پاکستان کی اعلیٰ سفارتی و دفاعی حکمتِ عملی کی ایک جھلک

پاکستان کی ہمہ جہت سفارتی اور دفاعی حکمتِ عملی کے نتائج مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف پاکستان نے لیبیا کے طاقتور فوجی دھڑے کے سربراہ جنرل حفتر سے قریباً چھ ارب ڈالر کی مالیت پر مشتمل ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ کیا ہے تو دوسری جانب پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی اشتراک کی خبریں گرم ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی معاہدے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں جس پر بھارت میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

دفاعی مقاصد اس وقت جغرافیائی سیاست کا اہم حصہ بن چکے ہیں جس بنا پر دنیا کے مختلف ممالک کی پالیسیوں میں عسکری اثر ونفوذ واضح طورپر دیکھا جا سکتا ہے۔ وطنِ عزیز میں سیاسی و عسکری ہم آہنگی کے نتائج عالمی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ اہم ترین پیشرفت پاکستان اور سعودی عرب دفاعی اشتراک ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد عرب ریاستوں میں پاکستان کی سابقہ حیثیت اب تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ علاقائی سطح پر پاکستان عسکری، دفاعی اور سفارتی حوالوں سے اہم ترین ریاست کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ واقعات کے تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کا کوئی ملک اس وقت پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ وہ پس منظر ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان ایک روزہ ہنگامی دورے پر پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس دورے کے مقاصد اقتصادی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم ممکنہ طورپر اس میں بعض اہم دفاعی امور زیرِ بحث آسکتے ہیں جن میں افغانستان سرفہرست ہو سکتا ہے۔ شیخ محمد بن زائد النہان کے دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے سے تجزیہ کاروں کی رائے کی توثیق یا تردید ہوسکے گی تاہم موجودہ حالات و واقعات جن میں بنگلہ دیش سے لے کر لیبیا تک پاکستان نے سفارت کاری اور دفاعی مقاصد کو جوڑ رکھا ہے، ایسے شواہد ہیں جو پاکستان کی کامیابیوں کی علامت سمجھے جا سکتے ہیں۔

پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے اپنے موقف کو دنیا بھر میں تسلیم کروا لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں افغانستان کو علاقائی ممالک کے لیے ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق افغانستان کی سرزمین پاکستان کے شہریوں پر خطرناک حملوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے آج بھی دنیا کے متعدد ممالک اور اس کے عوام قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اب یہ الزام افغانستان پر ثابت ہو رہا ہے جس کا ردعمل کسی نہ کسی صورت میں سامنے آئے گا۔ تاجکستان پر افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں نے پاکستان کے موقف کو مزید تقویت فراہم کی ہے۔ عالمی جریدے بیان کر رہے ہیں کہ دہشت گرد گروہوں کے پاس وہی اسلحہ موجود ہے جو طالبان رجیم کے لیے امریکا چھوڑ کر گیا ہے۔ دہشت گرد گروہوں جیساکہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کی پشت پناہی اور پاکستان دشمنی میں طالبان رجیم اور بھارت مشترک ہیں۔ افغانستان سے پاکستان کیخلاف لڑی جانے والی پراکسی وار میں بھارتی کردار کے ناقابلِ تردید ثبوت پاکستانی خفیہ اداروں کے پاس موجود ہیں۔ پاکستان نے بھرپور عزم، جوانوں کی جانثاری، ان کی پیہم قربانیوں اور عسکری ماہرین کی جدوجہد کے بل پر دو عشروں پر محیط یہ جنگ رب العزت کے فضل و کرم سے کامیابی کے ساتھ لڑی ہے۔ جوانوںکی مسلسل شہادتوں کو صبر وتحمل اور پیشہ ورانہ وقار کے ساتھ قبول کیا لیکن دہشت گردوں کو پاکستانی معاشرے پر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دی۔ سیاسی انارکی اور مذہبی منافرت کے پس پردہ بیرونی مداخلت کو فورسز نے جان توڑ کوششوں کے ذریعے ناکام بنا دیا۔ پاکستان کیخلاف لڑی جانے والی ہائبرڈ وار جو بھارت کی جغرافیائی سیاست کا اہم ہتھیار ہے، افغانستان کی مدد کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی۔ اس دوران پاکستان نے اپنے دفاعی کو ہر شعبے میں مستحکم کیا۔ انتہائی نامساعد حالات میں بھی پاکستان نے اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور آخرکار چین کے دفاعی تعاون سے حاصل صلاحیت کو بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں استعمال کر کے تاریخی فتح حاصل کی۔

