دوسری و آخری قسط:
ہمارے مہیا کیے گئے سائنسی و قانونی حوالہ جات و حقائق آج تک کی تاریخ کے مطابق تازہ ہیں یعنی دسمبر 2025ء تک۔ بعض کرپٹو کرنسی کے مجوزین عام عوام کو مغالطے میں ڈالنے کے لیے محض زبانی یہ کہہ دیتے ہیں کہ اب نئی تحقیق ہوئی ہے اور چیزیں بڑی رفتار سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ گزارش یہ ہے کہ یو ایس ڈی ٹی (ٹیتھر) کی ماہیت و حقیقت میں کوئی بھی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے اور اگر کوئی اس کے برخلاف دعویٰ کرتا ہے تو وہ قانونی اور سائنسی حوالہ جات اور حقائق کی روشنی میں ثابت کرے، محض زبانی کلامی دعویٰ سے حقائق مسخ نہیں کیے جا سکتے!یہ تمام قانونی و سائنسی حوالہ جات کسی کی بھی تسلی کے لیے کافی ہیں لیکن پھر بھی اگر کوئی یہ اشکال کرتا ہے کہ یو ایس ڈی ٹی کے ہر یونٹ کے پیچھے امریکی ڈالر بطور اثاثہ موجود ہے تو اس کو قانونی و سائنسی مستند حوالہ جات پیش کرنے چاہییں، محض زبانی دعویٰ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصہ یہ ہوا کہ: ٭امریکی ریاست نیویارک میں یو ایس ڈی ٹی کی خرید وفروخت پر مکمل پابندی ہے۔ ٭امریکی ریاست نیویارک کے اٹارنی جرنل آفس کے تحقیقات کے مطابق یو ایس ڈی ٹی کے ہر یونٹ کے پیچھے امریکی ڈالر بطور اثاثہ موجود نہیں ہے اور اس کمپنی نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور اس غلط بیانی کی وجہ سے ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی پر تقریباً اٹھارہ ملین امریکی ڈالر کا جرمانہ کیا تھا اور کمپنی نے وہ ادا بھی کردیا۔ ٭یو ایس ڈی ٹی (ٹیتھر) کرپٹو کرنسی کی اصل بنیاد بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کی بلاک چین ہے۔ ٭یو ایس ڈی ٹی (ٹیتھر) کو بٹ کوائن بلاک چین پر جاری کیا گیا، ”اومنی لئیر” کے تحت یہ بٹ کوائن بلاک چین پر موجود ہے۔ ٭یو ایس ڈی ٹی (ٹیتھر) ایک ٹرانزیکشنل لیجر ہے جس میں مبیع کے بغیر محض ٹرانزیکشن کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔ ٭یہ دعویٰ محض دھوکہ دہی پر مبنی ہے کہ ہر ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی کے پیچھے ایک حقیقی کرنسی امریکی ڈالر کا یونٹ ہے۔ ٭اسٹیبل کوائن ٹیتھر یوایس ڈی ٹی کو بنیادی طور پر کرپٹو کرنسی کی خرید وفروخت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ٭اسٹیبل کوائن ٹیتھر یوایس ڈی ٹی وغیرہ دراصل کھاتے میں فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔ ٭اس میں حقیقی سونا چاندی یا دیگر اثاثوں کی حقیقی یا معنوی قبضہ اور منتقلی بھی نہیں ہوتی۔ ٭سافٹ وئیر کی طرح اس کا کوئی ڈیجیٹل وجود نہیں ہے اور اس سے کوئی ذاتی انتفاع بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ٭اس میں کئی جگہ غررِ کثیر کا عمل بھی شامل ہے۔ ٭ٹیتھر ڈی سینٹرلائزڈ کرپٹو کرنسی بھی نہیں ہے اور یہ خود اپنے وائٹ پیپر میں اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔
٭نہایت قابلِ غور بات یہ ہے کہ یو ایس ڈی ٹی (ٹیتھر) کمپنی ان گم نام ملکوں سے آپریٹ کرتی ہے جو کہ منی لانڈرنگ کے لیے مشہور ہیں مثلاً برٹش ورجن آئی لینڈ اور ایل سلواڈور۔ یعنی امریکا تو اپنے صارفین کو یو ایس ڈی ٹی میں خریدوفروخت سے بچائے اور ریاستِ نیویارک میں اس پر مکمل پابندی ہو اور اس کی غلط بیانی پر جرمانہ کیا گیا ہو جبکہ دنیا کی عام عوام یو ایس ڈی ٹی کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر اپنا سرمایہ گم نام لوگوں کے حوالے کر دے؟
