اطلاعات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت کی طرف سے آنے والے بجٹ میں عوام پر مزید ٹیکسوں کا نفاذ کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح بلند ہو جائے گی اور عوام مزید تکلیف اور مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی صفوں سے اس تجویز کی مخالفت کی جا رہی ہے کیوں کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی عوا م کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے لہٰذا عوام کا غم وغصہ موجودہ حکمران اتحاد کی سیاسی مقبولیت کے یکسر خاتمے کا سبب بن جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پندرہ ہزار ارب روپے کی ٹیکس وصولی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی مالیاتی ادارہ حکومت پر دباؤ بڑھا رہا ہے کیوں کہ گزشتہ مالی سال میں بھی ٹیکس کے اہداف کا حصول مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ عوام پر ٹیکسوں کے مسلسل اضافہ حکومت مخالف دھڑوں کو اس طنز کا جواز مہیا کر رہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس معاشی استحکام کا کوئی منصوبہ نہیں اور وہ محض ٹیکس وصولی کے ذریعے ملک چلا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی نئی تجاویز کے نتیجے میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، سولر پینل اور دیگر مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی گویا کہ حکومت کی پالیسی میں یہ گہرا تضاد موجود ہے کہ ایک طرف وہ زرِ مبادلہ کے استحکام کے لیے پیٹرول پر انحصار کو کم کرنا چاہتی ہے لیکن دوسری جانب متبادل ذرائع کو مہنگا کر کے عوام کے بڑے طبقے کو ان کے حصول سے روک بھی رہی ہے۔
ملک کو درپیش صورتِ حال اور حالات و واقعات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ قوم کو ایک ہمہ جہتی جنگ کا سامنا ہے جوکہ سفارتی، دفاعی اور معاشی میدانوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس ہمہ گیر جنگ میں ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کی صورتِ حال ہے جہاں فی الحال غیر یقینی کا راج ہے کیوں کہ دونوں ملکوں کی قیادت انتہا پسند مزاج رکھنے والے عناصر کے ہاتھ میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متلون مزاجی، دھمکی آمیز رویہ اور غیر سفارتی لب ولہجے نے امریکا، ایران مستقبل کے تعلقات کو ایک مستقل سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر اپنے الفاظ کی قوت اور ان کے اثرات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں کیوں کہ جنگ کے خاتمے کی امید روشن ہوتے ہی تیل کی مصنوعات کی قیمتیں نیچے آ جاتی ہیں جبکہ جنگ کے خطرات بڑھتے ہی قیمتیں بلند ہو جاتی ہیں۔ اس کھیل کی وجہ سے پاکستان جیسے کمزور معیشت رکھنے والے ملک کے عوام بری طرح پِس رہے ہیں جہاں عام آدمی کو جسم و جان کے درمیان رشتہ برقرار رکھنے کے لیے شدید تگ و دو سے کام لینا پڑ رہا ہے، یوں یہ سفارتی جنگ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے لیے جسم وروح کے درمیان تعلق، بقا اور تحفظ جیسے زندگی کے بنیادی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے لیے امریکا، ایران تعلقات، آبنائے ہر مز کی بندش اور جنگ کے خطرات صرف سفارتی اور معاشی مسائل ہی نہیں بلکہ دفاعی امور سے متعلق معاملات بھی ہیں۔ بحیثیت پاکستانی شہری، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس وقت آر ایس ایس اور بی جے پی کی حکومت ایک زخمی سانپ کی مانند پاکستان سے گزشتہ برس کی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے بے چین ہے اور انتقام کی اس آگ کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے افغانستان نے اپنے کندھے بھارت کو پیش کر رکھے ہیں جہاں سے پاکستان پر ایک بالواسطہ جنگ مسلط ہے۔ پاکستان کے دفاعی ادارے اس بالواسطہ جنگ میں ریاست کا دفاع بڑی پامردی، استقامت اور حوصلہ مندی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ افغانستان سے ہونے والی دراندازی بدلے کی جنگ یا محض دہشت گردی نہیں بلکہ یہ ایک مکمل پراکسی وار ہے جس کے تانے بانے نئی دہلی سے کابل اور قندھار تک محدود نہیں بلکہ تل ابیب اور نیویارک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جنگ دراصل چین کو روکنے، روس کو محدود کرنے، مشرقِ وسطی میں اپنے تسلط کو برقرار رکھنے اور ڈالر کی عالمی بالادستی کو قائم رکھنے جیسے مقاصد پر مشتمل ہے جس میں پاکستان کو بھی اپنے کیمپ میں رکھنے کی حکمتِ عملی شامل ہے۔ امریکی وزیرِ جنگ نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر اصرار کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکا عالمی جغرافیائی سیاست میں پاکستان کی حیثیت کو اچھی طرح سمجھتا ہے لہٰذا وہ پاکستان کو ہاتھ سے کھونا بھی نہیں چاہتا لیکن اسے ایک خودمختار، مستحکم اور اپنے فیصلوں میں مکمل آزاد ریاستِ پاکستان بھی قبول نہیں ہے۔ ایسے مقاصد صرف عسکری طاقت کے بل پر حاصل نہیں ہوتے بلکہ اس میں آئی ایم ایف، عالمی بنک، عالمی اقتصادی معاہدے، ڈالر اور زرِ مبادلہ اور عالمی ریٹنگ ایجنسیاں سب کچھ استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا پاکستان ایک طرف امریکا اور ایران میں مصالحت، خطے کو جنگ سے محفوظ رکھنے اور خود کو بھارت اور اسرائیل کے شر سے بچانے کے لیے سفارتی جنگ لڑ رہا ہے لیکن اسی جنگ کا دوسرا پہلو معاشی جنگ بھی ہے کیوں کہ جنگ کی صورت میں پیٹرول مزید مہنگا ہوگا اور عالمی مالیاتی ادارے کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو یا روپے کی قدر گرانا پڑے گی یا پھر زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بحال رکھنے کے لیے مزید ٹیکس عائد کرنا ہوں گے جس کا دوسرا عنوان گرانی میں اضافہ ہے۔ ان دو جنگوں کے پہلو بہ پہلو تیسری جنگ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان سے شر و فساد سے ملک کو محفوظ رکھنا ہے جو کہ کسی بھی صورت پاکستان کو داخلی استحکام کے حصول سے روکنے کے لیے بیرونی ایجنٹوں کے طورپر کام کر رہے ہیں اور سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کی بدولت مسلسل مکافاتِ عمل سے بھی دوچار ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ سر اٹھا کر، ہمت و حوصلے کو بروئے کار لا کر اور داخلی نظم و ضبط کو قائم رکھتے ہوئے اپنی بقا، تحفظ اور سلامتی کو بہرصورت مقدم رکھے اور دفاعی معاملات پر کسی نوعیت کا سمجھوتا نہ کرے تا کہ اس کی سفارتی کوششیں کامیاب ہو سکیں اور وہ معاشی استحکام کی راہ بھی سبک رفتاری سے چل سکے۔
پاکستان کے پاس معاشی استحکام کے لیے وسائل کی مد میں سی پیک اقتصادی راہ داری میں توسیع، ایران کے ذریعے سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی، گوادر پورٹ کی مکمل فعالیت اور ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے متبادل ذرائع جیسے متعدد و متنوع اسباب موجود ہیں۔ ٹیکس نیٹ ور ک میں حقیقی توسیع جی ایس ٹی کو کم کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی نظم و نسق کو بہتر بنانے، بدعنوانی پر قابو پانے اور وسائل کو منصفانہ انداز میں استعمال کرنے سے بھی ہم موجودہ معاشی بحران کو بڑی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال بہتر ہو جائے تو اس کے نتائج بھی حوصلہ افزا ہوں گے۔ گویا پاکستان کے پاس اسباب و وسائل کی حد تک متعدد راستے موجود ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم متحد رہیں اور بحران کا مل جل کر مقابلہ کریں تاکہ ملک کو جلد از جلد درست راستے پر گامزن کیا جا سکے۔

