پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو ناکام بنانے کی کوششیں

وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے چین میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، ایران معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے امن مذاکرات میںکلیدی کردار ادا کرنے پر افواج پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور توقع ظاہر کی کہ امن کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان بہت جلد پیش رفت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق چینی حکام نے امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور فیلڈ مارشل کو ”مین آف پیس” قرار دیا۔ امریکا اور ایران کے مابین امن معاہدے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی لیکن عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق فریقین کے درمیان ساٹھ روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، بارودی سرنگوں کے خاتمے اور ایران کے منجمد اثاثوں کے ایک معقول حصے کی ادائیگی پر اتفاق ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امن کی جانب پیش رفت ہوئی ہے تاہم حتمی ڈیل کے لیے دونو ں جانب سے کچھ نکات پر اتفاقِ رائے کا مرحلہ باقی ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران پرامن جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے جبکہ ”ایٹم بم” بنانے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ایران جا کر حکام کے ساتھ مشاورت میں شرکت ایک غیر معمولی سفارت کاری کا مظاہرہ ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ اس میں دورائے نہیں ہو سکتیں کہ فیلڈ مارشل نے ایک ایسی یقینی جنگ کو رکوانے میں کلیدی اور تاریخی کردا ر ادا کیا ہے جو نہ صرف ایران کے لیے تباہ کن ہوتی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے امن کو شدید متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی بے پناہ مسائل کا سبب بن سکتی تھی۔ اس وقت دنیا میں پاکستان کی غیر معمولی سفارت کاری کے چرچے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خطرات نے دنیا کی معیشت کو داؤ پر لگا دیا تھا لیکن جوں جوں امن کی توقعات بڑھ رہی ہیں، معاشی بحران میں کمی کے آثار بھی نمودار ہو رہے ہیں۔ ایران اور امریکا دونوں ہی ممالک میں پاکستان کے کردار کی تحسین کی گئی ہے۔ امریکا، ایران متوقع امن معاہدے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ملک میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو گویا ایک عالمی جنگ رکوانے والے ہیرو کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی جریدوں میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ پہلے سے بہت بہتر ہو چکی ہے اور اگر ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہد ہ ہو جاتا ہے تو اس کا بنیادی کریڈٹ پاکستان ہی کو دیا جائے گا۔

یہاں یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ پاکستان نے دو متحارب ریاستوں کے درمیان امن کے لیے پُل کا کردار کسی کمزوری یا نیاز مندانہ رویے کے طورپر انجام نہیں دیا۔ موجودہ عالمی سیاست میں ایک کمزور ملک خواہ وہ معاشی لحاظ سے مستحکم ہی کیوں نہ ہو، کوئی قرار واقعی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دفاعی لحاظ سے مضبوط اور مستحکم نہ ہو۔ پاکستان نے بفضلہ تعالیٰ گزشتہ مئی میں معرکۂ حق کے دوران بھارت کو خاک چَٹا کر جنگوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا جس کے بعد ہی سے پاکستان کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا اور اب جبکہ خطہ جنگ کے شدید خطرات کی لپیٹ میں تھا، پاکستان نے اپنی اسی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے امن کے لیے کردار ادا کیا ہے اور بفضلہ تعالیٰ اس میں بھی خاصی حد تک کامیابی سمیٹی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کامیابی کو ایک ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ سیاسی اور عسکری قیادت مشترکہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ایسا ہی نظم وضبط اور دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ سوچ قومی سطح پر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جغرافیائی سیاست اور طاقت کے توازن کے کھیل میں پاکستان کی موجودہ حیثیت ظاہر ہے کہ اس کے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ کوئٹہ بم دھماکے جیسے واقعا ت اسی تکلیف کا اظہار ہیں جوکہ دشمنوں کو پاکستان کی مضبوط ہوتی ساکھ سے لاحق ہے۔ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ خطے میں طاقت، بالادستی، توسیع پسندانہ عزائم اور انتہاپسندی کا کھیل جاری ہے۔ بھارتی قیادت جوکہ اپنے ملک میں مسلمانوں کی زندگی دوبھر کر چکی ہے، ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کو کیوں کر برداشت کر سکتی ہے؟ بھارت اپنے طورپر پاکستان کو ایک ایسی حالت تک پہنچا چکا تھا جس کے بعد خدانخواستہ ریاست کی تحلیل اور تخریب کے آخری مراحل کا آغاز ہونا تھا لیکن یکایک معرکۂ حق میںکامیابی نے کھیل کا پانسہ پاکستان کے حق میں پلٹ دیا۔ پاکستان نے دفاع کے بعد سفارت کاری میں بھی اپنا لوہا منوا لیا۔ آج ملک میں ہونے والی بدترین دہشت گردی انہی کامیابیوں کا ردعمل ہے۔ افغانستان کی مکمل پشت پناہی کی وجہ سے فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے شرپسند اور تخریبی عناصر بیرونی قوتوں کے ایجنٹ بن کر پاکستان کو داخلی طورپر کمزور کرنے کے لیے کمربستہ ہو چکے ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے کہ وہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنا چاہتے ہیں جوکہ اپنے ہی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی۔ دوسری جانب شدید معاشی بحران سے دوچار پاکستان کو صنعت و تجارت اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ اور اقتصادی راہ داریوں کی تکمیل اور کراچی شہر کی اقتصادی حیثیت کی ازسرِ نو بحالی پاکستان کی بقا کے لیے لازمی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ چنانچہ یہ بات دو اور دو چار کی طرح ظاہر ہو چکی ہے کہ فتنۂ خوارج، فتنۂ ہندوستان اور ان کے بہی خواہوں، سہولت کاروں اور مددگاروں کے ساتھ ساتھ ان کے پشت پناہوں کو سبق سکھانا اور ملک میں پھیلے ہوئے شر وفسا د کو رفع کرنا ریاست کے اولین فرائض میں شامل ہے جس کے بغیر ریاست آگے نہیں چل سکتی۔ پاکستان اگر سیاسی و عسکری رہنماؤں کے اتحاد و اتفاق کی بدولت آج کامیابی حاصل کر رہا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے ملک میں امن بحال کیا جائے اور شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

کوئٹہ بم دھماکے جیسے واقعات ملک پر مسلط کردہ جنگ کا حصہ ہیں۔ اس قسم کے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کی سیکورٹی کے داخلی مراکز تک کسی نہ کسی صورت رسائی موجود ہے اسی وجہ سے انھیں کمزور پہلوؤں کی نشان دہی ہو جاتی ہے اور وہ بیرونی پشت پناہی کی بدولت پاکستان پر وار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بیرونی ایجنڈے کے تکمیل کے لیے اپنی ہی ملک کو انارکی، تشدد اور تخریب کاری کا نشانہ بنانا ناقابل معافی اور ناقابلِ برداشت جرم ہے جس کی کوئی ریاست نہ تو اجازت دے سکتی ہے اور نہ ہی ایسے مجرموں کے لیے رعایت روا رکھی جاتی ہے۔ وزیر اعظم کو دورۂ چین کے موقع پر یہ امر بھی واضح کر دینا چاہیے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کی سہولت کاری کا کھیل اب ختم ہو جانا چاہیے۔ یہ اس خطے کے امن کے لیے لازم ہے۔