امریکی صدر ٹرمپ کی شہنشاہ عالم بننے کی کوششیں

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں مختلف ممالک کے خلاف اپنے جارحانہ اقدامات اور بین ا لاقوامی قانون اور سفارتی آداب و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عالمی افق پر کھلبلی مچائی ہوئی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غیر متوازن ذہنی کیفیت سے دوچار اور نرگسیت کے شکار امریکی صدر خود کو” شہنشاہ عالم” سمجھنے لگے ہیں اور گویا کہ ساری دنیا ان کی رعایا بن گئی ہے۔

وہ کبھی ایک آزاد اور خود مختار ملک وینزویلا کے صدر کو اس کے گھر سے اغوا کرکے لے جاتے ہیں اور اس ملک کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہیں تو کبھی گرینڈ لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور کبھی ایران کے اندر رجیم چینج کے لیے ہنگامہ آرائی کراتے ہیں اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور اس کے باوجود ناکام ہوجانے پر ایران کی سرزمین پر براہ راست حملے کے عزائم کا اعلان کرتے ہیں اور حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کھلی بدمعاشی،غنڈہ گردی اور دادا گیری پر دنیا میں کہیں کوئی موثر صدائے احتجاج بلند نہیں ہوتی، قوموں کی آزادی، ریاستوں کی علاقائی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جغرافیائی حدود کا تحفظ یقینی بنانے کی علم بردار مغربی طاقتیں اور عالمی ادارے اس کھلی فسطائیت پر مہر بلب ہیں۔

امریکی صدر نے کھلے لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، انہیں خود ان کے” دماغ” کے سوا کوئی طاقت کسی بھی فیصلے سے نہیں روک سکتی۔ اس کا تو صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس وقت دنیا میں جنگل کا قانون رائج ہوچکا ہے اور طاقت کے نشے میں مخمور امریکی صدر نے پوری دنیا کو امریکی کالونی سمجھنا شروع کردیا ہے۔ اب اس کے بعد دنیا میں بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟ یہ امر محتاج بیان نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عملی طور پر امریکا کی ریکارڈ اور رویہ یہی بتاتا ہے کہ وہ محض طاقت کے فلسفے پر ہی یقین رکھتا ہے، وہ چاہے تو ایک آزاد و خودمختار ملک عراق پر ممنوعہ ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجاسکتا ہے اور لاکھوں انسانوں کا قتل کرنے کے بعد ایک دن بڑی” معصومیت ”کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ”سوری! عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاع محض ایک افواہ تھی۔” وہ چاہے تو نائن الیون کا الزام افغانستان پر عائد کرکے وہاں کے لوگوں کو”آزادی” اور” جمہوریت ”دلانے کے لیے ان پر بی باون طیاروں سے کارپٹ بمباری کرسکتا ہے اورلاکھوں انسانوں کی جانیں لینے کے بعد ایک دن کابل کاا قتدار دوبارہ ”افغانوں کے دشمن” طالبان کے حوالے کرکے خود کابل سے راہ فرار اختیار کرسکتا ہے۔

اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اب یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ امریکا ایران میں کیا کچھ کرنا چاہتا ہے اور اس سے اسے کیا کچھ حاصل ہونے والا ہے ۔ بین الاقوامی تعلقات کے موضوع کے طلبہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایران میں اگر لوگ اپنے معاشی مسائل کی وجہ سے اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں تو امریکا کو اس سے کیا غرض ہے اور امریکا کو ایرانی عوام سے ایسی کیا ہمدردی ہوگئی ہے کہ وہ ان کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے باقاعدہ جارحیت کے لیے پرتول رہا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے اور امریکی صدر کے بیانات اور مداخلت کے بعد ایرانی عوام کو بھی اس بات کی سمجھ آگئی ہے کہ مہنگائی اور معاشی مسائل محض ایک بہانہ ہیں، اصل میں امریکا ایران میں اپنے پٹھو سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کو اقتدار میں لانا چاہتا ہے تاکہ ایران کے وسائل بالخصوص تیل کی دولت پر بھی قبضہ کیا جاسکے اور امریکی لے پالک اسرائیل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جاسکے جس کو گزشتہ برس ایران کے بیلسٹک میزائلوں سے اچھی خاصی مار پڑی تھی۔ باخبر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران اسرائیل جنگ میں مداخلت کرکے جنگ رکواکر دراصل اسرائیل کو بچا لیا تھا اور اس جنگ کے بعد سے ہی امریکا اور اسرائیل کی ایجنسیوں نے ایران میں رجیم چینج کے لیے زمین ہموار کرنے کا کام تیز کردیا تھا۔ امریکی و مغربی اقتصادی پابندیوں اور کچھ اپنی غیر دانشمندانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کے باعث ایران میں افراط زر قابو سے باہر ہوگیا توتاجروں اور عوام نے اس پر احتجاج شروع کردیا اور امریکی و اسرائیلی ایجنسیوں کی بن آئی اور انہوں نے اس احتجاج کو پر تشدد بنانے اور رجیم چینج کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جس کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی قاتل وزیر اعظم نیتن یاہو نے کھل کر تشدد کرنے والوں کی حمایت کی مگر ان کی اس حمایت نے بالآخر بیک فائر کردیا اور جب ایرانی عوام کو اندازہ ہوگیا کہ اس ساری مہم کے پیچھے امریکی و صہیونی لابی کھڑی ہے تو انہوں نے احتجاج سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور اتوار کے روز لاکھوں ایرانیوں نے سڑکوں پر نکل کر بیرونی مداخلت کے خلاف قومی یکجہتی کا اظہار کردیا جس کے بعد امریکی صدر نے جھنجھلاہٹ کے عالم میں ایران کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

عالمی ذرائع ابلاغ نے اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ سرکار ایران پر گزشتہ برس کے حملے کے طرز پر براہ راست بمباری ہوسکتی ہے۔ ایک امریکی نجی ٹی وی نے پینٹاگون ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار حکمت عملی میں خفیہ طریقے بھی شامل ہو سکتے ہیں جن میں سائبر کارروائیاں اور ایرانی قیادت کے خلاف نفسیاتی حربے استعمال کیے جا سکتے ہیں لیکن عالمی امور کے ماہر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران میں وینزویلا جیسی کارروائی کو دوہرانا شاید ممکن نہیں ہو گا۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران بہر حال وینزویلا نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پینٹاگون حکام نے امریکی صدر کو ایران پر حملے کے ممکنہ عواقب و مضمرات سے خبردار کیا ہے اور نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ بغیر تیاری کے ایران پر حملہ امریکا کو مہنگا پڑسکتا ہے۔ مگر امریکی صدر ٹرمپ کی نفسیات اور موجودہ ذہنی کیفیت سے واقف مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سرکار سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ایران پر حملے کی صورت میں ممکن ہے کہ کچھ مغربی و یورپی ممالک بھی خاموش رہ کر امریکا کی حمایت کریں تاہم امریکی صدر کو اگر ”شہنشاہ عالی” اور ” فاتح عالم” بننے کے خبط سے نہیں نکالا گیا اور انہیں آزاد اور خودمختار ممالک کے اندر مداخلت ،کمزور اور ترقی پذیر ممالک کے قدرتی وسائل پر ڈاکے ڈالنے اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے سے نہیں روکا گیا تو اس سے پوری دنیا کا امن و استحکام تہ و بالا ہوسکتا ہے اور دنیا ایک بار پھر قرون مظلمہ کی طرح خوفناک جنگوں اور کشت و خون کی آماجگاہ بن سکتی ہے۔