ایک اہم بات جس کی جانب قارئین کی توجہ دلانا چاہوں گا وہ یہ کہ جتنی بھی کرپٹو کرنسی موجود ہیں (سترہ ہزار سے زائد) اور جس قسم کی بھی ہیں اور جس عنوان کے تحت بھی ہیں، ان کے پیچھے کوئی اثاثہ جات نہیں ہوتے۔ تمام کرپٹو کرنسیاں دراصل فرضی نمبروں کا کھاتے میں اندراج ہوتی ہیں، اُن میں صرف ٹرانزیکشن کا تبادلہ اور خرید وفروخت ہوتی ہے اور اس میں کوئی مبیع نہیں ہوتا۔ نیز، یہ سارا سلسلہ دراصل کرپٹو کرنسی کے نظام ہی کو مزید تقویت دینے کیلئے بنایا گیا ہے اور اصل مقصد بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کے کاروبار کو مزید ترویج دینا ہے۔ دراصل بٹ کوائن یا کسی دوسری کرپٹو کرنسی مثلاً ایتھریم کے کمپیوٹر کوڈ کو لے لیا جاتا ہے، اس کا نام تبدیل کر دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ نئی کرپٹو کرنسی ہے اور اس کے پیچھے تو اثاثہ ہے۔ کرپٹو کرنسی کے حامی حضرات کرپٹو کرنسی کی جدید شکلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ کبھی یہ این ایف ٹی کی شکل میں آتے ہیں، کبھی ڈی سینٹرلائڑڈ فنائنس کی شکل میں۔ غرض مقصد کسی طریقے سے کرپٹو کرنسی ہی کو رواج دینا ہے اور کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ ہی کی ترویج و اشاعت ہے۔ اہلِ علم اس کی طرف توجہ فرمائیں۔
یہ بات ہماری اپنی ذہنی اختراع نہیں بلکہ عالمی معاشی ماہرین اور سائنسدان بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ کہتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ کرپٹو کرنسی اور خاص طور پر ایسی کرپٹو کرنسیاں جن کے پیچھے اثاثوں رکھے گئے ہیں، میں تضادات کی بھرمار ہے۔ فابیو پانیتامعروف بین الاقوامی ماہر معیشت ہیں، یورپین سینٹرل بینک کے ایگزیکٹو بورڈ ممبر ہیں، انہوں نے 22ویں بی آئی ایس سالانہ کانفرنس 2023ء میں اپنی تقریر میں کہا کہ کرپٹو نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے نئی داستانیں تشکیل دے رہا ہے! ”وسیع تر معنوں میں کرپٹو کرنسی کی ان جدید شکلوں کو کرپٹو کرنسی کے نظام کی ری برانڈنگ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ کرپٹو سے جڑی ان جدید شکلوں کا مقصد کرپٹو اثاثوں پر مبنی معیشت کو سہارا دینا ہے۔ یہ کرپٹو اثاثوں پر مبنی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کے لیے ایندھن کا کام کرتا ہے”۔ انہی فابیو پانیتا کے مطابق کرپٹو اثاثوں کا غبارہ تو پھٹ چکا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کرپٹو کا اختتام ہو جائے گا۔ لوگ جُوا کھیلنے کے شوقین ہیں اور کھیلتے رہیں گے اور کرپٹو میں سرمایہ کاری اُن لوگوں کو جُوا کھیلنے کا موقع فراہم کرتا رہے گا۔” کیون ڈیوس، جو یونیورسٹی آف میلبورن، آسٹریلیا میں فنانس کے پروفیسر ہیں، سمجھتے ہیں کہ کرپٹو جُوا ہے، جس کا کوئی سماجی فائدہ نہیں ہے، اور یہاں تک کہ کرپٹو کرنسی کے لیے ”سرمایہ کاری” یا ”کرپٹو اثاثے” کی اصطلاحات استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ کرپٹو آئٹم کی واحد ممکنہ قیمت یہ ہے کہ کوئی دوسرا جُواری انہیں زیادہ قیمت پر خریدنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے”۔ اسی طریقے سے برطانیہ کی ٹریڑری کمیٹی ”ہاؤس آف کامنز” یعنی ایوانِ زیریں نے ”ریگولیٹنگ کرپٹو” کے عنوان سے جو برطانوی حکومت کو اپنی سفارشات پیش کیں تھیں ان میں واضح طور پر کرپٹو کو جوے کے طور پر ریگولیٹ کرنے کی پُرزور تجویز دی تھی ۔
کرپٹو کرنسی سے متعلق جید مفتیانِ کرام اور مستند دارالافتاء کا بہت ہی واضح موقف ہے کہ وہ شرعی طور پر مال نہیں اور اس کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے مگر کچھ حضرات اب ”اسلامک کرپٹو کرنسی” کے عنوان سے بھی کرپٹو کرنسی کی ترویج و اشاعت پر کمربستہ ہوگئے ہیں۔ حضرات مفتیانِ کرام کے مطابق ان حضرات کا کرپٹو کرنسی میں صرف ”اسلامک” یا ”حلال” سابِقَہ لگانے سے کرپٹو کرنسی شرعی طور پر جائز نہ ہو جائے گی اور محض کرپٹو کرنسی کے نام کی تبدیلی سے حکم تبدیل نہ ہو جائے گا جب تک کرپٹو کرنسی میں موجود بنیادی خامیوں (شرعی محظور) کو مکمل طور پر ختم نہ کیا جائے۔ راقم نے اس پر ایک تفصیلی مضمون لکھا ہے جو کہ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے ترجمان ماہنامہ الحق میں ”اسلامک کرپٹو کرنسی” کے عنوان سے اپریل 2024ء میں شائع ہو چکا ہے، اس کو دیکھ لیا جائے، اس میں تفصیل دلائل بیان کر دیے گئے ہیں۔

