ایک دو دن بعد پوری اسلامی دنیا کے مسلمان رمضان المبارک کو الوداع کہتے ہوئے عیدالفطر کی خوشیاں منانے والے ہیں جو دینِ اسلام کے دو بڑے تہواروں میں سے ایک ہے۔ عید الفطر کی یہ سالانہ خوشی رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام پر آتی ہے، جو برکتوں، رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ جس میں مسلمان اپنی روح کو ایمان اور تقویٰ سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کے متلاشی ہوتے ہیں اور گناہوں سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔
روزہ انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہے، کیونکہ حقیقی روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ہر اس چیز سے اجتناب سکھاتا ہے جو انسان کے لیے دینی، اخلاقی اور روحانی طور پر مضر ہوتی ہے۔ عید کے اس موقع پر تمام مسلمان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر اور امتنان کا اظہار کرتے ہیں، کہ انہیں رمضان المبارک کے روزے رکھنے کا موقع ملا، جس پر اللہ نے انہیں عید الفطر کی صورت میں ایک بابرکت خوشی عطا فرمائی۔ عید کا ایک پہلو ضرورت مندوں اور مستحقین کا خیال رکھنا بھی ہے، جہاں صدقات، خیرات اور زکوٰة کے ذریعے ان کی مدد کی جاتی ہے، جس کی ایک شکل صدقہ فطر بھی ہے، تاکہ ثواب اور اجر کمایا جا سکے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
اس عید کا نام عید الفطر اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ رمضان کے مکمل ہونے کے بعد مسلمانوں کے لیے پہلا دن ہوتا ہے جب وہ روزہ نہیں رکھتے۔اس دن روزہ حرام ہے۔ یہ اسلامی تقویم کے مطابق شوال کے پہلے دن آتی ہے جس کی خوشیاں عام طور پر تین دن تک جاری رہتی ہیں۔ تاہم شرعی حکم صرف پہلے دن پر لاگو ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عید کے دوسرے اور تیسرے دن روزہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بچے بھی اس عید کا بڑی بے صبری اور جوش و خروش کے ساتھ انتظار کرتے ہیں اور بڑے بھی اس دن کو ایک خوبصورت موقع سمجھتے ہیں، جس میں وہ رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے، صلہ رحمی کرنے، اور ان عزیزوں کی خبر لینے کا شوق رکھتے ہیں جن سے زندگی کی مصروفیات کے باعث طویل عرصے سے ملاقات نہ ہو سکی ہو۔
عید کا یہ تہوار سماجی اور خاندانی یکجہتی کو مزید مستحکم کرتا ہے، کیونکہ اس دوران لوگ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، محبت اور خیر سگالی کے جذبات بانٹتے ہیں اور دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائی کے سبب اپنے کام کی جگہ پر ہی عید مناتے ہیں، جو ان کی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کی ایک طرح سے عکاسی کرتا ہے۔ عید مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام اور رحمت کا مظہر ہے، کیونکہ اللہ نے انہیں عبادات کے بعد خوشی اور راحت کے دن عطا کیے ہیں۔ اسی لیے مسلمان اس موقع کے لیے پہلے سے تیاری کرتے ہیں، نئے کپڑے خریدتے ہیں اور دیگر ضروریات کا انتظام کرتے ہیں۔اس خوبصورت تہوار کی اہمیت کو کئی احادیث میں اجاگر کیا گیا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، جہاں لوگ دو دن کھیل اور تفریح مناتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ دو دن کیا ہیں؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”ہم جاہلیت میں ان دنوں کو جشن کے طور پر منایا کرتے تھے۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے دو بہتر دن عطا کیے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔“
