غزہ پر ایک بار پھر قیامت ڈھانے کی تیاری؟

عالمی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق قابض و ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل غزہ میں نام نہاد جنگ بندی ختم کرکے ایک بار پھر علانیہ قاتل عام شروع کرنے کے لیے پرتول رہا ہے۔ایک اسرائیلی عہدیدار اور ایک عرب سفارتکار کے مطابق اسرائیلی فوج مارچ میں غزہ میں نئی فوجی کارروائیوں کے لیے منصوبے تیار کر رہی ہے۔سفارتکارنے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی منصوبہ غزہ شہر پر مرکوز ہوگا اور اس کا مقصد پیلی لائن کو حرکت دینا ہے، جو غزہ پٹی کے اندر زمین کی نئی تقسیم کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حماس نے بھی جنگ مسلط کیے جانے پر جواب دینے کی تیاری شروع کردی ہے۔

تیسری جانب امریکی میڈیا بتارہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک دو روز میں غزہ امن پلان کے دوسرے مرحلے کا اعلان متوقع ہے جس کا ہدف فلسطینی مقاومتی تنظیم حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس نے کسی قابل قبول فارمولے کی صورت میں ہتھیار رکھنے کے اپنے وعدے پر عمل کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے اپنے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کو مجوزہ فلسطینی اتھارٹی کو ہتھیار حوالے کرنے کے لیے تیار رہنے اور طریقہ کار طے کرنے کی ہدایت کی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ حماس غزہ امن معاہدے پر بدستور قائم ہے تاہم یہ امر واضح نہیں ہے کہ امریکا اور اسرائیل غزہ کا انتظام مقامی اتھارٹی کو دینے پر کس حد تک رضامند ہیں۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ امن پلان کے دوسرے مرحلے کے عنوان سے اپنا منصوبہ پیش کرے گی جس میں کچھ مسلم ممالک کی افواج کو حماس کوغیر مسلح کرنے کا ٹاسک دیا جائے گا ،حماس سمیت فلسطینی مقاومتی تنظیمیں اپنے بنیادی اور اصولی مطالبات کی منظوری کی بغیر ہتھیار رکھنے سے انکار کردیں گی جس کو جواز بناکر اول تو اسلامی ممالک کی افواج کے ذریعے فلسطینی مقاومت کو کچلنے کی کوشش کی جائے گی اور ان افواج کی جانب سے انکار یا ناکامی کی صورت میں غزہ میں ایک بار پھر رقص ابلیس شروع کردیا جائے گا۔

غزہ میں اگر ایک بار پھر قتل عام کا آغاز کردیا گیا تو اس کے نتائج عالمی امن و استحکام کے لیے بہت دور رس ثابت ہوں گے۔اس وقت امریکی صدر کی جانب سے وینز ویلا پر حملہ،گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی دینے اور اپنے یورپی و نیٹو اتحادیوں کو بھی نظر انداز کرنے پر دنیا بھر میں تھرتھلی مچی ہوئی ہے اور امریکی صدر کے نخوت ،خود سری اور بدمعاشی کے رویے نے اقوام عالم کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ایسے میں اگر اسرائیل امریکی پشت پناہی پر غزہ میں دوبارہ دہشت گردی تیز کرتا ہے تو عالمی رائے عامہ میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شیطانی جوڑی کے خلاف اشتعال پیدا ہوسکتا ہے اور امریکا کی سفارتی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ متعدد یورپی ممالک پہلے ہی ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ کر صہیونیت نوازی سے رجوع کرچکے ہیں، یوکرین کی جنگ سے متعلق ٹرمپ سرکار کی کہ مکرنیوں پر بھی یورپی ممالک خوش نہیں ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی نے یورپ میں امریکا کے خلاف جذبات کو بر انگیختہ کردیا ہے۔ایران کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت کو بھی مغربی دنیا اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی۔ غزہ جنگ کے بعد سے خود امریکا میں صہیونی لابی کی گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے جس کا اعتراف صہیونی امریکی صدر ٹرمپ خود کئی بار کرچکے ہیں۔نیویارک میں صہیونیت مخالف ظہران ممدانی کی تاریخی جیت کے پیچھے بھی ایک بڑا عنصر صہیونیت سے امریکی عوام کی بیزاری بتائی گئی۔ایسے میںغزہ کے بے سروسامان اور بے گھر شہریوں پر دوبارہ آتش و آہن کی بارش برسانے کا اقدام اسرائیل اور امریکا کے لیے مزید عالم گیر نفرت اور ذلت کا پیغام ثابت ہوسکتا ہے۔

