گزشتہ شب سنہ 2025ء رخصت ہوا اور سنہ 2026ء نمودار ہوا۔ رخصت ہونے والے کو کسی نے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رخصت کیا اور کسی نے لاپروائی، کسی نے بے کار اور فالتو سمجھ کر اور کسی نے نفرت کے ساتھ بھی۔ آنے والے کو بھی کسی نے بڑی اہمیت دی، دھوم دھڑکا کیا، غل غپاڑا مچایا۔ جانے والے کو کئی لوگ مختلف اوقات میں مختلف حوالوں سے یاد رکھیں گے اور کئی ایک پلٹ کر شاید ہی کبھی نام لیں۔ ایسے بھی ہوں گے جو کچھ وقت تک رخصت ہونے والے سال کو یاد کریں گے اور پھر بھول بھال جائیں گے اور ایسے بھی جو اس کی ایک ایک بات ایک ایک معاملہ ایک ایک پہلو یاد رکھیں گے اور تذکرہ کرتے رہیں گے۔
روزانہ کتنے لوگ دنیا چھوڑتے ہیں اور کتنے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ کہیں دنیا چھوڑنے والوں کو لوگ آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رخصت کرتے ہیں، کچھ رسمی اور روایتی طور پر افسوس کا اظہار کرتے اور دو بول بولنا کافی سمجھتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی جانے والے پر خوشیاں مناتے ہیں۔ کچھ دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں۔ جانے والے کو کوئی ایک دن یاد رکھتا ہے کوئی کچھ دن اور کوئی زندگی بھر۔ آنے والے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ بچے کی پیدائش پر خوشی منائی جاتی ہے ، خوب مٹھائی تقسیم ہوتی ہے دعوتیں ہوتی ہیں۔ کسی دشمن، رقیب یا حریف کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ بیٹیوں کو ناپسند کرنے والے بیٹی کی پیدائش پر منہ بنائے گھومتے ہیں۔ کچھ بدنصیب بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو طلاق بھی دے دیتے ہیں۔ جن خاندانوں میں لڑکے کے لیے پیسا خرچ کر کے دلہن لائی جاتی ہے وہاں لڑکے کی پیدائش موت کی خبر سے کم نہیں ہوتی، طلاق بھی ہو جاتی ہے۔ وہاں لڑکی کی پیدائش پر خوشی منائی جاتی ہے۔ اس لیے کہ وہاں بیٹی کمائی اور مال آنے کا سبب ہوتی ہے۔
٭٭٭
آج 2026ء کی آؤ بھگت ہورہی ہے۔ ہر طرف مبارک سلامت کا شور ہے۔ جیسا کہ پتا نہیں نئے سال نے ایسا کیا کر دینا ہے جو 2025ء نہیں کر سکا تھا یا خوشی منانے والے ایسے کون سے تیر چلا لیں گے جو گزشتہ سال نہیں چلا سکے تھے ۔ یہی 2026ء ایسی ہی لاپروائی اور بے کار و فضول چیز سمجھ کر ایک روز رخصت کیا جائے گا اور چڑھتے سورج کے پجاری 2027ء کے گن گا رہے ہوں گے۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی میڈیا میں گزرے سال کی کامیابیاں ناکامیابیاں، اہم واقعات حادثات کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ہمیشہ ہی ہر حکومت، ہر شعبے اور ہر محکمے کی طرف سے گزرے سال میں حاصل اہداف کو بڑے فخر سے بیان کیا جاتا ہے اور ناکامی کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے۔ نئے سال کے لیے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ کچھ دعوے حقائق کو ملحوظ رکھے بغیر ہی کر دیے جاتے ہیں۔ ایسے کام بھی لکھے اور بیان کیے جاتے ہیں جو زندگی بھر نہیں کیے جا سکتے لیکن وقت ہے ہی، شور شرابے، غل غپاڑے اور دعوؤں کا ہے، سو جاری ہیں۔
