غزہ/بیروت/واشنگٹن:قابض اسرائیل کی نام نہاد اعلیٰ ضلعی منصوبہ بندی کمیٹی نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں میں واقع یہودی بستیوں میں 2162 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے جو فلسطینی اراضی پر غاصبانہ قبضے کو مزید وسعت دینے کی ایک ہولناک کڑی ہے۔
عبرانی زبان کے ”چینل 7” نے ”صفا” ایجنسی کے مطابق رپورٹ کیا ہے کہ منظور کیے جانے والے نئے استعماری یونٹس کو منصوبوں کے ایک ایسے نیٹ ورک کے تحت تقسیم کیا گیا ہے جن کا ہدف موجودہ شہری بستیوں کو وسعت دینا اور فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی زمینوں پر غاصبانہ قبضے کو دوام دینا ہے۔
اس تازہ ترین صہیونی منظوری میں اہم بستیوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ ”اریئل” اور ”برکان” جیسے بڑے استعماری بلاکس میں تعمیراتی نظام کو جدید بنانا شامل ہے تاکہ وہاں یہودی آباد کاروں کی موجودگی کو مستقل بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے اور ان یہودی بستیوں کو آپس میں مربوط کیا جا سکے۔
مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں یہ بھیانک منصوبہ الخلیل اور بیت لحم کے علاقوں سے تعلق رکھنے والی یہودی بستیوں میں تعمیرات کو تیز کرنے پر مرکوز ہے جس میں ”سنسانہ” بستی اور اس کے گردو نواح کی دیگر آبادیاں شامل ہیں اور اس سازش کا بنیادی مقصد فلسطینی قصبوں اور دیہاتوں کو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ کر کے محاصرے میں لینا ہے۔
ان جابرانہ فیصلوں میں فلسطینیوں کی ضبط کی گئی زرعی اور چراگاہوں پر مشتمل اراضی کا استعمال تبدیل کرنا بھی شامل ہے تاکہ ان مظلوم فلسطینیوں کی اراضی کو زراعت کے بجائے یہودی آباد کاروں کے لیے مختص شہری علاقوں میں تبدیل کر کے ان کا جغرافیائی وجود ہی مٹا دیا جائے۔
ادھرغزہ کی پٹی میں مئی کا مہینہ رواں سال کے آغاز سے اب تک شہداء کی تعداد کے لحاظ سے سب سے خونریز اور ہولناک ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور سفاکیت کے نتیجے میں 119 فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
یہ ہلاکت خیز تعداد قابض اسرائیلی فضائی غارت گری اور ہولناک حملوں کی شدت میں نمایاں اضافے کو بے نقاب کرتی ہے جو عید الاضحیٰ کے مبارک ایام کے دوران عروج پر پہنچ گئی تھی جب صرف چند ہی دنوں کے اندر قابض دشمن کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں تقریباً 30 معصوم فلسطینی شہید ہو گئے۔
کل شہدا میں سے 30 فیصد تعداد بے گناہ خواتین، معصوم بچوں اور بزرگ شہریوں پر مشتمل ہے۔گذشتہ ماہ کے دوران غاصب صہیونی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے جو کل شہدا کا 16 فیصد بنتی ہے جبکہ دشمن کے حملوں میں 10 خواتین بھی شہید ہوئیں جو کل تعداد کا 8.5 فیصد ہے۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت اور مسلسل حملوں کے نتیجے میں مزید 3 شہری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور 35 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ قابض دشمن کی سفاکیت کا شکار ہونے والے متعدد مظلوموں کی لاشیں اور زخمی اب بھی ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دس اکتوبر کو جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہدا کی کل تعداد 936 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 2,903 ہو چکی ہے، اس کے علاوہ اب تک ملبے کے نیچے سے 781 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس وحشیانہ جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک شہدا کی تعداد بڑھ کر 72,945 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 173,011 تک پہنچ چکی ہے۔
دریں اثناء غاصب صہیونی ریاست کی سنگین ترین سیکورٹی تلے یہودی آباد کاروں کے جتھوں نے بدھ کی صبح مسجدِ اقصی کے صحنوں پر اپنی جارحانہ یلغار کا سلسلہ جاری رکھا۔مقبوضہ بیت المقدس کے مقامی ذرائع نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 179 یہودی آباد کاروں نے مسجدِ اقصی کے صحنوں پر دھاوا بولا اور وہاں اشتعال انگیز گشت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تلمودی رسومات ادا کیں۔
