پاک، چین دوستی کے 75 برس اور وزیراعظم کا دورۂ چین

اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اپنے چینی ہم منصب لی چیانگ کی دعوت پر 23 مئی سے تین روزہ دورے پر چین روانہ ہورہے ہیں۔ یادرہے کہ پاک ،چین دوستی کے 75 برس اکیس مئی کو مکمل ہوئے ہیں لہٰذا اس مناسبت سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود تعلقات میں مزید پیش رفت عین قرینِ قیاس ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق وزیراعظم میاں شہباز شریف اس دورے میں چین کے صدر شی جن پنگ اور دیگر اہم حکام اور تجارتی کمپنیوں کے سربراہان سے بھی ملاقات کریں گے اور اُمید ظاہر کی جارہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پانچ ارب ڈالر کے تجارتی منصوبوں کے معاہدے عمل میں لائے جائیں گے۔ باہمی تعلقات میں اضافے اور تجارتی معاہدوں پر دستخط کے علاوہ مبصرین کے نزدیک اس دورے کی ایک تزویراتی اہمیت بھی ہے۔دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی غیرمعمولی پیش رفت کا امکان بھی موجود ہے ۔

دراصل یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان مصالحت کا عمل متوقع ہے۔ پاکستان کے تعاون سے بات چیت کا عمل جاری ہے اور فریقین مستقل جنگ بندی اور ایک امن معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ گزشتہ دو روز سے ایران ہی میں مقیم ہیں اور معاہدے کی مختلف تجاویز وہاں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تبادلِ خیال جاری ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق پاکستان کے ایک اہم فرد جو کہ ممکنہ طورپر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ہوسکتے ہیں، معاہدے کی حتمی تجاویز کو آخری شکل دینے کے لیے ایران جاسکتے ہیں،ان حالات میں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی چین میں موجودگی کا ایک معنیٰ یہ بھی لیا جاسکتاہے کہ پاکستان اس تمام مذاکراتی عمل پر چین کی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہتا ہے اور گویا کہ پاکستانی قیادت ایران، امریکا معاہدے کے حوالے سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچ چکی ہے۔وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ اور ویلادی میر پیوٹن کے دورہ ٔ چین کے فورا ً بعد وہاں پہنچ رہے ہیں ۔امریکا اور روس کے حکمرانوں کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم کاچینی ہم منصب کی دعوت پر وہاں آنا ایک اہم سفارتی علامت ہے۔گویایہ دورہ چین کے نزدیک پاکستان کی اہمیت اور دونوں ملکوں کے درمیان قائم غیرمعمولی تعلقات کا اظہار بھی ہے ۔

دراصل پاکستان اور چین کے درمیان گزشتہ پچھتر برسو ں کے روابط محض دوملکوں کے درمیان روایتی تعلقات کی مانند نہیںرہے۔ اب دونوں ملک طاقت کے توازن اور جغرافیائی سیاست میں مشترکہ مفادات کے اعتبارسے بھی ایک دوسر ے کے ساتھ منسلک ہوچکے ہیں۔ تاریخی تسلسل کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان اور چین بتدریج ایک دوسر ے کی ضرورت بنتے گئے ہیں۔ 1963ء میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی معاہدے سے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی جبکہ ستر کی دہائی میں پاکستان کی کوششوں سے چین کی عالمی تنہائی کا خاتمہ ہوا جس کے بعد چین میں ترقی اور تعمیر اور تجارت کے دروازے کھل گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان شاہراہ ِ قراقرم کی تعمیر سے تجارتی تعلقات کو فروغ ملا جس کا تسلسل آج بیلٹ اینڈ روڈ انشیٹیو اور سی پیک جیسا اقتصادی منصوبہ ہے جبکہ جے ایف تھنڈر طیارے کی مشترکہ تیاری نے دونوں دوست ممالک کو دفاعی خودانحصاری کے عمل میں شریک کردیا جو ترقی کرتا ہوا آج دنیا کے جدید ترین جنگی طیاروں، خطرناک میزائلوں اور آبدوزوں کی فراہمی تک پہنچ چکاہے۔

