پاکستان نے صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، یہ اقدامات صومالیہ اور پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔
اسرائیل جنگ، جارحیت، قتل و غارت، نسلی تطہیر، آتش و آہن کی برسات، ترغیب و ترہیب، سفارت کاری، قانونی موشگافیوں اور طاقت کے ہر ممکن ہتھکنڈے آزمانے کے باوجود عالمی سطح پر بری طرح ناکامی، ہزیمت، شکست اور ذلت سے دوچار ہے اور ہزار جتن کے باوجود دنیا فلسطین کی زمین پر اسرائیلی قبضہ جائز تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ فلسطینی عوام کو جھکانے، ان کی مزاحمت توڑنے اور فلسطین کاز کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنے کی ہر کوشش الٹی پڑ چکی ہے۔ اب جب اسرائیل کو میدانِ جنگ میں کامیابی ملی، نہ سفارتی محاذ پر کچھ حاصل ہوا، تو اس نے فلسطینیوں سے جان چھڑانے کیلئے ایک نیا اور نہایت خطرناک حربہ اختیار کیا ہے اور وہ ہے صومالیہ کے علیحدگی پسند اور متنازع خطے صومالی لینڈ کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنا۔ صومالی لینڈ کوئی تسلیم شدہ ریاست نہیں بلکہ مشرقی افریقہ کے اہم ساحلی اسلامی ملک صومالیہ کا وہ حصہ ہے جسے کاٹ کر ایک نام نہاد ریاست کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ایک گہری سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالم اسلام کو اندر سے کمزور کرنا، مسلم ممالک کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزارنا اور فلسطین کے مسئلے سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ مسلم دنیا کو تقسیم کے منصوبے کے تحت توڑنے کی کوشش کی گئی ہو۔ انڈونیشیا سے مشرقی تیمور کو الگ کیا گیا۔ سوڈان کو تقسیم کر کے جنوبی سوڈان کو وجود میں لایا گیا۔ یمن اور شام خانہ جنگیوں کی لپیٹ میں ہیں۔ لیبیا عملاً تقسیم شدہ ہے۔ اب صومالیہ کو اسی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ صومالی لینڈ کو علیحدہ ریاست تسلیم کرنا اسی مسلسل منصوبے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت مسلم اکثریتی ممالک کو چھوٹے، کمزور اور باہم متصادم حصوں میں بانٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صومالیہ کی وحدت و خود مختاری کو نقصان پہنچانے کے پس پردہ محض داخلی اختلافات نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے اسٹریٹجک، بحری، معاشی اور عسکری مفادات کارفرما ہیں۔ بحرِ احمر اور خلیج عدن کے قریب واقع صومالیہ ایک نہایت حساس جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطے پر کنٹرول کا مطلب عالمی تجارت، سمندری راستوں اور عسکری توازن پر اثرانداز ہونا ہے۔ اسرائیل اس خطے میں اپنے لیے نئی اسٹریٹجک گہرائی پیدا کرنا چاہتا ہے اور صومالی لینڈ اس مقصد کا ذریعہ بنتا نظر آ رہا ہے۔ اہل نظر جانتے ہیں یہ معاملہ صومالیہ تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر اس مثال کو کامیاب ہونے دیا گیا تو اسے بنیاد بنا کر دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں بھی علیحدگی کی تحریکوں کو ہوا دی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور دیگر اہم مسلم ممالک نے صومالیہ کی خودمختاری کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ترکیہ کی تقسیم کا خاکہ طویل عرصے سے عالمی منصوبہ سازوں کے ذہنوں میں موجود ہے، اگر صومالیہ کے بطن سے صومالی لینڈ کو برآمد کرنے پر مہر لگ گئی تو اس سازشی ماڈل کو دیگر مسلم ریاستوں پر لاگو کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ صومالی لینڈ اسرائیل کیلئے ایک اور وجہ سے بھی اہم ہے۔ صدر ٹرمپ کے دور میں ابراہام اکارڈ کے نام پر عرب دنیا کے ساتھ اسرائیل کی نارملائزیشن کی جو مہم شروع کی گئی تھی، وہ فلسطین کو عملاً پسِ پشت ڈالنے کی کوشش تھی۔ خلیجی ممالک کی شمولیت کے بعد حالات اس سمت بڑھ رہے تھے کہ فلسطین ایک بھولی بسری یاد بن جائے، مگر اسی دوران فلسطینی مزاحمت نے طوفان الاقصیٰ کی صورت میں تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ اس کارروائی نے اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کے پورے منصوبے کو زمین بوس کر دیا۔
اب جب غزہ میں صہیونی درندگی کے باعث دنیا کا کوئی بھی قابلِ ذکر ملک اسرائیل کے قریب جانے کو تیار نہیں، صومالی لینڈ اور اسرائیل ایک دوسرے کی مجبوری بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ اسرائیل کا درپردہ منصوبہ فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کر کے صومالی لینڈ میں بسانا ہے۔ فلسطینی عوام اپنی مزاحمت، استقامت اور لازوال قربانیوں سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت اپنی زمین اور وطن چھوڑنے کو تیار نہیں۔ پاکستان نے بھی صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کیخلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ عالم اسلام عملی اتحاد کا مظاہرہ کرے۔ اگر آج صومالیہ کی وحدت کا دفاع نہ کیا گیا تو کل یہ آگ دوسرے مسلم ممالک تک پہنچے گی۔ تقسیم اور انتشار کا یہ کھیل یہیں نہیں رکے گا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، عالم اسلام کو یکجا ہو کر اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا، ورنہ تاریخ گواہ ہوگی کہ خاموشی نے ایک بار پھر تباہی کو دعوت دی۔
بڑھتے ہوئے سماجی مسائل اور علمائے کرام
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے یہ تشویشناک اطلاع سامنے آئی ہے کہ صوبے میں 6برس کے دوران کم عمر بچوں سے زیادتی کے 5ہزار سے زائد واقعات پیش آئے۔ مقدمات میں9 ہزار 524ملزمان میں سے ایک ہزار 73گرفتار نہ ہو سکے اور اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں ایک ہزار 710ملزمان میں سے 258 گرفتار نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں صوبہ پنجاب ہی کے حوالے سے طلاقوں میں ہوشربا اضافے کی اخباری رپورٹ سامنے آئی تھی۔ یہ اعداد و شمار گو پنجاب سے رپورٹ ہوئے ہیں، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باقی ملک میں ایسے واقعات پیش نہیں آتے۔ بلاشبہ پورے ملک میں یہی افسوسناک صورتحال ہے۔ یہ واقعات پاکستان کے مسلم معاشرے کا نہایت منفی چہرہ اجاگر کرنے کا باعث ہیں اور مجموعی طور پر یہ پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہیں اور پوری قوم کی ذمے داری ہے کہ مشترکہ فکرمندی سے سماج کے اس منفی چہرے کو درست کرنے پر توجہ دی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ حالات و واقعات دین سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ اس ضمن میں جہاں حکومت اور سماج کے دیگر طبقات پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، یہ مسائل دینی مصلحین کی بھی توجہ چاہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علمائے کرام اپنے خطبات و بیانات میں ان سماجی مسائل اور جرائم کو بھی زیر بحث لائیں اور مناسب انداز میں اصلاح احوال پر خصوصی توجہ مرکوز رکھیں۔

