فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کی منظم صہیونی مہم

غزہ میں بظاہر جنگ بندی کے باوجود حق و باطل کی معرکہ آرائی جاری ہے اور فلسطین کے غیور اور جسور مسلمان پوری امت مسلمہ کی جانب سے قبلہ اول بیت المقدس کے تحفظ کی جنگ لڑرہے ہیں۔ اس جنگ میں ان کی جانب سے بے پناہ قربانیاں پیش کرنے کاسلسلہ رکا نہیں ہے۔ وہاں اس وقت ایک جانب دوسالہ جنگ کے ملبے سے شہداء اقصیٰ کے جسدخاکی برآمد ہونے کاتسلسل قائم ہے تو دوسری جانب ارض فلسطین کے بیٹوں کی جانب سے بیت المقدس اور اپنی مادر وطن پر جانوں کے نذرانے لٹانے کی روایت بھی جاری ہے۔ چنانچہ اطلاعات کے مطابق غزہ میں شہری دفا ع اعلان کیا ہے کہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ایک تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے سے 25 فلسطینیوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جن میں صحافی ہبہ العبادلہ اور ان کی والدہ بھی شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق یہ تمام فلسطینی قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے دوران شہید ہوئے تھے۔ اسی دوران اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر جمعہ کی صبح اور فجر کے اوقات میں فائرنگ کے تین الگ الگ سفاکانہ واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں تین فلسطینی شہری شہید ہوگئے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ دسمبر میں اندرونِ فلسطین قابض علاقوں میں قتل کی 14وارداتیں ریکارڈ کی گئیں، جب کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ نومبر میں ایسے 22 واقعات پیش آئے تھے۔

دوسری جانب قبلہ اول بیت المقدس کو ہتھیانے کے لیے صہیونی غنڈوں کی شر انگیزیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جبکہ فلسطینی مسلمانوں کی جانب سے ان شر انگیزیوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام تر رکاوٹوں اور پابندیوں کو عبور کرکے مسجدا قصیٰ میںپہنچنے کی کوششوں میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ دو روز قبل صہیونی غنڈوں نے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو پامال کرتے ہوئے اسرائیلی پولیس کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا، مسجد کے صحن میں شورشرابا اور رقص کیا اور اپنی مذہبی رسومات ادا کیں، اسرائیلی آباد کاروں کی تعداد 568 کے قریب تھی۔ اس کے جواب میں دسیوں ہزار فلسطینی مسلمان جمعے کی نماز کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچے۔ قابض صہیونی فوج اور پولیس نے بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصیٰ کے اطراف میں سخت ترین پابندیاں عاید کررکھی تھیں۔ اسرائیلی فوج کی پابندیاں توڑ کر ہزاروں فلسطینی قبلہ اول میں نماز جمعہ کے لیے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ صہیونی فوج نے القدس شہرکے اطراف میں قائم فوجی چیک پوسٹس کے ذریعے داخلے کو محدود کیا اور قدیم شہر اور مسجد الاقصیٰ کے دروازوں کے اطراف اضافی لوہے کی رکاوٹیں بھی لگا دی گئیں۔ قابض فوج نے متعدد نوجوانوں کو روک کر ان کی شناختی دستاویزات کی تفصیل سے جانچ کی اور بعض افراد کو مسجد تک پہنچنے سے روک دیا، تاکہ نمازیوں کی تعداد کو کم کیا جا سکے اور فلسطینی موجودگی کو محدود کیا جا سکے مگر فلسطینی مسلمانوں نے بھر پوراجتماع کی صورت میں مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرکے قابض و غاصب صہیونی ریاست پر یہ واضح کردیا کہ وہ کچھ بھی کرلے، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ سے مسلمانوں کی والہانہ وابستگی کو توڑ نہیں سکتا۔

