرائیل خود کو کسی بھی سرحد، اصول یا عالمی ضابطے کا پابند نہیں سمجھتا۔ اس کی ظالمانہ کارروائیاں اس کھلی جارحیت کا نمونہ ہیں جس کی مثال جدید انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسی سال کے دوران جنوبی ایشیا بھی جنگ کے شعلوں سے محفوظ نہ رہ سکا۔ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ دراصل بھارتی جارحیت، ہٹ دھرمی اور خطے میں بالادستی کے زعم کا نتیجہ تھی۔ پہلگام کے مشکوک واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کیا، سفارتی محاذ پر اشتعال انگیزی کی اور پاکستان کی جانب سے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرادیا۔ عالمی حالات پہلے ہی پاکستان کیلئے سازگار نہ تھے، ایسے میں بھارتی مہم نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ تاہم جب بھارت نے براہ راست جنگ مسلط کی تو پاکستان نے صبر، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو آگاہ کیا۔ بالآخر دس مئی کو بنیان مرصوص آپریشن کے ذریعے پاکستان نے ایسا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا کہ بھارت کا غرور چند گھنٹوں میں خاک میں مل گیا اور پاکستان کے بھرپور جواب سے اس کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ گھٹنوں پر آگیا۔ وہی دنیا جو کل تک بھارت کی ہمنوا تھی، پاکستان کی سرخروئی اور بھارت کی ذلت کا اعلان کر رہی تھی۔

اسی سال یوکرین کی جنگ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہی۔ اگرچہ عالمی سطح پر سفارتی کوششیں ہوئیں، مذاکرات کے دور چلے، مگر کوئی پائیدار حل سامنے نہ آ سکا۔ یہ جنگ عالمی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کی نذر رہی، جس کی قیمت یوکرینی عوام نے جان، گھر اور مستقبل کی صورت میں ادا کی۔ سوڈان کا تنازع بھی 2025 میں بدستور انسانیت کیلئے شرمندگی کا باعث بنا۔ باغی فورسز اور قومی فوج کے درمیان جھڑپوں میں عام شہریوں کا قتل عام ہوا، جس نے ثابت کیا کہ افریقی تنازعات اب بھی عالمی ضمیر کیلئے غیر اہم ہیں۔ سال کے بالکل آخری لمحات میں سعودیہ اور امارات بھی آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے، مگر اللہ تعالیٰ کے کرم سے بات زیادہ نہیں بڑھی اور رسیدہ بود بلائے و لے بخیر گزشت کے مصداق عرب امارات کی سمجھداری اور معاملہ فہمی سے صورتحال جلد قابو میں آگئی اور امارات نے تنازع کو بڑھنے سے روکنے کیلئے یمن سے انخلا کا فیصلہ کرلیا۔

ان تمام واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایکلِڈ کی رپورٹ پوری انسانیت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ رپورٹ دنیا کی بڑی طاقتوں بالخصوص امریکا کے کردار پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اسرائیل کی بے لگام جارحیت بڑی طاقتوں بالخصوص امریکا کی خاموش حمایت، سفارتی تحفظ اور درپردہ اجازت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ جب ایک سپر پاور خود کو عالمی پولیس سمجھنے لگے اور طاقت کے زور پر ہر اصول پامال کرے تو اس کے اتحادیوں کو بھی یہی راستہ اختیار کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ بھارت کی اسرائیلی طرز پر خطے کا تھانیدار بننے کی خواہش اسی سوچ کی پیداوار تھی، جسے پاکستان نے مئی میں سختی سے کچل دیا۔ دوہزار پچیس ہمیں یہ سبق دے کر گیا ہے کہ اگر عالمی نظام میں طاقت کو جواب دہ نہ بنایا گیا، اگر جارحیت اور قبضے کو روکنے کیلئے یکساں اصول لاگو نہ کیے گئے، تو دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو جائے گی جہاں ہر طاقتور ریاست اپنے مفاد کیلئے کمزور ملکوں کو روندنے کا حق خود کو دے گی۔ 2026 کا آغاز اگر واقعی امیدوں کے ساتھ کرنا ہے تو دنیا کو امریکا اور اسرائیل سمیت تمام جارح قوتوں کا ہاتھ روکنا ہوگا۔ بین الاقوامی قانون کو محض کمزوروں پر لاگو کرنے کی بجائے طاقتوروں پر بھی نافذ کرنا ہوگا۔ ورنہ جنگ، خون اور تباہی کا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں اور انسانیت کا مستقبل ایک مسلسل المیے میں بدلتا چلا جائے گا۔