ذرائع نے مزید واضح کیا کہ ان یہودی آباد کاروں نے مسجد کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے قابض اسرائیل کی ان افواج کی سیکورٹی میں یہ اشتعال انگیز چکر لگائے اور تلمودی خرافات کیں جو انہیں مکمل تحفظ فراہم کر رہی تھیں اور اس طرح اس مقدس مقام پر ایک جارحانہ تسلط قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔
علاوہ ازیںپاکستان سمیت 8 اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی سیکورٹی فورسز کی حفاظت میں مسلسل دراندازیاں اور صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات ہیں۔
بیان کے مطابق یہ اقدامات مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مقدس مقامات کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔
ادھرقابض اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے الاسطل خاندان کے پانچ اسیران کو قابض صہیونی عقوبت خانے میں طویل قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد بالآخر رہا کر دیا ہے۔
اسیران کے میڈیا آفس نے وضاحت کی ہے کہ رہا ہونے والے اسیران ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے کے ہمراہ شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچے تاکہ ان کا ضروری طبی معائنہ کیا جا سکے۔
میڈیا آفس نے بتایا کہ رہا ہونے والے مظلوم اسیران میں 62 سالہ یونس رضوان عبد العزیز الاسطل، 52 سالہ زیاد خلیل منصور الاسطل، 46 سالہ محمود سمیر احمد الاسطل، 36 سالہ عمر مصطفیٰ قاسم الاسطل اور 33 سالہ موسیٰ محمد الاسطل شامل ہیں۔
دوسری جانب قابض اسرائیل کی سفاک افواج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبے جبع میں دو رہائشی مکانات اور ایک تجارتی تنصیب کو مسمارکردیا ہے۔مقبوضہ بیت المقدس کے مقامی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ قابض اسرائیل کے بلڈوزروں نے صبح سویرے بھاری فوجی سیکورٹی کی چھتری تلے جبع قصبے پر دھاوا بولا اور وہاں کے رہائشی شہری زیاد سلطان کے مکان کومسمار کر دیا۔
ذرائع نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ یہ دو منزلہ رہائشی مکان تھا جس میں دو خاندانوں کے 13 افراد مقیم تھے جو اس سفاکیت کے بعد اب کھلے آسمان تلے بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی غاصب فوج نے اسی خاندان کے ایک تجارتی کارخانے (مشغل) کو بھی مسمار کردیا جو ان کی گزراوقات اور روزگار کا واحد بنیادی ذریعہ تھا۔
قابض اسرائیل کی افواج نے گذشتہ رات اور بدھ کے روز علی الصباح مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران متعدد گھروں پر شب خون مارا اور نابلس شہر کے مشرق میں واقع عسکر کیمپ سے ایک نوجوان کو اغوا کر لیا۔
نابلس میں قابض افواج نے فجر کے وقت عسکر کیمپ پر دھاوا بولا اور درجنوں گھروں کی وحشیانہ تلاشی لی اور ان کے سامان کی توڑ پھوڑ کی۔اس کے ساتھ ہی یہودی آباد کاروں نے گذشتہ رات ارائیل نامی ناجائز بستی کے راستے سے گزرتے ہوئے مجدل بنی فاضل کی دیہی کونسل کے سربراہ رامی نصار پر بزدلانہ حملہ کیا اور ان پر وحشیانہ تشدد کیاجس کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
طوباس میں قابض اسرائیل کی افواج کئی فوجی گاڑیوں کے ساتھ طوباس شہر کے مشرق میں واقع تیاسیر گاؤں میں داخل ہوئیں اور پیادہ دستے گاؤں کے کئی محلوں میں پھیل گئے جس کے بعد انہوں نے متعدد گھروں پر چھاپے مارے ان کی تلاشی لی اور رہائشیوں سے سرِ عام تفتیش کر کے ان میں خوف و ہراس پھیلایا۔
جنین میں قابض فوج کی ایک بڑی نفری نے جنوب میں واقع الجدیدہ گاؤں پر دھاوا بولا اور شہریوں کے گھروں میں تلاشی اور توڑ پھوڑ کی وسیع مہم شروع کر دی جس کے دوران شہریوں سے سخت میدانی تفتیش کی گئی اور ان کے گھروں کے قیمتی سامان کو سفاکیت سے نقصان پہنچایا گیا۔
رام اللہ میں قابض افواج نے مغربی کنارے میں البیرہ شہر کے شمال میں واقع الجلزون کیمپ پر دھاوا بول دیا اور نہتے شہریوں کے گھروں پر اندھا دھند اور بھاری مقدار میں زہریلی گیس کے شیل برسائے۔
