ایک سال کے دوران،بھارتی ریاستی دہشت گردی میں 101 کشمیری شہید،3ہزار گرفتار

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فورسز نے گزشتہ برس 2025ء میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 3 کم عمر لڑکوں سمیت 101بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا ۔ ان میں سے 50 افرادکو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست بہیمانہ تشدد کے ذریعے شہید کیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد وشمار میں کہا گیا کہ ان شہادتوں کے نتیجے میں 8 خواتین بیوہ اور 24 بچے یتیم ہو گئے۔بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران دو خواتین کو بے حرمتی کا نشانہ بنایاجبکہ 12 رہائشی مکان تباہ کیے۔ مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے 67 افراد زخمی ہوئے۔گزشتہ برس کم از کم 51کشمیری ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا،گزشتہ برس بھارتی فورسز کے 25 اہلکاروں نے خود کشی کی۔

بھارتی فورسز نے تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران حریت رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلبائ، وکلا سمیت 3ہزار4سو 92افراد کو گرفتار کیا جن میںکئی خواتین بھی شامل ہیں۔گرفتار کیے جانے والوں میں مشتاق الاسلام، ڈاکٹر حمید فیاض، فردوس احمد شاہ، محمد امین راتھر، بایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم، ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگا، ایڈووکیٹ محمد اشرف بٹ اور ایڈووکیٹ مظفر قیوم شامل ہیں۔گرفتار کیے جانے والوں میں سے اکثر کیخلاف کالے قوانین ” پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور یو اے پی اے” کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی سمیت 5ہزار سے زائد کشمیری نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ اور دیگر بھارتی جیلوں کے علاوہ مقبوضہ علاقے کی جیلوں میں کالے قوانین کے تحت قید ہیں۔مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کے دینی حقوق سلب کیے جانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور قابض حکام نے سرینگر میں نماز جمعہ ،عید الفطر، عید الاضحی کی نمازوں کی اجازت نہیں دی۔

مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے کشمیریوں کے مکانات، زمینوں اور دیکر املاک کی ضبطی کا سلسلہ بھی تیز کر دیا ہے جس کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر مفلوک الحال بنا ناہے ۔ اب تک زرعی اراضی، مکانات، دکانوں اور دفاتر سمیت 183 سے زائد جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔کشمیری سرکاری ملازمین کو ایک منصوبے بند سازش کے تحت ملامتوں سے معطل اور برطرف کیا جا رہا ہے جس کامقصد انکی جگہ غیر کشمیری ہندو ملازمین کو تعینات کر کے ہندو توا ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