پاکستان،سعودی عرب اورترکیہ سمیت 21اسلامی،عرب اورافریقی ممالک اوراسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے قابض و ناجائز ریاست اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ (ارض الصومال)کومستقل ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور اس اقدام کو عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی علاقائی سا لمیت کا تحفظ یقینی بنانے کے مسلمہ بین الاقوامی اصول کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ کی طرف سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام دنیا کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
دریں اثنا پاکستان نے ارض الصومال کے قضیے پر جمہوریہ صومالیہ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے صومالیہ کے وزیرِ خارجہ عبدالسلام عبدی علی نے ٹیلیفونک رابطہ کرکے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور صومالیہ کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی اقدام کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر صومالیہ کے جائز موقف کی حمایت جاری رکھے گا۔
صومالی لینڈ خلیجِ عدن اور باب المندب کے قریب واقع ہے، جو دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی راستہ اسرائیل کی بندرگاہ ایلات کو یورپ اور ایشیا سے جوڑتا ہے۔ اس گزرگاہ سے عالمی تجارت اور تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ برطانوی نو آبادیاتی دور میںصومالی لینڈ ماضی میں برطانوی صومالی لینڈ کہلاتا تھا، جبکہ موجودہ صومالیہ کا جنوبی حصہ اطالوی صومالی لینڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 1960ء میں برطانوی صومالی لینڈ نے آزادی حاصل کی اور چند ہی دن بعد اطالوی صومالی لینڈ کے ساتھ مل کر جمہوریہ صومالیہ تشکیل دی گئی۔ مگر صومالیہ کے یہ دو حصے جغرافیائی طور پر آپس میں ضم ہونے کے باوجود حقیقی وحدت میں نہ ڈھل سکے۔ ابتدائی برسوں میں ہی دونوں خطوں کے درمیان سیاسی، انتظامی اور معاشی اختلافات نمایاں ہونے لگے۔ 1969ء میں جنرل محمد سیاد بری کی فوجی حکومت قائم ہوئی جس کے دور میں خاص طور پر شمالی علاقوں (موجودہ صومالی لینڈ) کو نظرانداز اور بعض اوقات جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میںوہاں محرومی کے جذبات پیدا ہوگئے اور1980ء کی دہائی کے اواخر میں صومالیہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا۔ شمالی علاقوں میں حکومت کے خلاف شدید مسلح مزاحمت شروع ہوئی۔ 1991ء میں سیاد بری حکومت کے خاتمے کے بعد صومالی لینڈ نے یکطرفہ طور پر خود کو ایک آزاد ریاست قرار دے دیا۔ یہ علیحدگی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب باقی صومالیہ مکمل انتشار، جنگی سرداروں اور بعد ازاں شدت پسند تنظیموں کی گرفت میں چلا گیا۔ صومالی لینڈ اور صومالیہ کے درمیان بعض سرحدی علاقوں (جیسے سول اور سناگ) پر کنٹرول کا تنازع بھی موجود ہے۔
صومالی لینڈ 1991ء سے خود کو ایک آزاد ریاست قرار دیتا ہے، صومالی لینڈ نے داخلی سطح پر نسبتاً سیاسی استحکام، امن اور محدود جمہوری نظام قائم کیا۔ یہاںمنتخب صدر اور پارلیمان موجود ہیں۔ اپنی کرنسی، پولیس اور انتظامیہ کام کر رہی ہے۔سیکیورٹی کی صورتحال صومالیہ کے دیگر حصوں سے بہتر ہے۔ اسی بنیاد پر صومالی لینڈ کی قیادت عالمی برادری سے تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کرتی ہے تاہم افریقی یونین اور اقوامِ متحدہ عام طور پر نوآبادیاتی دور کی سرحدوں کو برقرار رکھنے کے اصول پر قائم ہیں تاکہ مزید علیحدگی پسند تحریکوں کو فروغ نہ ملے۔ اگر صومالی لینڈ کو تسلیم کیا گیا تو افریقہ میں دیگر علیحدگی پسند تحریکیں بھی متحرک ہو سکتی ہیں۔ عالمی برادری آج تک اسے ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم نہیں کرتی کیونکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق رکن ممالک کی علاقائی سا لمیت کو تحفظ حاصل ہے ۔ صومالیہ کی مرکزی حکومت کا موقف ہے کہ تمام صومالی نسل کے افراد ایک ریاست میں متحد رہیں۔
بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے قریب واقع ہونے کے باعث عالمی طاقتیں کسی نئے ملک کو تسلیم کرنے میں بظاہر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے سوال کو ٹال دیا تاہم بہت سے عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ صومالی لینڈ کے معاملے پر امریکا اسرائیل کی پشت پر ہے۔ غزہ کی حالیہ جنگ کے دوران یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے باب المندب سے بحیرہ احمر کے ذریعے اسرائیل کے لیے امداد اور اسلحہ لے جانے والے جہازوں پر حملوں کے بعد اسرائیل نے حوثیوں کے مقابلے کے لیے باب المندب کے کنارے پر واقع صومالی لینڈ کے تنازع سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں شروع کردیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ صومالی لینڈ کو امریکی صدر ٹرمپ کے نام نہاد ابراہیم اکارڈ میں شامل کرکے وہاں اسرائیلی فوجی اڈے تعمیر کرنے کا پروگرام ہے جسے امریکا کی مکمل آشیر باد حاصل ہے ۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکا اور اسرائیل غزہ کے تین ملین باشندوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرکے صومالی لینڈ میں بسانے کا ارادہ رکھتے ہیں،اس مقصد کے لیے صومالی لینڈ کے حکمران کو بھاری مراعات کا لالچ دیا گیا ہے اور صومالی لینڈ کے پڑوس میں واقع ایتھوپیا کو بھی استعمال کیا جارہا ہے جس کے صومالی لینڈ سے قریبی معاشی و سفارتی تعلقات ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بعض خلیجی ممالک بھی خطے کی بندرگاہوں اور تجارتی منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں، شاید یہی وجہ ہے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے خلاف اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان میں متحدہ عرب امارات سمیت ان خلیجی ریاستوں کا نام شامل نہیں ہے جو پہلے ہی نام نہاد ابراہیم اکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا بظاہر ہدف یمن کی حوثی ملیشیا کو چیلنج کرنا اور باب المندب کے علاقے پر ایران کے اثرورسوخ کو ختم کرنا بتایا جارہا ہے جبکہ درحقیقت یہ بحیرہ احمر سے ہونے والی عالمی تجارت پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور باب المندب پر بیٹھ کر خطے کے ممالک کو بلیک میل کرنے کا نہایت خطرناک منصوبہ لگتا ہے جس کو اگر نہیں روکا گیا تو اس کے بالخصوص اسلامی دنیا پر انتہائی سنگین اثرات و مضمرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس بنا پرہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور عرب و افریقی اسلامی ممالک کو اس معاملے پر محض ایک قرارداد مذمت جاری کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ تمام عالمی فورموں پر اس کے خلاف موثر آواز اٹھانی چاہیے اور ٹھوس سفارتی اقدامات کرنے چاہئیں۔