صہیونی غنڈوںکے ظلم و تعدی کا سلسلہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے خلاف سازشوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت فلسطینیوں کو ان کی رہی سہی سرزمین سے بھی بے دخل کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق قابض و سفاک صہیونی حکومت نے جمعہ کی صبح القدس گورنری میں ایک فلسطینی شہری کو جبری طور پر اپنا گھر مسمار کرنے پرمجبور کردیا۔ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے التفاح محلہ میں بھی نام نہاد زرد لکیر کو مزید آگے بڑھا دیا ہے تاکہ اس علاقے میں رہائشی بلاکس کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں کی جاسکیں۔ یہ اقدام سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی اور غزہ کی پٹی میں منظم مسماری کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں شدت آئی ہے۔ قابض فوج نے التفاح محلے کے مشرق میں اس علاقے میں ایک مکمل رہائشی بلاک خالی کرانے کے نئے احکامات جاری کیے ہیں جسے وہ نام نہاد محفوظ علاقہ قرار دیتی ہے۔ اس کا مقصد علاقے کو مسمار کرنا اور نام نہاد زرد کیوبز کی حد کو مزید بڑھانا ہے جو سو میٹر سے زاید اضافی فاصلے اور تین سو میٹر سے زیادہ چوڑائی تک پھیلی ہوگی۔ اس اعلان کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی ہے۔ التفاح محلے کے مشرقی حصے سے سینکڑوں خاندان اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے جس سے شہریوں میں خوف اور شدید بے چینی پھیل گئی۔ رہائشیوں کو اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ ماضی کی طرح اس اقدام کے بعد گھروں کو دھماکوں سے اڑایا جائے گا اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر تباہ کیا جائے گا۔ فلسطینیوں کو ان کی جدی پشتی اراضی سے محروم کرنے کی مجرمانہ کارروائیوں کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلسطینی وزارت زراعت کے مطابق قابض اسرائیل کی فوج اور اس کے آبادکاروں نے صرف ایک ہفتے کے دوران مغربی کنارے میں 8 ہزار سے زاید درخت اکھاڑ دیے اور زمینوں کو روند ڈالا جن میں اکثریت زیتون کے درختوں کی ہے۔ وزارت زراعت کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں زرعی شعبے کو لگ بھگ سات ملین ڈالر کا مالی نقصان پہنچا ہے۔

تیسری جانب صہیونی دہشت گرد ریاست نے جیلوں میں ناجائز طریقے سے محبوس فلسطینیوں پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑنے تیز کردیے ہیں۔ فلسطینی محکمہ امور اسیران نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید نو ہزار تین سو سے زاید فلسطینی اسیران کے خلاف منظم تشدد کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ایسی پالیسیوں اور اقدامات کو غیر معمولی انداز میں راسخ کیا گیا ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف جاری ہمہ گیر نسل کشی اور نوآبادیاتی مٹاؤ کی کارروائیوں کا لازمی حصہ ہیں۔

فلسطینیوں کے خلاف نسلی تطہیر کی یہ منظم مہم آج کی اکیسویں صدی کی خود کو مہذب کہنے والی دنیا کی آنکھوں کے سامنے اور انسانیت کی علمبردار کہلانے والی عالمی قوتوں کی ناک تلے جاری ہے اور افسوس اور تعجب کا مقام یہ ہے کہ کسی کے کان میں جوں نہیں رینگتی۔ اطلاعات کے مطابق امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ بھی اب خود کو صہیونی عزائم کا بوجھ اٹھانے سے عاجز محسوس کرنے لگی ہے لیکن اس میں ہنوزوہ ہمت اور اخلاقی جرأت پیدا نہیں ہوسکی کہ وہ صہیونی دہشت گردی کا لگام دے سکے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا آخر کب تک سرزمین فلسطین پر جاری رقص ابلیس کا تماشا دیکھتی رہے گی اور وہ وقت کب آئے گا جب عالمی ضمیر صہیونی دہشت گرد ریاست کو ہاتھ روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام کرنے پر آمادہ ہو جائے گی۔