اقوام متحدہ نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو بلیک لسٹ میں شامل کر لیا۔ اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد کے واقعات سامنے آنے پر کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی تشددکے متعدد واقعات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ گزشتہ برس 2025 میں ایسے 13 واقعات جبکہ 2023 اور 2024 کے دوران 18 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ آزادانہ تحقیقات، عینی شاہدین کے بیانات، طبی شواہد اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
انسانی تاریخ اس سوال سے بھری پڑی ہے کہ کیا انسان واقعی اشرف المخلوقات ہے یا اپنی ہی بنائی ہوئی اسلحی طاقت، مفادات اور خوف کے ہاتھوں مجبور ایک متضاد وجود۔ ماضی کی تہذیبوں سے لے کر جدید ریاستی نظام تک، انسان کے ہاتھوں انسان پر ہونے والے ظلم کی داستانیں تاریخ کے اوراق میں بکھری ہوئی ہیں۔ کبھی سلطنتوں کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر اور کبھی سیکورٹی و بقا کے عنوان سے لیکن بنیادی حقیقت یہی ہے کہ طاقت جب اخلاقی حدود سے آزاد ہو جائے تو وہ وحشت کا عنوان بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر حالیہ بین الاقوامی رپورٹوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کو دیکھا جائے، تو ایک بار پھر عالمی ضمیر کے سامنے سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ اسرائیلی فورسز کیخلاف فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدترین بدسلوکی اور جنسی تشدد کیسنگین الزامات کوئی نئی بات نہیں، جاننے والے جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں جن الزامات کی بات کی گئی ہے، انسانیت سے عاری صہیونی فورسز کیلئے یہ ایک معمولی معاملہ ہے۔ تاہم اس رپورٹ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے ادارے نے جاری کی ہے، جسے دنیا میں کوئی بھی دوسرا ادارہ اور ملک رد نہیں کرسکتا۔ یوں بھی اقوام متحدہ اسرائیل اور اس کی سرپرست عالمی طاقتوں کے مفادات کے مقابلے میں ایک محدود دائرے سے آگے جانے کی ہمت ہی نہیں کرسکتا، اس کے باوجود اگر اس نے اسرائیلی فورسز کے متعلق یہ اقدام کرلیا ہے، تو اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ الزامات اسرائیل کے سفاکانہ کردار کا محض دس فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ قابض گروہ کی جابر فورسز کیخلاف اقوام متحدہ کی اس گواہی کے باوجود عملاً دنیا میں امن، تہذیب، جمہوریت اور انسانی حقوق کے صف اول کے دعویدار ممالک سفاک اور درندہ اسرائیل کی حمایت میں ہی صف اول میں نظر آتے ہیں۔ یہ ہے مغرب کا وہ منافقانہ چہرہ، جس کے باعث آج پوری دنیا کا امن و قرار معرض خطر میں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان جب خود کو مکمل طاقتور سمجھ لیتا ہے تو وہ اخلاقی حدیں عبور کرنے لگتا ہے۔ قدیم سلطنتوں میں مفتوح اقوام کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا تھا، وہ آج کے جدید انسان کیلئے بھی حیران کن ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا جدید دور نے واقعی انسان کو مہذب بنا دیا ہے یا صرف اس کی تباہی کے طریقے زیادہ منظم، سائنسی اور مؤثر ہو گئے ہیں؟ آج تلواروں کی جگہ میزائلوں نے لے لی ہے اور قلعوں کی جگہ محصور شہروں نے، لیکن انسانی المیہ پہلے سے کہیں بدتر شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔ مشرق وسطیٰ بالخصوص فلسطین کا مسئلہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا سب سے پیچیدہ اور حساس باب بنا ہوا ہے۔ غزہ کی صورتحال اس پیچیدگی کا سب سے المناک مظہر ہے، جہاں بار بار کی صہیونی جارحیت، محاصروں اور عسکری کارروائیوں نے انسانی زندگی کو داو پر لگا دیا ہے۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع، بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی اور لاکھوں افراد کی دربدری ایک ایسے انسانی بحران کی نشاندہی کرتی ہے جو محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی بھی ہے۔
اس تمام صورتحال میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے جنگی قوانین، انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری پر زور دیتے رہے ہیں، مگر عملاً چونکہ اقوام متحدہ کے پاس اپنے احکامات اور سفارشات پر عمل کروانے کی کوئی اتھارٹی نہیں ہے، اس لیے جابر طاقتیں اور اسرائیل جیسے بدمعاش گروہ انہیں پرِ کاہ جتنی بھی اہمیت نہیں دیتے، یوں ان کے پلان کے مطابق ہی انسانی وجود کی مارکاٹ جاری رہتی ہے، جیسا کہ آج دنیا کا ہر انسان جسے انٹرنیٹ تک رسائی ہو، خواہ وہ دنیا کے جس کونے میں بھی ہو، لائیو صہیونی قابض گروہ کے ہاتھوں بے کس و بے بس فلسطینیوں کو گاجر مولی کی طرح کٹتے دیکھ سکتا ہے، کیا عالمی ادارے اور طاقتور ممالک یہ سب نہیں دیکھتے ہوں گے؟ ایک عام انسان سوائے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں پر نفریں بھیجنے کے سوا کیا کرسکتا ہے؟ اس کے بس میں یہی ہے، چنانچہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آج ہر باضمیر انسان کیلئے اسرائیل اور اس کے سرپرست نفریں اور پھٹکار کا نشان ہیں، تاہم طاقتور ممالک اس لیے خاموش ہیں کہ وہ خود شریک جرم ہیں اور انسانیت کی مارکاٹ میں اسرائیل کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
یہ آج کی دنیا کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر ریاست اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست اکثر اصولوں کی بجائے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ طاقتور ریاستیں نہ صرف عسکری برتری رکھتی ہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی فیصلہ کن اثر و رسوخ رکھتی ہیں، جس کے باعث کمزور اقوام انصاف کے حصول کیلئے عالمی فورمز کی طرف دیکھتی رہتی ہیں، مگر نتائج صفر بٹاصفر ہی سامنے آرہے ہیں۔ جب انصاف کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے تو انتقام، نفرت اور عدم استحکام جنم لیتے ہیں۔ یہی وہ خطرناک دائرہ ہے جس میں آج دنیا کے کئی خطے پھنسے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات اور رپورٹس سے آگے بڑھ کر ایک مؤثر اور غیر جانبدار نظام انصاف کو فروغ دے۔ انسانی حقوق کا تصور صرف ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے آفاقی اصول کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس پر بلا تفریق کارروائی ہونی چاہیے، ورنہ عالمی نظام پر اعتماد مزید کمزور ہوتا جائے گا اور اس کے بعد دنیا میں صرف جنگل راج ہی رہ جائے گا۔