چین کے ساتھ جغرافیائی بنیادوں پر اقتصادی تعاون میں شراکت داری کا عمل 2015ء میں شروع ہوا تھا جس کے نتائج آج گوادر پورٹ کی فعالیت اور توانائی کے مختلف منصوبوں کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ سی پیک کو خطے میں تبدیلی کے اہم ترین محرک کی صورت میں دیکھا گیا اور اس عظیم اقتصادی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے مختلف النوع سازشیں بھی سامنے آئیں جن میں سرِفہرست ملک میں ہونے والی دہشت گردی ہے جس میں افغانستان دراصل بھارت او راسرائیل کی پراکسی کے طورپر استعمال ہورہا ہے۔ دہشت گردی اور بھارت کی مسلسل سازشوں اور خودہماری داخلی کمزوریوں کی وجہ سے سی پیک جیسا منصوبہ غیرضروری تعطل او ر طوالت کا شکار ہوا تاہم اب پاکستان کی کوشش ہے کہ چین کی شراکت داری کے ساتھ ملک میں مختلف صنعتیں قائم کی جائیں تاکہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہوسکے۔ اقتصادی تعاون اور شراکت سے ایک درجہ آگے پاکستان اور چین ہر موسم کے تزویراتی اتحاد میں جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان اگر چین کے لیے مشرقِ وسطیٰ اور بحرِہند کا دروازہ ہے تو چین پاکستان کے لیے ایک دفاعی ڈھال کے طور پر کام آرہا ہے جس کا مظاہرہ معرکہ ٔ حق میں دنیا دیکھ ہی چکی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے، ورنہ بھارت نے امریکا کے ساتھ دفاعی شراکت کی آڑ میں جو جارحانہ عزائم اختیار کررکھے تھے وہ چین کی اقتصادی ناکہ بندی کا ذریعہ بن سکتے تھے۔ مشترکہ تزویراتی مفادات کی وجہ سے دونوں ملک جہاں اقتصادی شراکت داری رکھتے ہیں وہاں مختلف قومی، علاقائی اور عالمی مسائل اور تنازعات میں بھی دونوں مشترکہ موقف اختیار کرتے ہیں۔ اسی تاریخی تسلسل اور تزویراتی شراکت داری کی بنا پر ایران اور امریکا کے درمیان مصالحت اور معاہدے کی کوششوں میں پاکستان کی طرف سے چین کو اعتماد میں لینا اور اس عالمی مسئلے پر مشترکہ موقف اختیار کرنا عین قرینِ قیاس ہے اور یہ پاکستان کی ضرورت بھی ہے کہ ویٹوپاور رکھنے والا چین پیچیدہ عالمی سیاسی اُمور میں اس کا ہم خیال ہو۔

غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اِس وقت علاقائی سیاسی و اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان اور چین کا ایک ہی موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ بھارتی قیادت پاکستان میںعدم ِ استحکام برپا کرنے کی مسلسل کوشش میں ہے جبکہ افغانستان پوری طرح اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی ضرورت ہے کہ ایران ایک مرتبہ پھر بھارت کے کیمپ میں جاکر کھڑا نہ ہوجائے یا وہاں رجیم کی تبدیلی اسرائیلی اثر و نفوذ کی تکمیل نہ کردے۔ اسرائیل خطے میں جنگ بھڑکا کر اپنی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کی جیت اسی میں ہے کہ جنگ کے شعلے ٹھنڈے پڑ جائیں، چونکہ چین، ایران پر گہرا اثر رکھتا ہے لہذا پاکستان کی کوشش ہوگی کہ وہ ایران کو جنگ سے دور رکھنے کے لیے چینی قیادت کا دباؤ بھی بروئے کار لاسکے۔ بہرحال یہ سب قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ حقیقی صورتحال کا علم وزیراعظم کے دورہ ٔ چین کے اختتام پر آنے والی تفصیلات ہی سے ہوسکے گا۔ ممکن ہے کہ اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاق ِ رائے ہوجائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ علاقائی ممالک کے لیے ایک خوش خبری ہوگی اور پاکستان اس موقع سے متعدد اقتصادی اور تزیراتی فوائد حاصل کرسکے گا۔ یہ امر بھی قرینِ قیاس ہے کہ پاکستان افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے سرغنوں کیخلاف حتمی کارروائی کے لیے چینی قیادت کو اعتماد میںلے لے۔ اگرایسا ہوا تو افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز کے خلاف پاکستان کا اقدام بس چند ہی دنوں کی بات رہ گئی ہے۔