امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد لاطینی امریکا کے دیگر ممالک اورایران کو بھی کھلی دھمکیاں دی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا اس پر ‘بہت زوردار’ حملہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے درست رویہ اختیار نہ کرنے پر وینزویلا پر دوبارہ حملے کی بھی دھمکی دے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ” امریکا کو وینزویلا میں تیل اور دیگر وسائل تک مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے۔” انہوں نے کیوبا سے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کیوبا کی حکومت جلد خود ہی گرنے والی ہے، شاید فوجی مداخلت کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ کیوبا کی آمدنی وینزویلا سے آتی تھی اور اب انہیں وہ بھی نہیں ملے گی۔امریکی صدر نے میکسیکو کو بھی خبردار کیا کہ میکسیکو نے اپنا نظام درست نہ کیا توامریکا کو کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ امریکی صدر نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے جس کی ڈنمارک کی حکومت نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اسی دوران اقوام متحدہ نے وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے معاملے پر بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہایت تشویش ناک امر ہے۔ عالمی مبصرین امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آزاد اور خود مختار ممالک پر حملے کرنے اور قبضہ کرنے کی دھمکیوں کو پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں اور بہت سے تجزیہ نگاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی بے دھڑک خلاف ورزی، اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی علاقائی سا لمیت اور داخلی خودمختاری پر براہ راست حملے،کمزور اور ترقی پذیر ممالک کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی کارروائیاں اور بین الاقوامی سفارت کاری میں دھونس دھمکی اور بدمعاشی کا لہجہ اور رویہ عالمی سطح پر انارکی اور بے امنی پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس طرح تو دنیا میں جنگل کا قانون نافذ ہوجائے گا اور قرون مظلمہ کی طرح ایک بار پھر” جس کی لاٹھی اس کی بھینس ”کا قانون کرہ ارض پر لاگو ہوجائے گا۔
آج کی اکیسویں صدی کی دنیا میںکسی بھی ملک کی جانب سے اس لہجے، رویے اور طرز عمل کا تصور بھی نہیں کیا جانا چاہیے جو امریکی صدر نے اس وقت اختیار کیا ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈوبتی معیشت اور عالمی اقتصادی محاذ پرطاقت کا کھیل ہاتھ سے نکلنے کے خوف نے بڑبولے امریکی صدر کو رہے سہے ذہنی توازن سے بھی محروم کردیا ہے اور وہ دھونس دھمکی کے طرزعمل کے ذریعے دنیا پر امریکا کی دھاک بٹھائے رکھنا چاہتے ہیں جوکہ ان کی نفسیاتی شکست خوردگی کی علامت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکا کو ایک بدمعاش ریاست کی حیثیت سے دنیا سے منوانا چاہتے ہیں جس کے شر سے اس کے قریب کے پڑوسی ممالک محفوظ ہیں نہ دور دراز کے خطے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اس کے بالکل ساتھ متصل چھوٹا سا ملک کیوبا بھی اس کی بالادستی ماننے سے انکاری ہے اور جس وینزویلا کو صدر مادورو کی” آمرانہ حکومت” سے نجات دلانے کے لیے امریکا نے” اغوا برائے تاوان” کی کارروائی کر ڈالی، اس کے عوام بھی امریکا کی اس” مہربانی” کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں اور وہاں کی حکومت اور عوام نے امریکا کے آگے نہ جھکنے کا اعلان کردیا ہے۔ وینزویلا کی فوج نے مادورو کی نائب اور معتمد ڈیلسی روڈ ریگیز کو عبوری صدر تسلیم کر لیا اور وینزویلا کے وزیر دفاع نے صاف کہا ہے کہ امریکا کا اقدام عالمی امن و قانون کے لیے خطرہ ہے، آج ہمارے ساتھ ہوا کل کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ امریکا کے چند یورپی اتحادیوں کے سوا پوری دنیا نے وینزویلا کے صدر کے اغوا کے اقدام کو ایک مجرمانہ کارروائی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ چین اور روس نے صورت حال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور عالمی مبصرین کے مطابق چین شاید امریکا کی طرح جارحانہ لہجہ تو اختیار نہیں کرے گا تاہم وہ امریکا کو اپنے انداز میں خاموش مگر موثر جواب ضرور دے گا کیونکہ دنیا کا ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ وینزویلا پر حملہ ہو یا گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں، اس کے پیچھے اصل ہدف چین ہی ہے جس کے بحر الکاہل میں تیرتے تجارتی اور تیل بردارجہاز ہی امریکی صدر ٹرمپ کی پریشانی کا حقیقی سبب ہیں۔ عالمی طاقتوں کے درمیان تجارتی مفادات کی کشمکش کوئی نئی بات تو نہیں ہے تاہم اس کشمکش میں ایک فریق کا اپنے جامے سے باہر ہوجانا اور کھیل کے ہر قسم کے اصولوں کو پامال کردینا قابل قبول رویہ نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی برادری کو اس رویے کے خلاف متحد ہونا چاہیے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنانے کے لیے تمام ذمہ دار ممالک اور عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سیکیورٹی اداروں کی بڑی کامیابی
اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں نے کراچی میں تباہی پھیلانے کے کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے خوفناک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے جس پر شہریوں نے سیکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ میڈیارپورٹوں کے مطابق خفیہ اطلاعات پر حب ریور روڈ رئیس گوٹھ میں گھر پر چھاپہ ماراگیا جہاں دوہزار کلو گرام بارودی مواد چھپایا گیا تھا جسے ایک ٹرک میں نصب کیا گیا تھا اور اسے شہر میں دہشت گردی کی بڑی واردات میں استعمال کیا جانا تھا۔ دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ انٹیلی جنس اداروں نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے نگرانی کرکے مکمل طور پر خفیہ آپریشن کیا جس سے شہر کراچی کو ایک بڑے سانحے سے بچالیا گیا۔ یقینا یہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کی بہت بڑی کامیابی ہے اور اس آپریشن میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکار ستائش اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔ توقع رکھی جانی چاہیے کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے اسی چوکسی ، تکنیکی مہارت اور فرض شناسی کے جذبے کے ساتھ وطن عزیز پاکستان کی داخلی سلامتی اور ہم وطن پاکستان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کارنامے سرانجام دیتے رہیں گے اور دشمن قوتوں کی سازشوں اور تخریبی سرگرمیوں کو ناکام بناتے رہیں گے۔

