قومی پیغام امن کمیٹی کی دہشتگردی کے خلاف ملک گیر مہم شروع

پشاور:قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے جمعہ کو ملک بھر میں ‘پیغامِ امن’ کے طور پر یوم پیغام پاکستان منایا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے نمازِ جمعہ کے خطبات میں بھی امن، اتحاد اور دہشتگردی کے خلاف مؤقف اجاگر کیا جائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے علما کرام نے گورنر ہاؤس پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ دینی قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے پیغامِ پاکستان کو آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے قرار دیا۔
کمیٹی نے اعلان کیا کہ اس جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا جائے گا اور ریاست و افواجِ پاکستان کے ساتھ اتحاد پر زور دیا گیا۔پیغامِ پاکستان کو بنیادی قومی اتفاقِ رائے قرار دیا گیا، پیغامِ پاکستان کو آئین کے بعد سب سے مضبوط دستاویز کہا گیا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی نے قرار دیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک قرار دے کر افغانستان سے پاکستان میں امن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔افواجِ پاکستان کو اسلام اور امن کے محافظ قرار دیا گیا، اسلام کو امن اور محبت کا دین قرار دیا گیا، کسی بھی بے گناہ کے قتل کو حرام قرار دیا گیا، فتنہ کے خلاف جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ عوام بھی اس عفریت سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم اس جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر علامہ طاہر اشرفی نے کہاکہ کمیٹی نے ملک گیر مہم کا آغاز پشاور سے کیا ہے کیونکہ خیبرپختونخوا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا ہے۔ پشاور کے بعد دیگر شہروں کا بھی دورہ کیا جائے گا۔
علامہ طاہر اشرفی نے کہاکہ ‘پیغامِ پاکستان’ کی روشنی میں متفقہ فتویٰ پر امامِ کعبہ سمیت جید علما کے دستخط موجود ہیں اور خودکش دھماکوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ بھی پاکستانی علما نے دیا تھا۔
انہوں نے واضح کیاکہ بے گناہوں کا قتل اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور قوم امن کی خواہاں ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پیغامِ امن کا وژن واضح ہے کہ ملک کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے مقابلے میں فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پاکستان کے مدارس اور مساجد کبھی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا امن ان کے اپنے امن سے جڑا ہے، جبکہ افغانستان سے ہونے والے حملوں کی روک تھام پر سنجیدہ عملدرآمد ناگزیر ہے۔ افغان طالبان کو پاکستان کا امن اپنا امن سمجھنا ہوگا۔ امن کے لیے جو افغان طالبان نے بات کی ہے اْس پر عمل کرنا ہوگا، 100 میں سے 70 فیصد حملے افغانستان سے ہوتے ہیں، افغان مہاجرین کو یہاں گھر دیے کیا یہ وفا کا صلہ ہمیں مل رہا ہے؟
کمیٹی کے دیگر ممبران کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں امن چاہتے ہیں افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتا ہے، ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں دہشت گردی کے واقعات میں بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، بچوں اور خواتین کو بھی یہ لوگ نہیں بخشتے، ہمیں بتایا جائے کہ مساجد پر حملے کہاں جائز ہیں ہم امن کا پیغام لے کر ہر شہر جائیں گے اور دہشتگردی کے خلاف بھرپور آواز بلند کرتے رہیں گے۔