قرائن بتارہے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل غزہ کے بیس لاکھ سے زائد شہریوں کو ان کی جدی پشتی سرزمین سے بے دخل کرکے صومالی لینڈ یا کسی اور ملک میں بسانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔اگر فلسطینیوں نے اپنی سرزمین کا سودا کرنا ہوتا تو انہیں حالیہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی قربانیاں نہ دینا پڑتیں۔ ظلم و تعدی کا کونسا حربہ ہے جو قابض ریاست اسرائیل نے امریکی پشت پناہی سے ان پر نہیں آزمایا۔دوسال کی جنگ میں صہیونی دہشت گرد لاکھوں من بارود غزہ پر برسا چکے ہیں، ستر ہزار شہری شہید، ہزاروں لاپتہ، ایک لاکھ سے زائد زخمی ہیں جن میں سے پچیس ہزار کی جان خطرے میں ہے، کینسر کے ہزاروں مریضوں کے علاوہ قریباً چار لاکھ شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں، بیس لاکھ شہری کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، سرد موسم کی شدت اپنی جگہ مسائل کو بڑھا رہی ہے، اس سب کے باوجود اہلِ غزہ نے صہیونی جبر کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا ہے، وہ اپنی سرزمین چھوڑنے پر رضامند نہیں ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی بھی زندگی کی بے پناہ مشکلات سے گھبرا کر اپنی مٹی چھوڑنے پر تیار ہوسکتے ہیں تو یہ اس کی بھول ہے۔

ہونا تو یہی چاہیے کہ عالمِ اسلام ان کی امداد و تعاون کے لیے آگے بڑھے، مالی امداد کے ساتھ خوراک، ادویہ اور دیگر وسائل سے ان کی پشت پناہی کی جائے، اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ رفح بارڈر سے فلسطینیوں کے لیے امداد کی رسائی نہ روکے لیکن عالمِ عرب پر عجیب سے بے حسی طاری ہے جس کے اثرات تمام عالمِ اسلام پر مرتب ہو رہے ہیں اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ عرب ریاستیں فلسطینی مزاحمت کے خاتمے کی منتظر ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسلم امہ کے جسدِ واحد کے لیے یہ صورتِ حال تکلیف کا باعث ہے۔ ایک امت ہونے کے ناطے فلسطینیوں کے وجود پر لگنے والے زخم ہر مسلمان کے وجود پر لگ رہے ہیں اور اس کا تقاضا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ امداد و تعاون کا جو بھی ممکن طریقہ ہو، اسے اختیار کریں اور انھیں صہیونی دہشت گردوں اور ان کے سرپرست یعنی امریکا و دیگر ممالک کے رحم و کر م پر نہ چھوڑیں۔ فلسطین کے مسئلے کو منطقی حل تک پہنچانے کے لیے امتِ مسلمہ کو بہر حال اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ریاستیں عملی اقدامات کو ترجیح دیں، مسلم ممالک کم از کم غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے متحد ہوں، فلسطینیوں کے زخم کو اپنا زخم اور ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جائے اور اسلامی اخوت کے تصور کو ختم نہ ہونے دیا جائے۔ مسلم امہ اور بالخصوص عرب ریاستوں نے اب تک جو رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ اضطراب اور تشویش کا باعث بن چکا ہے، ایسا نہیں کہ تحریکِ مزاحمت ختم ہو جائے گی بلکہ خدشہ یہ ہے کہ عرب ریاستوں کی خاموشی ان کے لیے نہ ختم ہونے والے مسائل کا باعث بن جائے گی۔