طاقت کے مراکز اور وسائل پر اجارہ داری کا عالمی کھیل

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے یومِ تکبیر کے موقع پر قوم کے نام جاری کردہ اپنے پیغامات میں قومی دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ریاست اور ملک کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی ہے۔ صدر مملکت کے بیان میں کہا گیاہے کہ پاکستان کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا لیکن ملک پر حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیاجائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کا دفاع آہنی ہاتھوں میں ہے اور آپریشن غضب للحق تمام فتنوں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ مختلف ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں چین سے جدید جنگی ٹیکنالوجی میں تسلسل کے ساتھ اضافہ اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان جدید جنگی طیاروں، آبدوزوں اور ڈرون ٹیکنالوجی میں اضافے کے ساتھ ساتھ جدید ترین ریڈار سسٹم، میزائلوں کی درجہ بندی میں تیزی سے ترقی اور جدید بحری وسائل حاصل کررہا ہے۔ چین کے علاوہ پاکستان نے ترکیہ سے بھی جدید جنگی ہتھیار حاصل کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ترکیہ کو اس وقت اسرائیل کی جانب سے جارحیت کے خطرات لاحق ہیں۔ قبرص کے جزیرے کے علاوہ متعدد جزیروں پر یونان کے ساتھ تنازع کی کیفیت بڑھ گئی ہے جس کی آڑ میں کسی بھی وقت اسرائیل کے ساتھ ترکیہ کا تصادم ہوسکتا ہے، لہٰذا ترکیہ اپنی جنگی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرتا جارہاہے جس کا فائدہ پاکستا ن بھی اٹھار ہا ہے ۔ اسرائیل اس وقت خطے میں جنگ، فساد، فتنہ اور انارکی پھیلانے کی کوشش میں ہے اور اسرائیل کا دہشت گرد وزیراعظم سیاسی بقا اور اقتدار پر گرفت کی خاطر کسی بھی حد سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے امن کی کوششیں یقینی طور پر اسرائیل کے ناپاک عزائم کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہورہی ہیں جس کے جواب میں پاکستان کو انارکی اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

عالمی سطح پر پیش آنے والے واقعات کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عسکری قو ت رکھنے والے تمام قابلِ ذکر ممالک طاقت کے مراکز اور وسائل پر تسلط کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ امریکا، ایران کے درمیان امن مذاکرات او ر معاہدے کی کوششیں ہوں یا امریکا کی جانب سے عرب ممالک پر ابراہام معاہدے میں شمولیت کا دباؤ ہو، نیز بھارت کی جانب سے افغانستا ن کی مدد سے پاکستان میں دراندازی، پراکسی وار اور دہشت گردی کا کھیل ہو یا روس کی طرف سے افغان طالبان کو اسلحہ کی فراہمی کا معاہدہ ہو، مختلف عالمی واقعات کے پس پردہ ایک ہی جیسے اہداف اور مقاصد کارفرما ہیں۔ یعنی ہر ملک طاقت اور وسائل پر زیادہ سے زیادہ دسترس پانا چاہتا ہے، چاہے اس کدو کاوش میں دنیا کا امن تباہ و برباد ہوجائے یا انسانوں کے مسائل، مشکلات اور مصائب میں کتنا ہی اضافہ کیوں نہ ہوجائے۔ عالمی حالات و واقعات اس جانب اشارہ بھی کررہے ہیں کہ دنیا میں ایک نئے نظام یا جدید اتحادوں کا عمل بروئے کار آرہا ہے۔

اس نئے نظام یا نئے اتحادوں کی تشکیل میں جغرافیائی طورپر تجارتی اور اقتصادی اہمیت رکھنے والے خطوں، آبی گزرگاہوں، زمینی راستوں اور تجارتی نقل و حمل کے لیے موزوں علاقوں کی ضرورت بہت بڑھ گئی ہے۔ جغرافیائی سیاست کے مطابق جو ملک یا خطہ تجارتی گزرگاہوں، بہترین آبی اور زمینی راستوں اور توانائی کے مراکز پر قدرت رکھنا ہوگا، مستقبل میں طاقت اور وسائل پر اسی کی گرفت زیادہ ہوگی اور وہ اپنے لیے زیادہ مفادات سمیٹ سکے گا۔ یہی وہ نظریہ ہے جو اس وقت دنیا میں آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور غزہ پر اسرائیل کے تسلط کے لیے معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی جیسے الم ناک واقعات کا ایک سبب بنا ہوا ہے۔

