غزہ/نیویارک/قاہرہ:اسرائیلی بمباری سے پہلے ہی زخموں سے چور غزہ ایک اور المیے کا شکار ہو گیا، جہاں شدید سردی اور طوفانی موسم نے مزید قیمتی جانیں نگل لیں۔
مقامی صحت حکام کے مطابق آنے والے شدید طوفان کے دوران تباہ حال عمارتیں اور دیواریں گرنے سے کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہو گئے جن میں دو خواتین، ایک بچی اور ایک مرد شامل ہیں۔غزہ سٹی کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال نے بتایا کہ جاں بحق افراد کی لاشیں ہسپتال منتقل کی گئیں جبکہ کئی دیگر افراد شدید زخمی ہیں۔
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ دو سال سے زائد عرصے کی مسلسل اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ کے عوام خطرناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اگرچہ 10 اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہے تاہم خوراک، ایندھن اور محفوظ پناہ گاہوں کی شدید کمی نے لوگوں کو سردی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک سالہ معصوم بچہ رات کے وقت شدید سردی کے باعث ہائپوتھرمیا سے جاں بحق ہو گیا۔خلیجی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس سے ایک رات قبل بھی دو بچے ناکافی پناہ اور یخ بستہ موسم کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
سردی خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔دفاع شہری کے ترجمان محمود بصل نے خبردار کیا کہ منگل سے شروع ہونے والا قطبی طوفان تقریباً 1.5 ملین فلسطینیوں کے لیے مہلک خطرہ بن سکتا ہے۔
محمود بصل نے مزید بتایا کہ صقر الدب نامی نوجوان منگل کے دن، اپنے خیمے میں موجودگی کے دوران غزہ شہر میں تباہ شدہ السرا مسجد کے مینار سے گرنے والے پتھروں سے زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہو گیا۔
اسی دوران قابض اسرائیل کے غزہ پر جاری جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد بڑھ کر 71 ہزار 412، زخمیوں کی تعداد 171 ہزار 314 ہو گئی ہے جبکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے یا سڑکوں پر زیرِ زمین ہیں۔
غزہ میں 11 اکتوبر سے جنگ بندی کے آغاز کے بعد شہداء کی تعداد 442 ہو گئی، زخمیوں کی تعداد 1236 تک پہنچ گئی، جبکہ 688 لاشیں بازیاب کی گئی ہیں۔دریں اثناء قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح سویرے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کی وسیع مہم شروع کی جس کے دوران فلسطینی شہریوں کی گرفتاریاں کی گئیں اور ان پر شدید تشدد کیا گیا۔
مقبوضہ القدس میں قابض اسرائیلی فوج نے شہر کے شمال مشرق میں واقع شعفاط کیمپ اور راس خمیس پر دھاوا بولتے ہوئے آٹھ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔اسی دوران قابض افواج نے تحریک فتح کے نائب سیکرٹری ابو علی الکلونی اور عین السلطان کیمپ کے ایک اور شہری پر وحشیانہ تشدد کیا اور کئی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔
جنین کے جنوب میں واقع بلدہ قباطیہ میں قابض اسرائیلی فوج نے اسیر احمد ابو الرب کے گھر کو دھماکے سے اڑادیا جو عفولہ اور بیسان کی کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل متعدد فوجی گاڑیوں کے ساتھ بلدہ کا محاصرہ کیا گیا اور اہل خانہ کے گھر کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
قابض اسرائیل نے قباطیہ کے رہائشیوں کو گھر کی مسماری سے قبل عارضی طور پر اپنے مکانات خالی کرنے پر مجبور کیا۔اسی طرح قابض اسرائیلی بلڈوزروں نے سلفیت کے مغرب میں واقع بلدہ کفر الدیک میں ایک فلسطینی گھر کو منہدم کر دیا۔
قابض افواج نے رام اللہ کے الطیرہ محلے اریحا شہر کے عقبہ جبر کیمپ نابلس کے مغرب میں بلدہ زواتا اور جنوب مشرق میں بلدہ عورتا پر بھی یلغار کی۔مزید یہ کہ قابض اسرائیلی افواج نے قلقیلیہ کے شمال میں بلدہ جیوس طوباس شہر بلدہ عناتا کے ضاحیہ السلام اور مقبوضہ القدس کے شمال مشرق میں واقع شعفاط کیمپ پر بھی دھاوے بولے۔
ان تمام کارروائیوں کے دوران قابض افواج کی بڑی تعداد میں تعیناتی کی گئی اور مختلف شہروں اور دیہات میں مسلسل فوجی کمک پہنچائی جاتی رہی جس سے پورے علاقے میں خوف اور محاصرے کی کیفیت طاری رہی۔طولکرم میں مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی افواج نے شہر میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر شہید ریاض بدیر کے بیٹے نوجوان عبد الفتاح بدیر کو گرفتار کر لیا۔