عیدیں سماجی رشتوں کو ازسرِ نو مضبوط کرتی ہیں اور اجتماعیت کا احساس بڑھاتی ہیں، کیونکہ یہ لوگوں کو ساتھ خوش ہونے، ان کے ساتھ غم میں شریک ہونے اور ایک مشترکہ جذباتی لمحہ بانٹنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہ انسانی نفسیات کی گہرائیوں کو چھو کر فرد کے اندرونی توازن کو بحال کرتی ہیں۔ یہ وہ نایاب لمحہ ہے جس میں بچھڑی ہوئی رشتے داریوں کو جوڑا جا سکتا ہے، ان لوگوں سے دوبارہ رابطہ کیا جا سکتا ہے جو مصروفیات کی وجہ سے دور ہو گئے تھے۔ یہ وقت ہے، بغیر کسی جھجک کے شکریہ، معاف کیجیے اور آپ کی یاد آئی کہنے کا۔ کیونکہ یہ موقع صرف مالی استطاعت کے مطابق خوش ہونے کا نہیں ہے، بلکہ جذباتی تعلقات کو اہمیت دینے کا بھی ہے۔ سو اس خوشی کو مکمل کرنے کے لیے، اسے ان لوگوں تک بھی پہنچانا ضروری ہے جو شاید وسائل کی کمی یا زندگی کی سختیوں کے باعث عید کی خوشی پوری طرح محسوس نہیں کر سکتے۔
عید کی سب سے بڑی سنت دوسروں کے دلوں میں خوشی اور محبت پیدا کرنا ہے، چاہے وہ قریبی عزیز ہوں یا عام مسلمان۔ یہ خوشی ہر ایک کو اپنی استطاعت کے مطابق بچوں سے لے کر بڑوں تک سب کے دلوں میں پہنچانی چاہیے، تاکہ ہماری یہ عید بامعنی، باشعور اور متوازن بن جائے۔عید پوری امت مسلمہ کے لیے ایک مشترکہ خوشی ہے، جسے دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے انداز میں مناتے ہیں۔ ماضی میں، لوگ عید کارڈز اور خطوط کے ذریعے مبارکبادیں بھیجتے تھے، مگر آج سوشل میڈیا نے یہ فاصلہ مٹا دیا ہے اور اب ڈیجیٹل پیغامات اور خوبصورت تحریریں اس روایت کا حصہ بن چکی ہیں۔ عید کا سب سے اہم پہلو خاندانوں کا آپس میں جڑنا اور قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کرنا ہے۔
عید کی صبح مساجد سے گونجنے والی تکبیرات ہر مسلمان کے دل میں سکون اور دین اسلام کی عظمت کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہوتا ہے جو پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک روحانی وحدت میں جوڑ دیتا ہے، اور انہیں یاد دلاتا ہے کہ عید صرف ایک تہوار نہیں بلکہ اللہ کی رحمت اور برکت کا ایک خاص دن ہے اور ہاں! یہ کبھی نہ بھولیے گا کہ جو رمضان کا رب ہے، وہی باقی گیارہ مہینوں کا بھی رب ہے، سو اس عورت کی طرح نہ بن جانا جس نے اپنے سوت کو مضبوطی سے کاتنے کے بعد اسے ادھیڑ کرتار تار کردیا تھا، القرآن۔
رمضان کا مقصد تقوی کا حصول تھا جس کو عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یوں بیان فرمایا: تقوی یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے، اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ اس کو یاد رکھا جائے، اسے بھلایا نہ جائے اور اس کی شکرگزاری کی جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے۔ حاکم، نسائی وغیرہ۔ رمضان اور غیر رمضان میں نفلی عبادات اور دیگر خیر کے کاموں میں کمی بیشی کا فرق ضرور ہوتا ہے لیکن اوامر پر عمل اور منہیات سے اجتناب رمضان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر حال میں ضروری ہے۔ رمضان میں بنی اچھی عادت کو جان بوجھ کر ختم کر دینے کو کسی طرح بھی دانشمندی نہیں کہا جا سکتا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھ سمیت تمام مسلمانوں کے اعمالِ صالحہ کو قبول فرمائیں، عید کی یہ بہار بار بار میرے اور آپ کے گھر کے آنگن میں خوشیاں لاتی رہے، سعادتیں نصیب ہوں، کامیابی آپ کے قدم چومے اور عید آپ کومبارک ہو۔