غور کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ آبنائے ہرمز ہو یا غزہ میں معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی قومی تحقیر و اہانت اور تذلیل کا بدترین تسلسل، ان سب کی پشت پر صہیونی لابی اور امریکی حکومت کارفرما ہیں۔ افغانستان کے راستے پاکستان پر مسلط جنگ میں بھی اسرائیل اور بھارت اتحادی ہیں اور اب روس بھی افغان طالبان کو بھاری اسلحہ فراہم کررہاہے جو کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے شدید خطرات ہیں۔ ان حالات میں جبکہ زمینی وسائل، تجارتی گزرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر قبضے کے لیے عالمی طاقتوں نے عالمی قوانین، سفارتی آداب، روایتی اخلاقیات اور خودساختہ اصولوں کو بھی پس پشت ڈال کر دھونس، دھمکی، دباؤ اور ماردھاڑ کی قدیم قزاقانہ رو ش اختیار کرلی ہے تو مسلم ریاستوں پر اپنے تحفظ، بقا اور مسلم عقیدے، تہذیب و شناخت اور اپنی نسل کی حفاظت کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے واضح ہے کہ ہندوتُوا اپنی بدترین شکل میں ظاہر ہوچکا ہے اور اس کا پہلا نشانہ حتمی طور پر پاکستان ہے۔ دوسری طرف گریٹر اسرائیل کے جراثیم نیتن یاہو کو بے چین کیے ہوئے ہیں اور بہرصورت اپنی سیاسی بقا ایسے شر و فساد میں دیکھ رہا ہے جس کے بعد مسلم ممالک کا امن و سکون مکمل طور پر ختم ہوجائے اور اسرائیل کے ناپاک عزایم کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ ان حالات میں پاکستان اور ترکیہ کی عسکری قوت اسباب و سائل کے ضمن میں مسلم امہ کے لیے ایک غیرمعمولی نعمت کا درجہ رکھتے ہیں۔ آج امریکا اور اسرائیل کو اگر ایران کو تخت و تاراج کرکے عربوں کے جغرافیائی حدود کو تہہ و بالا کرنے کی کھل کر ہمت نہیں ہورہی تو اس کا بنیادی سبب عالم اسلام کے یہی محافظ ہیں جن شجاعت، جنگی مہارت اور دلاوری کی گواہی خود دشمن دے رہاہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ماضی کی مانند آج بھی علم و دانش اور معاصر معلومات سے محروم سادہ لوح مسلم نوجوان دشمنوں کے ہاتھو ں میں کھیل کر عالم ِ اسلام کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں لیکن انھیں اپنی غلطیوں پر غور کرنے کی ضرور ت تک محسوس نہیں ہورہی۔

عالمی سطح پر جاری طاقت اور وسائل پر تسلط کے کھیل میں پاکستان کا جغرافیہ اور ترکیہ کا تاریخی تسلسل اور موجودہ حیثیت غیرمعمولی اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ فتنہ و فساد کو بہرصورت ختم کرنے کی کوشش کرے۔ افغانستان کو ملنے والا اسلحہ پاکستان کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے لہذا توقع کی جاسکتی ہے کہ پاک افواج اس کی نوبت آنے سے پہلے ہی اس کا قصہ تمام کردیں گی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان نہ ہی ابراہام معاہدے میں شرکت کرے گا اور نہ ہی اسرائیل کو تسلیم کیا جائے گا۔ شدید معاشی بحران سے دوچار ہونے کے باوجود قیاد ت کا عزم ایک اچھی امید ہے۔ پاکستان کو اس وقت داخلی نظم و نسق کو بہتر بنانے، عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور باہمی اتحاد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن اندر سے وار نہ کرسکے۔ اس ضمن میں فتنہ ٔ خوارج اور فتنہ ٔ ہندوستان کا خاتمہ بھی ضروری ہے تاکہ طاقت کے عالمی کھیل میں یہ بیرونی مہرے پاکستان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