پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول میسر ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اہم پریس کانفرنس میں سیکورٹی صورت حال اور دیگر اہم امور کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس وقت ریاست پاکستان کو سامنا ہے۔
بدقسمتی سے دہشت گردی کا عفریت کسی آکٹوپس کی مانند پاکستان کے قومی وجود سے اس طرح چمٹ چکا ہے کہ یہ آسانی سے جان چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں یہ ناسور محض سیکورٹی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ریاست، معیشت، سیاست اور سماج سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید معاشی دباؤ، مالیاتی خسارے اور بیرونی قرضوں کے بوجھ کے باوجود پاکستان کو اپنے قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاعی اخراجات اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر صرف کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کسی گہری اور منظم سازش کے تحت پاکستان کو مسلسل بے امنی کی دلدل میں الجھائے رکھا جا رہاہے تاکہ اس کی توانائیاں تعمیر و ترقی کی بجائے بقا کی جنگ میں صرف ہوتی رہیں۔ عشروں سے یہی ایک مشق ستم جاری ہے کہ ایک گتھی سلجھتی ہے تو دوسری الجھ جاتی ہے، یا جان بوجھ کر الجھا دی جاتی ہے۔ بے امنی اور عدم استحکام کی ایسی ڈور بنی گئی ہے کہ پاکستان چاہ کر بھی اس سے مکمل فرصت حاصل نہیں کر پا رہا۔ پاکستان میں دہشت گردی کا مرکز افغانستان ہے، دو ہزار اکیس میں طالبان حکومت آنے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کو اب سکھ کا سانس لینا نصیب ہوگا، مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا، بلکہ اس کے برعکس مسائل مزید الجھ گئے اور آج طالبان حکومت کے زیر سایہ خارجی جتھے پہلے سے زیادہ منظم انداز میں پاکستان کو وحشیانہ ترکتازیوں کا ہدف بنائے ہوئے ہیں اور پاکستان کو اب پہلے سے زیادہ اپنی توانائیاں ان مسائل سے نمٹنے کی جدوجہد میں صرف کرنا پڑ رہی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ملک کو شدید معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن، حکومتی اخراجات، عوام کو ریلیف کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل، یہ سب مسائل ایک طویل عرصے سے حکومت کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ کسی بھی معیشت کیلئے استحکام کا بنیادی تقاضا امن و امان ہے۔ جہاں خوف و بے یقینی کے سائے ہوں، وہاں سرمایہ کاری آتی ہے نہ ہی کاروبار پھلتا پھولتا ہے۔ یوں پاکستان کو بیک وقت معیشت اور امن دونوں محاذوں پر جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ اس نازک صورتحال میں ایک تیسرا محاذ سیاسی استحکام کا بھی ہے۔ سیکورٹی، معیشت اور سیاست، یہ تینوں مل کر ایک ایسی تکون تشکیل دیتے ہیں جس کا ہر گوشہ دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ کسی ایک کی کمزوری باقی دونوں کو بھی غیر مستحکم کر دیتی ہے۔ سیاسی انتشار سیکورٹی اقدامات کو متنازع بناتا ہے، معاشی فیصلوں پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور ریاستی بیانیے میں ابہام پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس سے دہشت گرد اور ان کے سرپرست فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے اپنی پریس کانفرنس میں اسی چیز کو نمایاں کرکے ذرا کھری باتیں بھی کہہ دی ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کی نیم دلانہ پالیسی اور مرکز گریز اقدامات کو اجاگر کیا ہے اور بجا کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی غیر سنجیدہ اور مرکز سے ہٹی ہوئی پالیسی کے باعث انسداد دہشت گردی کی کوششیں ثمر بار نہیں ہو پارہیں، ان کے بقول کے پی کے میں دہشت گرد عناصر کو سازگار سیاسی ماحول میسر ہے اور سیاسی و دہشت گردانہ گٹھ جوڑ پروان چڑھ رہا ہے۔اس معاملے کو روایتی الزام تراشی کی بجائے سنجیدہ نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ سیاست سے بالاتر قومی معاملہ ہے۔
دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے والی فورسز اور عوام کا حوصلہ اسی وقت بلند رہ سکتا ہے جب پوری قوم اس جنگ کے حوالے سے یکسو ہو۔ یہ ممکن نہیں کہ سپاہی اور افسر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں ہوں اور قوم کا کچھ حصہ شکوک و شبہات، باہمی الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں الجھا رہے۔ ایسی صورت میں نہ صرف فورسز کا مورال متاثر ہوتا ہے بلکہ دشمن کو نفسیاتی برتری بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ ترجمان فوج کی جانب سے افغانستان کے کردار پر اٹھائے گئے سوالات بھی اسی زنجیر کی کڑی ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر افغانستان پر دہشت گردی کی سپورٹ کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم بدقسمتی سے یہ الزامات حقیقت واقعہ بن کر آئے دن اپنا آپ ثابت کر دیتے ہیں اور نور ولی محسود اورگل بہادر جیسے پاکستان میں پے درپے ہونے والی دہشت گردی کے سرغنوں کی مسلسل افغانستان میں موجودی یہ ثابت کر رہی ہے افغان حکومت کو پاکستان کی تشویش اور پاکستان کے امن کی کوئی پروا نہیں ہے، ظاہر ہے ایسی لاپروا اور غیر سنجیدہ حکومت سے کوئی بھی ملک تعلقات بہتر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
افغان حکومت اس مسئلے کو جتنی جلدی سنجیدہ توجہ دے اور پاکستان کی تشویش دور کرنے کے قابل بھروسہ عملی اقدامات کرے اتنا پاکستان ہی نہیں، خود افغانستان اور پورے خطے کیلئے اچھا ہے، ورنہ پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے اور افغان عوام کو بھی ایک بار پھر کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ عالمی سطح پر اس کی شناخت بھی زیادہ تر سیکورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں قائم ہو گئی ہے۔ دنیا کا ہر سرمایہ کار، ہر ادارہ اور ہر ملک پاکستان کو اسی عینک سے دیکھتا ہے۔ اس تاثر کو بدلنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس کیلئے محض بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات، پائیدار امن، سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات کا تسلسل درکار ہے۔ دنیا اسی ملک پر اعتماد کرتی ہے جہاں پالیسیاں مستقل ہوں، ادارے مضبوط ہوں اور داخلی خلفشار کم سے کم ہو۔ آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈر، سیاسی قیادت، عسکری ادارے، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی، سب مل بیٹھ کر ایک جامع اور طویل المدتی قومی لائحہ عمل تشکیل دیں۔