ادھر اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد گزشتہ تین ماہ کے دوران غزہ میں کم از کم 100 بچے اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق مرنے والے بچوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں شامل ہیں۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود روزانہ اوسطاً ایک بچہ جان سے جا رہا ہے۔یونیسیف کے مطابق بچوں کی ہلاکتیں فضائی حملوں، ڈرون حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری اور براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ہو رہی ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بدھ کو ایک فلسطینی شہری کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی 95ویں روز بھی خلاف ورزیاں جاری رہیں، جبکہ فضائی اور توپ خانے کی بمباری ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی۔
دوسری جانب قابض افواج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے رفح کے مغرب میں واقع ایک علاقے میں چھ مسلح افراد کو ہدف بنا کر شہید کیا، دشمن فوج نے دعویٰ کیا کہ انہیں گذشتہ شب دیکھا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے فلسطینی ذرائع کی جانب سے کسی قسم کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی غزہ پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں 15 شہدا کی لاشیں پہنچائی گئیں جن میں دو نئے شہدا شامل ہیں جبکہ 13 شہدا کو ملبے سے نکالا گیا۔
وزارت صحت نے اپنی یومیہ رپورٹ میں بتایا کہ تاحال بڑی تعداد میں شہدا اور زخمی ملبے تلے اور سڑکوں پر دبے پڑے ہیں جبکہ ایمبولینس اور سول ڈیفنس کے عملے کی شدید ناکامی کے باعث وہ اس لمحے تک ان تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز شمالی مغربی کنارے میں جنین کے جنوب میں واقع بلدہ قباطیہ میں جرات مندانہ مزاحمتی کارروائی انجام دینے والے زخمی اسیر احمد ابو الرب کے گھر کو دھماکے سے اڑا دیا۔
قابض فوج نے بلدہ قباطیہ کے علاقے جبل الدامونی میں واقع اسیر احمد ابو الرب کے گھر پر دھاوا بولا اور اس کے بعد اسے دھماکے سے مسمار کر دیا حالانکہ اس سے قبل قابض حکام نے خاندان کو گھر ضبط کرنے اور مسمار کرنے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
حماس کی قیادت پرمشتمل وفد جس کی سربراہی خلیل الحیہ کر رہے ہیں قاہرہ پہنچاہے جہاں وہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد اور اس کی تکمیل پر غور کرے گا۔
حماس نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ وفد مصر کی قیادت سے ملاقات کرے گا تاکہ معاہدے کے تمام نکات کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا جا سکے اور پہلے مرحلے کو جاری رکھتے ہوئے رفح معبر دونوں طرف سے کھولنے کی کارروائی پر بات کی جائے۔
حماس نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں معاہدے کے دوسرے مرحلے کی جانب تیز رفتاری سے پیش رفت بھی شامل ہوگی جس میں انتظامی کمیٹی کا قیام اور قابض اسرائیل کی افواج کا غزہ سیکٹر سے مکمل انخلاء بھی زیر بحث آئے گا۔وفد کا مقصد فلسطینی قوتوں اور دھڑوں کے قائدین سے ملاقاتیں کرنا تاکہ غزہ اور مغربی کنارے میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی اور عملی حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگو تریس نے قابض اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کی امداد اور روزگار کے ادارے ‘انروا’ کو نشانہ بنانے والے قوانین منسوخ نہ کیے اور ضبط کی گئی جائیدادیں اور اثاثے واپس نہ کیے تو اسے عالمی عدالت انصاف میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
گو تریس نے تحریری مراسلے میں قابض اسرائیلی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو کو بتایا کہ اقوام متحدہ ان اقدامات پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی جو بین الاقوامی قانون کے تحت قابض اسرائیل کی ذمہ داریوں سے براہ راست متصادم ہیں اور اس لیے ان سے بلا تاخیر دستبردار ہونا لازم ہے۔

