مذہبی تعصب میں مبتلا مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اسلامی مدارس اور مسلم تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سرینگر اور شوپیاں میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جن میں جامعہ سراج العلوم، ایک مقامی اسکول اور جماعت اسلامی کے سابق سربراہ شہزادہ اورنگزیب کی رہائش گاہ شامل ہیں، جبکہ سرینگر کے علاقے لال بازار میں واقع جامعہ البنات میں بھی کارروائی کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم دینی و تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا مودی حکومت کے مسلم مخالف اور جابرانہ طرزِ عمل کا عکاس ہے، جس کا مقصد کشمیریوں کی آواز کو دبانا اور ان کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کو محدود کرنا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔
بھارت اپنے وسیع جغرافیائی رقبے، بڑی آبادی اور معاشی دعوؤں کے ذریعے خود کو عالمی سطح پر ایک ابھرتی ہوئی بڑی طاقت اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن زمینی حقیقت اس دعوے سے یکسر مختلف ہے۔ آبادی کے لحاظ سے بھارت بلاشبہ ایک بڑا ملک ہے، مگر یہی آبادی جب مذہبی، لسانی اور نسلی تنوع کے تناظر میں دیکھی جائے تو وہاں ایک بڑے طبقے کو بنیادی انسانی حقوق اور مساوی شہری حیثیت تک رسائی میں عملی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بھارت کا آئین بظاہر جمہوری، سیکولر اور تمام شہریوں کو مساوی حقوق دینے کا ضامن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف آئینی دفعات اور ریاستی نام سے کوئی ملک حقیقی معنوں میں جمہوری کہلا سکتا ہے، جبکہ اس کے عملی رویے اس کے برعکس ہوں؟ بھارتی آئین میں آرٹیکل 25 سے 28 تک مذہبی آزادی، عبادت، تبلیغ اور مذہبی ادارے قائم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے اور 42ویں آئینی ترمیم کے تحت بھارت کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا گیا ہے۔ نظریاتی طور پر یہ دفعات ایک جمہوری ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہیں، لیکن مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سامنے آنے والے اعداد وشمار اور مشاہدات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر مذہبی گروہوں کو عملی سطح پر متعدد مشکلات، امتیازی سلوک اور ریاستی و سماجی دباؤ کا سامنا ہے۔ یہی تضاد بھارت کے جمہوری دعوؤں اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا کرتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں ہندو قوم پرست یا ہندوتوا نظریات رکھنے والی سیاسی و سماجی قوتوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی پالیسیوں اور سماجی رویوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس عرصے میں مذہبی اقلیتوں کیلئے گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے اور ان کے خلاف سخت گیر اقدامات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ”بلڈوزر انصاف”، یکساں سول کوڈ اور شہریت کے متنازع قوانین اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی رویوں نے بھارتی جمہوریت کے چہرے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو ایک سیکولر ریاست کے بنیادی اصولوں سے قطعی ہم آہنگ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سمیت مختلف اداروں کی رپورٹس میں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ، نفرت انگیز تقاریر اور سماجی سطح پر امتیاز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق اگرچہ آئینی ضمانتیں موجود ہیں، لیکن ان کا عملی نفاذ کہیں بھی نظر نہیں آتا، چنانچہ بھارت کی عالمی سطح پر ”سب سے بڑی جمہوریت” کی شبیہ پر جائز طور پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بھارت کے اندر سماجی سطح پر بھی صورت حال یکساں نہیں۔ اقلیتوں کے خلاف ہراسانی کے واقعات، مذہبی بنیادوں پر کشیدگی اور تشدد روز کا معمول ہیں۔ مسیحی عبادت گاہوں پر حملوں یا مذہبی تقریبات میں رکاوٹوں کی اطلاعات ہوں یا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ، یہ سب وہ عوامل ہیں جو ایک پرامن اور مساوی معاشرے کے تصور سے متصادم ہیں۔ اسی طرح مسلم تعلیمی اداروں کی سخت نگرانی اور چھاپے بھی جمہوری اقدار کے یکسر منافی ہیں۔
بھارت کے ہندوتوا نظریے کے حامی عناصر کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کی شناخت کو ایک مخصوص مذہبی سانچے میں ڈھالنے کے خواہاں ہیں اور بھارت کو جلد یا بدیر ہندو راشٹر میں تبدیل کردینا ان کا مطمح نظر ہے۔ ان عناصر کے نزدیک ہندو مت ہی بھارت کا اصل دین و دھرم ہے، دوسرے تمام مذاہب ان کے خیال میں غیر مقامی اور غیر بھارتی ہیں۔ ان کا کھلے بندوں ماننا ہے کہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے پاس دو ہی آپشن ہیں کہ ہندومت قبول کریں یا پھر دوسرے درجے کے شہری بن کر رہیں، تیسری کوئی راہ نہیں۔ یہ تصور نہ صرف بھارت کے آئینی سیکولر اصولوں سے متصادم ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹرز کے بھی خلاف ہے۔ اگر کسی ریاست میں مذہبی بنیادوں پر شہریوں کے درمیان درجہ بندی پیدا ہو جائے تو وہاں جمہوریت نہیں فسطائیت در آتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جب سے مودی کی قیادت میں ہندو انتہا پسند قوتوں کا غلبہ ہوا ہے، بھارت سے جمہوریت کی رہی سہی اقدار بھی رخصت ہوچکی ہیں اور اب فاشزم کا ہی ننگا ناچ سر بازار جاری ہے۔
عالمی سطح پر بھارت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آئینی سیکولر اصولوں کو صرف کاغذ تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی طور پر بھی تمام شہریوں کیلئے مساوی حقوق کو یقینی بنائے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت ہر ریاست پر لازم ہے کہ وہ مذہبی، نسلی اور لسانی امتیاز سے پاک ماحول فراہم کرے۔ اگر کسی ملک میں اس کے برعکس صورتحال پیدا ہو تو عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سفارتی اور اخلاقی دباؤ کے ذریعے بہتری کی کوشش کرے۔ بھارت ایک طرف اپنے آپ کو جمہوری، سیکولر اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر پیش بھی کرتا ہے اور اس حیثیت کو اب تک کیش بھی کرتا آیا ہے، لیکن دوسری طرف مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے اس کے اندرونی چیلنجز اس دعوے کو یکسر باطل ٹھہراتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ آج کے اس آزادی جمہور کے دور میں بھارت میں جاری بدترین نسلی و مذہبی فسطائیت کا ٹھیک ٹھاک نوٹس لے، ورنہ بھارت کے یہ رویے پورے خطے میں آگ لگانے کا سبب بنیں گے۔

