امریکی صدر ٹرمپ کی صہیونیت نوازی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ غزہ میں امن منصوبے کے دوسرے مرحلے تک جلد پہنچا جائے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے جلد ہتھیار نہ ڈالے تو اسے ‘بہت سخت نتائج’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فلوریڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ نے انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے عالمی عدالت انصاف کو مطلوب ملزم نیتن یاہو کو ”جنگی ہیرو” قرار دیا اور کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات سے مطمئن ہیں اور اسرائیل نے بقول ان کے امن معاہدے پر سو فی صد عمل کیا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر حماس ہتھیار نہیں ڈالتا تو اگلے اقدامات کیا ہوں گے۔ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ یہ ان کے لیے ‘خوفناک’ ہوگا۔ ‘میں نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ ایسا ہو۔ لیکن انہوں نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ آپ اسرائیل کو اس کا قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے۔’

عالمی مبصرین اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی صہیونیت نوازی اور فلسطین دشمنی کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ مسٹر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اسرائیل نے غزہ امن معاہدے پر 100فی صد عمل کیا ہے، 100فی صد جھوٹ ہے کیونکہ عالمی امدادی اداروں اور میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں کم از کم 414فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوچکے ہیں اور اسرائیلی فوج پوری بے شرمی اور دیدہ دلیری کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کو پامال کرکے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی اراضی پر قبضے اور مکانات ڈھانے کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی مسلسل جاری ہیں۔ حالیہ دنوں عالمی ذرائع ابلاغ میں کچھ اس طرح کی رپورٹیں سامنے آئی تھیں کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی کھلے عام خلاف ورزی اور صدر ٹرمپ کے ”امن فارمولے” کے ساتھ کھلواڑ کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ ناراض ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم کو اس مرتبہ دورۂ امریکا کے موقع پر سخت سوالات اور سرد رویے کا سامنا ہوسکتا ہے مگر فلوریڈا میں ہونے والی ملاقات میں جس طرح ٹرمپ نے نیتن یاہو کی بلائیں لیں اور اسرائیل کو اس کے تمام تر انسانیت کش اقدامات پر کلین چٹ دے دی، اس کے بعد اگر کسی کو ٹرمپ کی صہیونیت نوازی پر کوئی شک تھا، تو وہ بھی دور ہو جانا چاہیے اور پاکستان سمیت ان اسلامی ممالک کو ہوشمندی اور عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہیے جن کو امریکا کا صہیونی اور سرٹیفائیڈبدکردار صدر صہیونی ریاست کے مفادات اور مطالبات کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا شیطانی منصوبہ ظاہر کردیا ہے کہ اگر حماس نے ان کی دھمکی پر ہتھیار نہیں ڈالے تو ”ہمارے پاس کچھ ایسے ملک ہیں جو (غزہ) جا کر ایسا کروا لیں گے۔” اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ غزہ میں امن فورسز کے نام پر اسلامی ممالک کی فوجیں بھیج کر ان کے ذریعے فلسطینی مقاومت کو کچل دیاجانا مقصود ہے جوکہ سراسر ایک غیر منطقی اپروچ کی علامت ہے۔

امریکی صدر کی یہ خام خیالی ہے کہ فلسطینی مقاومتی تنظیمیں پائے دار امن کی کسی ضمانت کے بغیر صرف ان کے کہنے پر ہتھیار ڈال دیں گی۔ حماس سمیت فلسطینی مقاومتی تنظیموں نے ہتھیار رکھنے کے لیے آمادگی اس شرط پر دکھائی تھی کہ فلسطینیوں کو آزادی و خودمختاری کا پیدائشی حق دینے کے لیے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دی جائے گی۔ اسرائیل یہ ضمانت دینا تو کجا،الٹا موجودہ نام نہاد فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام مغربی کنارے کو بھی ہتھیانے کے درپے ہے اور وہ فلسطینیوں کو ان کی جدی پشتی سرزمین سے بے دخل کرنے کے شیطانی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ایسے میں فلسطینی مقاومتی تنظیموں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ یکطرفہ طور پر ہتھیار ڈال دیں گی، خود فریبی ہی ہوگی۔ اسرائیل دو سال تک غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجادینے اور سترہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کرنے کے باوجود اگر فلسطینی مقاومت کو سرنڈر کرانے میں کامیاب نہ ہوسکا تو باہر کے ممالک کے چند ہزار فوجی یہ کام کیسے کرکے دے سکتے ہیں؟ امریکا اور اسرائیل اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں اور حالیہ میڈیارپورٹوں کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیاں رپورٹ دے چکی ہیں کہ بے پناہ جانی نقصانات کا سامان کرنے کے باوجود حماس کی جنگی صلاحیت اپنی جگہ برقرار ہے اور اسے زبردستی ہتھیار پھینکنے پر مجبور کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایسے میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کچھ اسلامی ممالک کو فلسطینی مقاومت کے آگے کھڑا کرنے کا مطلب مشرق وسطی میں مزید خون خرابے اور عالم اسلام میں مزید انتشار پھیلانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بنا بریں ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی ممالک بشمول پاکستان کو ایسے کسی بھی منصوبے کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس کا مقصد فلسطینی مسلمانوں کے آلام میں کمی کی بجائے قابض و ناجائز صہیونی ریاست کو تحفظ دلانا ہو۔

اک دیا اور بجھا…!

پیر طریقت اور تحریک ایمان و تقویٰ کے روح و رواں مولانا سید مختار الدین شاہ مختصر علالت کے بعداتوار کے روز اسلام آباد کے مقامی ہسپتال میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مفتی مختار الدین شاہ اکابرو اسلاف کی اعلیٰ سیرت و کردار کا روشن نمونہ اور عالمِ اسلام کی ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔ آپ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، سنتِ نبوی کے فروغ، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے لیے وقف رہی۔ تقویٰ ،طہارت اور امت کا درد آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے، جن سے خواص و عوام یکساں طور پر مستفید ہوتے رہے۔ کئی کتب کے مصنف اور علمی اور روحانی شخصیت تھے۔ حضرت پیر مختار الدین شاہ کی خانقاہ واقع کربوغہ شریف ضلع ہنگو خیبرپختونخوا میں ہزاروں مریدین مختلف اجتماعات بالخصوص رمضان المبارک کے اعتکاف کے لیے جمع ہوتے اور اپنی روحانی پیاس بجھاتے تھے۔ پیر عبد الرحیم نقشبندی اورپیر ذوالفقار نقشبندی کے بعد مختصر وقفے میں اب پیر مختار الدین شاہ جیسی عظیم روحانی شخصیت کی جدائی سلوک و طریقت کی دنیا کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے جس پر اہل نظر بڑی محرومی کے احساسات سے دوچار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجات بلند کرے اور ان کے فیوض و برکات کا سلسلہ جاری رکھے۔