اس جنگ میں پاکستان کی کامیابی کے ساتھ ہی بھارت کو مکافاتِ عمل کا قانون کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر بھارتی سیاست اور سفارتی کاری ناکامی سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ بھارت میں داخلی انتشار بڑھ رہا ہے۔ مودی کی انتہا پسند پالیسیاں اس وقت بڑے پیمانے پر تنقید کی زد میں ہیں۔ معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خارجہ پالیسی ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کر رہی ہے۔ عرب ریاستوں ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی آر ایس ایس کی حکومت اعتبار کھوتی جا رہی ہے۔ ان حالات میں پاکستان مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش اگر چین کے تعاون سے ”چکن نک” کہلانے والی سات بھارتی ریاستوں کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ کامیابی نہ صرف افغانستان سے بھارتی پراکسی کا منہ توڑ جواب ہوگا بلکہ اس کے نتائج بھارت کی اقتصادیات پر بھی ایک بم کی مانند مرتب ہوں گے۔ دوسری طرف طالبان رجیم کے متعلق علاقائی ممالک میں بڑھتی ہوئی بداعتمادی، بے یقینی اور تشویش پاکستان کے حق میں سودمند ثابت ہوگی۔ طالبان رجیم کو یا تو دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی، سہولت کاری اور امداد وتعاون کے طرزعمل سے رجوع کرنا ہوگا یا پھر وہ شدید نوعیت کے داخلی خلفشار کا سامنا کریں گے۔

اس تمام منظر نامے میں پاکستان کے کامیاب سفارتی و دفاعی کردار کی جھلک واضح ہے۔ ہر چند کہ پاکستان کو اس وقت بھی ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے۔ افغانستان سے دراندازی کا تسلسل جاری ہے۔ دہشت گردوں کی سیاسی پشت پناہی کی جا رہی ہے اور بعض مذہبی وسیاسی جماعتیں فوج کی مخالفت کو اپنی کامیابی کا عنوان سمجھ رہی ہیں لیکن حالات کا بہتا ہوا دھارا بیان کر رہا ہے کہ بہت جلد یہ صورت حال بھی تبدیل ہو جائے گی۔ پاکستان کی کامیابی داخلی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی و عسکری حلقوں کو قدم بقدم ساتھ چلنا ہوگا۔ اب سفارت کاری، سیاست اور دفاعی مقاصد کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی کامیابی اسی میں ہے کہ سیاسی مفادات اور بلند بانگ نعروں کی بجائے حقائق پر توجہ مرکو ز کی جائے اور حالیہ عرصے میں حاصل ہونے والی فتوحات کو قوت اور استحکام کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے۔ عرب ریاستوں میں پاکستان کے کردار کی تبدیلی اقتصادی اور معاشی حوالوں سے اہم پیش رفت کا درجہ رکھتی ہے۔ ایسے میں چین کے تعاون سے سی پیک کی تکمیل، افغان سرحدوں سے دراندازی کا خاتمہ اور بھارت پراکسی کی شکست کے بعد پاکستان موجودہ مشکلات سے بہت جلد اور آسانی سے نکل جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی و سیاسی جماعتیں، مذہبی حلقے اور اہلِ قلم موجودہ حالات کو گہرائی اور بصیرت کے ساتھ جانچیں، تحقیق کے ساتھ آگے بڑھیں، نعروں کی بجائے مکالمے اور باہمی روابط کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے اور اس امر کا ادراک کیا جائے کہ علم و ہنر، عدل و انصاف اور نظام کی اصلاح ہی اس ملک کی ہمہ گیر کامیابیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