بیت لحم میں خونخوار یہودی آباد کاروں نے بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع المنیہ گاؤں کے شہریوں کے گھروں پر ہلہ بول دیا اور ان پر شدید پتھراؤ کیاجس سے معصوم بچوں اور خواتین میں شدید خوف و ہراس اور دہشت پھیل گئی تاہم کسی کے زخمی ہونے کی فوری اطلاع نہیں ملی۔
الخلیل گورنری میں یہودی آباد کاروں کے مسلح گروہوں نے شمال میں واقع قصبے صورف پر انتہائی پرتشدد حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں شہریوں کی گاڑی تباہ ہو گئی اور مقامی لوگوں کے گھروں پر ہلہ بولا گیا جبکہ اسی دوران شہر کے مغرب میں واقع محلے الجلاطیہ میں گندم کی تیار فصل کو آگ لگا دی گئی۔
جنوب میں مسافرطا اور السموع کے مقامات پر یہودی آباد کاروں نے چراہ گاہوں پر قبضے کی غاصبانہ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے فوجی سرپرستی میں خربہ ”الخرابة” اور خلہ الحمص پر دھاوا بولا۔اپنے مویشی فلسطینی کسانوں کی زمینوں پر چھوڑ دیے تاکہ وہ فصلوں کو چر کر انہیں تباہ و برباد کر دیں۔
بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں قائم کردہ امدادی سامان کی تقسیم کے فوجی مراکز کے آپریشنز سے جڑے ہولناک تشدد کے اثرات اب بھی مسلسل برقرار ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی مستقل معذوری اور گہرے نفسیاتی صدمات کا شکار ہیں۔
تنظیم نے اس لرزہ خیز تجربے کو دہرانے کے خلاف سخت خبردار کیا ہے۔تنظیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی امداد کو فوجی رنگ دینا شہریوں کی زندگیوں کے لیے ایک براہِ راست خطرہ ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں اس ماڈل کو دوبارہ کبھی نہ دہرایا جائے۔
دوسری جانب قابض اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کی جانے والی تازہ ترین سفاکیت اور بمباری کے نتیجے میں ایک طبی امدادی کارکن (مسعف) سمیت 12 افرادجاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق قابض اسرائیل کی جانب سے تبنین قصبے کو نشانہ بنا کر کی جانے والی بمباری میں ایک شہری جاں بحق ہواجبکہ جنوبی لبنان کے قصبے عربصالیم پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ایک طبی امدادی کارکن بھی جاں بحق ہو گیا۔
جنوبی لبنان میں شہری دفاع نے رپورٹ دی ہے کہ صور ضلع کے علاقے الحوش پر قابض اسرائیل کے دو ڈرون طیاروںکے خوفناک حملوں کے نتیجے میں مزید 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ضلع نبطیہ کے قصبے حبوش میں قابض اسرائیل کے ایک اور ڈرون طیارے کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 4 شامی شہری موقع پر ہی دم توڑگئے۔
اسرائیل کے ڈرون نے ضلع نبطیہ میں در الزہرانی اور حبوش کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیل کے ڈرون نے صور ضلع کے قصبے صدیقین پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوئے جبکہ بیروت کے جنوب میں واقع خلدہ روڈ پر بھی ایک ڈرون حملے میں ایک گاڑی کونشانہ بنایا گیاجو لبنانی عوام کے خلاف جاری اس مسلسل سفاکیت کا حصہ ہے۔
ادھراسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا ایک اور اہم دور اختتام پذیر ہوگیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ کے مطابق دونوں ممالک کے وفود نے واشنگٹن میں مذاکرات کے چوتھے دورمیں شرکت کی۔
فریقین گزشتہ 20 برس کی ناکامیوں سے آگے بڑھتے ہوئے ایک ایسے جامع معاہدے کی جانب پیشرفت کر رہے ہیں جس کامقصد لبنان کی خودمختاری کی بحالی اوراسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
ٹومی پگوٹ نے مزیدکہاکہ امریکا ان تاریخی مذاکرات میں ثالثی کاکردارجاری رکھے گا اور سیاسی و سیکورٹی دونوں شعبوں میں مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیلی اورلبنانی وفود کے درمیان مذاکرات کا ایک اوردور ہوگاجس میں دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن اورسرحدی سلامتی سے متعلق امور پر مزید غور کیا جائے گا۔

