انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) نے سرمائے سے متعلق اپنی نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت ایک زیادہ محدود، غیر یقینی اور مشکل مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کو اس وقت تیل کی بڑھتی پیداواری لاگت، غیر یقینی سپلائی چینز اور سخت قرض شرائط جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث عالمی اقتصادی دبائو میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی آئی ایف کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے خطرات کو قابو میں رکھنا مسلسل مشکل ثابت ہو رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر جاری سیاسی تنازعات اور جغرافیائی اثرات مہنگائی اور شرحِ سود کو مزید بلند رکھنے کے لیے دبائو ڈال سکتے ہیں، جس سے ترقی پذیر معیشتوں کو زیادہ مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
آئی آئی ایف کی اس رپورٹ میں عالمی معیشت کو درپیش موجودہ مشکلات اور مسائل کے حوالے سے اگرچہ ”سیاسی تنازعات” کا اجمالی حوالہ دیا گیا ہے اور امریکا ایران جنگ کا براہ راست تذکرہ نہیں کیا گیا تاہم عالمی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے معاشی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا کو اس وقت اگر معاشی بحران کا سامنا ہے،اوردنیا کی 8ارب آبادی آج اگر اشیاء صرف کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی مہنگائی کے سنگین مسئلے سے دوچار ہو چکی ہے تو اس کی فوری وجوہ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی جانے والی حالیہ جنگ سرفہرست ہے جس نے دنیا میں تیل اور توانائی کی سپلائی کے نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے اور جس کے نتیجے میں خود امریکا سمیت بیشتر ممالک میں توانائی کی قیمتیں کئی گنا بڑھی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور عسکری کارروائیوں نے اب تک عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ اس کشیدگی کا سب سے بڑا اثر عالمی تیل مارکیٹ پر پڑا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں خطرات بڑھنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ جنگی خطرات بڑھنے کے بعد کئی شپنگ کمپنیوں نے اس راستے پر نقل و حرکت محدود کردی جبکہ انشورنس اخراجات میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں مال برداری کے کرایے بڑھ گئے، سامان کی ترسیل میں تاخیر ہوئی، عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی، درآمدات و برآمدات کی لاگت بڑھ گئی۔ ماہرین کے مطابق صرف جنگی خدشات کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ”جیو پولیٹیکل رسک پریمیم” شامل ہوگیا، جس نے قیمتیں اوپر دھکیل دیں۔ بعض اوقات برینٹ کروڈ کی قیمت میں 10 سے 13 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے بڑا اثر صنعتی پیداوار پر پڑتا ہے۔ دنیا کے بیشتر کارخانے، ٹرانسپورٹ نظام اور بجلی گھر تیل یا اس سے جڑی توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش، ادویات، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔امریکی تحقیقی اندازوں کے مطابق صرف ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی صارفین کو تقریباً 45 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ امریکا میں صارفین کے اعتماد کی شرح تاریخی کم ترین سطح تک گر گئی کیونکہ پٹرول، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں، بجلی مہنگی ہوئی، کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور زرعی پیداوار متاثر ہوئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے عوامی سروے کے مطابق 60فیصد امریکی ایران جنگ کے مخالف ہیں، اس سے پہلے سروے میں اس کی شرح 55فیصد تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 91فیصد امریکیوں نے معاشی بدحالی کا ذمہ دار ایران جنگ تنازع کو قرار دیا، معیشت سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر عوامی عدم اطمینان میں اضافہ ہوا۔ 61فیصد امریکیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کو ناپسندیدہ قراردے دیا۔
جنگی خطرات نے عالمی سرمایہ کاروں میں خوف پیدا کیا۔ اس کے نتیجے میں، کئی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی، سرمایہ کاروں نے سونا اور ڈالر جیسے محفوظ اثاثوں کی طرف رخ کیا اور نئی سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہوئے۔ معاشی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹوں میں غیر یقینی کیفیت نے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال دیا۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک جیسے ترقی پذیر ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ درآمدی تیل مہنگا ہوگیا، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا، کرنسیاں کمزور ہوئیں اور بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا۔پاکستان جیسے ممالک کو اضافی اربوں روپے صرف تیل درآمد کرنے پر خرچ کرنا پڑے، جس سے مہنگائی مزید بڑھی۔ اس وقت پاکستان میں آٹے کی قیمت قابو سے باہر ہوچکی ہے۔ ملک میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2ہزار700 روپے تک پہنچ گئی۔ کراچی اور پشاور کے شہری سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔
امریکاایران کشیدگی نے اب تک عالمی معیشت کو براہِ راست اور بالواسطہ طور پر اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ سب سے زیادہ اثر تیل، تجارت، سرمایہ کاری اور مہنگائی پر پڑا۔ اگرچہ بعض اوقات کشیدگی میں کمی آنے سے مارکیٹیں سنبھل جاتی ہیں، لیکن یہ بحران ثابت کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا عدم استحکام پوری دنیا کی معیشت کو ہلا سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اگر سفارتی حل تلاش نہ کریں تو مستقبل میں یہ نقصانات مزید سنگین صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ عالمی معیشت میں سرمایہ کاری کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جنگ کی صورت میں سرمایہ کار غیر یقینی حالات کے باعث نئی سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔ بین الاقوامی کمپنیاں اپنے منصوبے مؤخر کردیتی ہیں۔ اس سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑجاتی ہے۔ امریکا ایران جنگ سے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے، جس کا اثر وہاں کی تعمیرات، صنعت اور خدمات کے شعبے پر پڑے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خود صدر ٹرمپ کے مطابق گزشتہ ہفتے جب امریکا اور اسرائیل ایک بار پھر ایران پر حملے کے لیے پرتول رہے تھے، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان نے فون کرکے انہیں ایران پر مزید حملے کرنے سے باز رہنے کی صلاح دی۔ کیا اس سے امریکا یہ سبق حاصل کرسکے گا کہ موجودہ دور میں عسکری مہم جوئی کے ذریعے کسی قوم کو زیر کرنے کا فلسفہ ناکام ہوچکا ہے؟