٭٭٭
اپنی سال گرہ منانے والے ہوں یا زمانے اور سال کی۔ سوچنا تو چاہیے کہ ہماری پیدائش اور دنیا میں آنے کا اصل مقصد کیا ہے، اس کو کتنا حاصل کیا کتنی ناکامی ہوئی، آنے والے سال میں کیا ارادے ہیں کیا اہداف ہیں، کتنی برائیاں چھوڑنی ہیں کتنی نیکیاں اختیار کرنی ہیں۔ دنیا کے کاروبار اور اپنے گھر بار کے اہداف کی طرح کامیابی اور ناکامی کی طرح اعمال کی بابت بھی سوچنا تو چاہیے۔ کتنے جنازے خود اٹھاتے ہیں، کتنوں کو گزرتا دیکھتے ہیں، کبھی شہر خموشاں سے گزریں یا تصاویر و ویڈیو میں نظر پڑے یا تذکرہ ہی آجائے تو دل و جاں سے عزیز رشتے دوست تعلق والے کیسے کیسے عظیم لوگ ان کے تذکرے ان کے احوال نظروں کے سامنے اور خیالات میں آتے ہیں ۔ اپنی موت یاد آتی ہے یا نہیں آتی یہ سب دیکھنے سے زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے یا بالکل نہیں پڑتا، یہ بھی غور کرنے اور سوچنے کی بات ہے۔
٭٭٭
نئے سال کے آنے پر خوشیاں منانے والے اور گزرے سال کو بھول جانے والے یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ ایک دن ہم دنیا چھوڑ دیں گے تو ہماری محبت کا دم بھرنے اور ہم پہ مرمٹنے والے ہمیں منوں مٹی کے نیچے دبا آئیں گے۔ کوئی چند گھنٹے یاد رکھے گا، کوئی چند دن، کوئی چند ہفتے مہینے اور سال اور کچھ شاید ہمارے جانے پر خوش بھی ہوں، خصوصاً بیمار ماں باپ اور ان رشتوں کے جانے پر جن کو سنبھالنے، دیکھ بھال کرنے میں مال اور وقت لگتا تھا توانائی اور توجہ خرچ ہوتی تھی۔ کچھ کو حقیقی افسوس اور دکھ بھی ہوتا ہے لیکن کچھ بس دنیا کے سامنے آہیں بھر تے ہیں لیکن دل میں خوش بھی ہوتے ہیں، ہمارے جانے پر کون کون خوش ہوگا کبھی فرصت نکال کر یہ بھی سوچ لینا چاہیے۔ جن کے پاس مال و اسباب نہیں اور وہ کسی پر بوجھ بھی نہیں جن کا رہنا اور مر جانا برابر ہے وہ تو پھر بھی شاید فائدے میں ہوں۔ جن کے پاس ان گنت دولت، سرمایہ پیسا اور جائیداد ہے ان کے جانے کی تو دعائیں بھی کی جاتی ہیں، کہیں کہیں ترکیبیں بھی لڑائی جاتی ہیں۔ کہیں ان کو چلتا کرنے کے اسباب اختیار کیے جاتے ہیں۔ کہیں خود ہی ان کا گلا دبانے کی مہم انجام دی جاتی ہے اور کہیں کرایے پر قاتل بھی ڈھونڈے جاتے ہیں ۔ کہ یہ جائیں تو ہمیں مال و اسباب ملے۔ وراثت میں حصہ تبھی ملے گا جب بڑے میاں گزریں گے اور بڑی بی رخصت ہوں گی۔ ہاں البتہ کہیں دعائیں کرنے، ترکیب لڑانے والے، کوشش کرنے والے پہلے گزر جاتے ہیں اور جس کے لیے کوششیں ہوتی ہیں وہ ٹلنے اور چلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ بس یہی دنیا ہے، خوبصورتی، جوانی، مال و دولت کی یہی حقیقت ہے۔ اسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ جو یاد رکھے اس کی اگلی دنیا سنورنے کے امکانات زیادہ ہیں اور جو بھول جائے اسے بھلا دیا جائے گا۔ لیکن رب کے فرشتے بھولیں گے نہ رب بھولے گا۔

