امریکا ایران جنگ بندی کے نئے امکانات

عالمی ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں تعطل کا لازمی نتیجہ جنگ نہیں ہے بلکہ معاملات کے حل اور تنازع کے تصفیے کے لیے امریکی قیادت مناسب وقت کا انتظار کر سکتی ہے۔ امریکی صدر کے بیان کے مطابق انھوں نے کویت جانے والی امریکی فوج کو واپسی کا حکم دیا ہے اور جب کہ ان کی حزب اللہ کے ساتھ بات چیت بھی ہوگئی ہے جس کے بعد لبنان میں جاری جھڑپوں کا تسلسل ختم ہو جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت بھی ہوئی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ یہ بات چیت خوشگوار موڈ میں نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پرزور طریقے سے لبنان اور دیگر علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے باز رہنے کا کہا۔

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئیں جب امریکا اور ایران کے درمیان متعدد مقامات پر ہلکی پھلکی جھڑپوں کی خبریں گرد ش کر رہی تھیں۔ ان خبروں کے فوری نتائج تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے تاہم اب جبکہ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع اور معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کی وضاحت کی گئی ہے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ تیل کی قیمتیں معمول کی جانب لوٹنے لگیں گی۔ امریکی صدر نے توقع ظاہر کی ہے کہ آنے والے ایک ہفتے میں معاہدہ عمل پا جائے گا۔ ٹرمپ نے ”بات چیت اور پیغامات میں تعطل کے عمل” کو ”جنگ کا آغاز” قرار نہ دے کر معقول رویے کا مظاہرہ کیا ہے جو عرصے بعد ان کی طرف سے سامنے آیا ہے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکا اور ایران کے درمیان جاری آنکھ مچولی کے کھیل سے عالمی معیشت کو پہنچنے والا زبردست نقصان بہت پہلے روکا جا سکتا تھا لیکن دونوں اطرا ف یعنی امریکا اور ایران کی جانب سے انتہا پسندانہ رویوں نے معاملات کو بگاڑا۔ امریکی صدر کی متلون مزاجی، دھمکی آمیز لب و لہجے اور رعونت سے پُرالفاظ جہاں مسائل کا سبب بنتے رہے ہیں وہاں خود ایرانی قیادت میں سیاسی و عسکری دھڑوں کے درمیان اختلافِ رائے کی وجہ سے بھی معاملات حل ہونے میں بے جا تاخیر ہوئی ہے۔

اس تنازع میں اب تک دو باتیں واضح دکھائی دیتی ہیں۔ اول یہ کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکے گا کیوں کہ اس صورت میں اسرائیل کے مفادات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جو پہلے ہی ترکیہ کی بڑھتی ہوئی قوت اور سعودی عرب میں ایٹمی پاکستان کی موجودگی کی بنا پر ”گریٹر اسرائیل” کے خواب کو خاک میں ملتا دیکھ رہا ہے ۔ دوم یہ کہ خود ایران بھی اس وقت اپنی وہ قوت کھو چکا ہے جس کے بل پر وہ عرب ممالک کا ناطقہ بند کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دیتا تھا، اس وقت داخلی مسائل، معاشی مشکلات اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی وجہ سے ایران کے پاس چند محدود راستے ہی باقی بچے ہیں جن میں سے کسی ایک کا اسے جلد انتخاب کرنا ہے کیوں کہ بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اس کے لیے شدید بحران کا باعث بن سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دونوں صورتیں تقریباً متعین ہو چکی ہیں کیوں کہ موجودہ حالات میں جبکہ امریکا عسکری کارروائی کی بجائے معاشی بندشوں کو زیادہ مؤثر اور سود مند دیکھ چکا ہے، ایک گرم جنگ کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں اور اس کی بجائے سرد جنگ جس میں معاشی و اقتصادی ناکہ بندی، گھیراؤ اور وسائل کی تباہی شامل ہے، نئے کھیل کے داؤ پیچ کی صورت میں واضح ہو چکے ہیں، البتہ انسانیت کا سفاک مجرم نیتن یاہو اس جنگ کو بھڑکانے میں دل چسپی رکھتا ہے کیوں کہ جنگ بھڑکنے کی صورت میں وہ اس پورے خطے کو امریکی شہ کی بنا پر شر و فساد کے گڑھ میں تبدیل کر کے اپنا راستہ ہموار کر سکتا ہے ۔ اسرائیل، بھارت گٹھ جوڑ اور افغانستان کو استعمال کر کے پاکستان کو داخلی انارکی میں مبتلا کرنے کی کوششیں بھی اسی کھیل کا حصہ ہیں ۔ پاکستان کی قیادت اس کھیل کو اچھی طرح سمجھ رہی ہے لہٰذا وہ نہایت صبر و تحمل اور تدبر کے ساتھ اس وقت خطے میں جنگ بھڑکانے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہے۔

پاکستان اور اس کے تزویراتی اتحادی چین کا مفاد بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ جنگ کی آگ ٹھنڈی پڑ جائے اور ا س کی بجائے اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو سکے۔ چین کی جانب سے پاکستان میں سی پیک دوم کی منظوری بھی اس حکمتِ عملی کے مطابق ہے کہ پاکستان گوادر پورٹ کو ایک نئے اقتصادی حب ہی نہیں بلکہ فعال گزرگاہ کے آغاز کے طورپر استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کیلئے امن و سلامتی کا ماحول لازم ہے جسے تباہ کرنے کیلئے ہی فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے کارندے سرگرم ہیں۔ اگر پاکستان ان فسادی گروہوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو گوادر پورٹ، اقتصادی راہ داری، ایران سے گیس پائپ لائن اور سی پیک دوم کے تحت پاکستان میں صنعت و حرفت اور توانائی کے مراکز قائم ہونے میں زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔ انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان روزِ اول سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، مذاکرات اور معاہدے کیلئے کوشاں ہے۔ اگر ایرانی قیادت علاقائی بالادستی کے زعم سے باہر نکل کر امن کی خاطر پاکستانی تجاویز کے مطابق مذاکرات کو کامیاب کروا سکے تو یہ پور ے خطے کے لیے ایک زبردست موقع ہوگا جس کے فوائد آنے والے طویل عرصے تک حاصل رہیں گے۔

اس وقت پاکستان شدید معاشی مسائل سے دوچار ہے، ایک طرف وہ عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مصالحت کے لیے کوشاں ہے تو دوسری جانب داخلی کمزوریوں کی وجہ سے اسے عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط مان کر اپنے ہی عوا م کی ہڈیوں کا گودا نچوڑنے کی مجبوری درپیش ہے۔ اس صورتحال میں جوہری تبدیلی اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے کہ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہو جائے، پاکستان داخلی امن کو قائم کرتے ہوئے صنعتی، اقتصادی، زرعی اور تجارتی بنیادوں پر آگے بڑھ سکے اور گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے منصوبے بروقت کام کرنے لگیں، یوں امریکا اور ایران ہی نہیں بلکہ پاکستان بھی حالتِ جنگ میں ہے اور یہ ایک ہمہ گیر جنگ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مصالحت اور جنگ بندی کے لیے پیدا ہونے والے امکانات مزید کتنا روشن ہوتے ہیں اور امن معاہدہ کب تک پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے؟ اس کے بعد ہی پاکستان کی معاشی صورتحال کچھ بہتر ہو سکے گی۔