طالبان حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں!

دہشت گردی، منشیات اسمگلنگ اورجابرانہ پالیسیوں نے طالبان رجیم پرعالمی برادری کا اعتماد مکمل ختم کردیا ہے۔اہم عالمی شخصیات نے بھی افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی تسلیم کرلی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کوانٹرویومیں افغانستان کیلئے برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے کہاکہ افغان سرزمین کودہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں دوسرے ممالک کیخلاف استعمال ہونے سے روکناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین پردہشت گردتنظیمیں سرگرم ہیں جوخطے کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ رچرڈ لنڈسے نے طالبان رجیم کے ساتھ سفارتی تعلقات کوعالمی برادری کی جانب سے انہیں جائزحکومت تسلیم کرنے سے مشروط کردیا۔

انیس سو نوے کی دہائی اور موجودہ دنیا کے سیاسی، سفارتی اور تزویراتی حالات میں زمین آسمان کا فرق آچکا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی دنیا اور آج کے ڈیجیٹل، باہم مربوط اور عالمی مفادات سے جڑی دنیا کے تقاضے یکسر مختلف ہوچکے ہیں۔ اب کوئی بھی ریاست محض بندوق، نظریاتی سخت گیری یا داخلی جبر کے ذریعے نہ تو اپنی حکومت مستحکم رکھ سکتی ہے اور نہ ہی عالمی برادری سے الگ تھلگ رہ کر طویل عرصے تک چل سکتی ہے۔ موجودہ دور میں ریاستوں کی بقا، معیشت، سفارت کاری، بین الاقوامی تعلقات، انسانی حقوق، انسداد دہشت گردی اور علاقائی تعاون ایک دوسرے سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ کسی بھی حکومت کے لئے عالمی نظام سے ٹکر لے کر آگے بڑھنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ بدقسمتی سے افغانستان میں قائم طالبان حکومت آج بھی انہی پالیسیوں کے تحت معاملات چلانے کی کوشش کر رہی ہے جو نوے کی دہائی میں طالبان حکومت کا خاصہ تھیں، بلکہ بعض حوالوں سے موجودہ طالبان حکومت پہلے دور سے بھی زیادہ سخت گیر، غیر لچکدار اور عالمی تقاضوں سے ناآشنا دکھائی دیتی ہے۔ طالبان کی پہلی حکومت پر بھی عالمی برادری کو شدید تحفظات تھے۔ خواتین کے حقوق، تعلیم، اقلیتوں کے تحفظ اور شدت پسند تنظیموں کی موجودی جیسے مسائل پر دنیا مسلسل اعتراضات اٹھاتی رہی، مگر اس وقت کی طالبان قیادت نے کبھی ان خدشات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ انہوں نے عالمی تنہائی پر بھی کوئی خاص پریشانی ظاہر نہیں کی اور صرف پاکستان، سعودیہ اور امارات کی جانب سے تسلیم کیے جانے پر اکتفا کیا۔ دنیا کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات اور بین الاقوامی اعتماد ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھے۔

اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ نائن الیون کے بعد افغانستان عالمی طاقتوں کے نشانے پر آگیا۔ غیرملکی جنگجوؤں کی افغانستان میں موجودی نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مداخلت کا جواز فراہم کردیا۔ چند ہی دنوں میں عالمی اتحاد تشکیل پایا اور طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد تقریبا دو دہائیوں تک افغانستان جنگ، خونریزی اور عدم استحکام کا شکار رہا۔ بیرونی افواج کے خلاف طویل مزاحمت کے بعد بالآخر دوحہ معاہدہ وجود میں آیا، جس کے نتیجے میں 2021 میں طالبان ایک مرتبہ پھر اقتدار میں آگئے۔طالبان کی واپسی کے بعد خطے اور دنیا میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اس بار افغانستان میں ایک نسبتاً معتدل، حقیقت پسند اور سفارتی تقاضوں کو سمجھنے والی حکومت قائم ہوگی۔ یہ تاثر بھی دیا گیا کہ طالبان اب بدل چکے ہیں، انہیں عالمی سیاست، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کی اہمیت کا ادراک ہوچکا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ امیدیں دم توڑتی گئیں۔ طالبان حکومت نے نہ صرف اپنی پرانی روش برقرار رکھی بلکہ کئی معاملات میں مزید سخت گیر پالیسیوں کو اپنایا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔سب سے زیادہ تشویشناک پہلو دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں موجودی اور سرگرمیوں کا ہے۔ دوحہ معاہدے میں طالبان نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگر زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی سمیت کئی شدت پسند گروہوں نے افغانستان میں دوبارہ اپنے نیٹ ورک منظم کرلیے ہیں، جو مسلسل پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب ہیں۔

یہ صورتحال صرف پاکستان کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کیلئے خطرناک بنتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ باتیں جو پہلے صرف پاکستان کرتا تھا، آج عالمی طاقتیں بھی کھل کر کہنے لگی ہیں۔ افغانستان کیلئے برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے کا حالیہ بیان اسی بدلتے عالمی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں دوسرے ممالک کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، دراصل طالبان حکومت پر بڑھتے ہوئے عالمی عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اس سے قبل روسی حکام بھی افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ آماجگاہ قرار دے چکے ہیں، جبکہ چین نے بھی سلامتی کے خدشات کے باعث اپنی سرمایہ کاری محدود کردی ہے۔طالبان حکومت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اب بھی دنیا کو نوے کی دہائی کی عینک سے دیکھ رہی ہے، حالانکہ آج کا عالمی نظام اس طرز عمل کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ دنیا اب ایسی کسی حکومت پر اعتماد نہیں کر سکتی جو اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد عناصر کو روکنے میں ناکام ہو یا ان کی موجودگی سے چشم پوشی کرے۔

طالبان حکومت کے سامنے اس وقت دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرے، شدت پسند گروہوں کیخلاف واضح کارروائی کرے اور دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرے یا پھر مسلسل تنہائی، معاشی تباہی اور سفارتی ناکامی کا سامنا کرے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ طالبان کی موجودہ پالیسیوں کا سب سے بڑا نقصان افغانستان کے عام عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی غربت، بھوک، بے روزگاری اور بدامنی کا شکار ہیں۔ افغانستان مزید کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ طالبان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ موجودہ دنیا میں بند دروازوں، نظریاتی شدت پسندی اور عالمی تقاضوں سے لاتعلقی کے ساتھ حکومت چلانا ممکن نہیں رہا۔ اگر طالبان نے اپنی روش نہ بدلی تو نہ صرف ان کی حکومت مزید تنہائی کا شکار ہوگی بلکہ افغانستان ایک مرتبہ پھر بڑے بین الاقوامی بحران کی طرف دھکیلا جاسکتا ہے، جس کی قیمت ایک بار پھر افغان عوام کو ہی ادا کرنا پڑے گی اور ایک بار پھر دربدری، احتیاج اور قتل و خون افغان سرزمین کا مقدر بنے گا، جو کوئی بھی نہیں چاہتا۔