غزہ میں جنگ بندی کے باوجود قتل عام

قا بض و غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں اور فوجی جارحیت بدستور جاری ہے۔ غزہ میں صہیونی فوج کی جانب سے قتل عام کا سلسلہ پھر تیز کردیا گیا ہے۔ تازہ حملوں میں مزید 14فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ شہداء میں پانچ معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی اخبار ہارٹس کے مطابق نیتن یاہو حکومت نے مغربی کنارے میں مسلح صہیونی آباد کار غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو مغربی کنارے کی فلسطینی اراضی کو ہتھیانے کے لیے فلسطینیوں پر مسلح حملے اور ظلم و تشدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

غزہ میں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جاری ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب غزہ کے مختلف علاقوں میں اندھا دھند اور وحشیانہ بمباری کرکے بیسیوں بے گناہ فلسطینیوں کو شہید نہ کیا جاتا ہو۔ اسرائیلی فوج کسی پناہ گزین کیمپ کو دیکھتی ہے نہ ہسپتال کی پروا کرتی ہے۔ اس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قرار داد بہیمیت و سفاکیت سے باز رکھ پاتی ہے نہ بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے اس کا کچھ بگاڑ سکے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور کہلانے والا امریکا پوری بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اسرائیل کی پشت پر ہے اور دنیا میں کوئی ایسی طاقت موجود نہیں ہے جو صہیونی دہشت گردی کو لگام دے سکے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو خیر سے عدالت سے بد کرداری کا سرٹیفیکیٹ لے کر مسند صدارت بیٹھنے والے پہلے امریکی صدر ہونے کا ”اعزاز” اپنے نام کر چکے ہیں، جب بھی منہ کھولتے ہیں، اسرائیل کو غزہ میں جاری دہشت گردی روکنے کا انتباہ کرنے کی بجائے الٹا فلسطینیوں کو دھمکی دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے تو ان کے ساتھ بہت برا ہو جائے گا۔ مشرق وسطی سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی ساری سفارت کاری اسی ایک نکتے کے تحت گھومتی ہے کہ کس طرح قابض و ناجائز صہیونی ریاست کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور کس طرح نیتن یاہو کی قاتل اور سفاک حکومت کو بین الاقوامی عتاب اور عالمگیر نفرت کی لہر سے بچایا جائے ۔ مگر آج اسرائیل کے مظالم کی وجہ سے قوم یہود کو عالمی سطح پر جس طرح ہر جگہ ذلت اور حقارت کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے ،بہت سے عالمی مبصرین کے مطابق اس نے صہیونی تحریک کی مغربی دنیا سے ہمدردیاں بٹورنے کی عشروں کی پروپیگنڈا مہم کو زمین بوس کرکے رکھ دیا ہے اور آج یورپ میں اسرائیل کی حمایت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

عالمی برادری کی جانب سے غزہ میں مسلمانوں کے قتلِ عام پر اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا پر نفرین بھیجنا اپنی جگہ انسانیت کے ضمیر کی آواز ہے تاہم فلسطینی مسلمانوں کو اصل گلہ دنیا کے دو ارب مسلمانوں سے ہے۔ ایمانی غیرت، دینی حمیت، جذبۂ اخوت اور حکمت و بصیرت کا تقاضا تو یہی تھا کہ مسلم امہ غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے باہمی اتحاد کو بروئے کار لاکر داخلی انتشار پر قابو پاتی اور عالمی طاقتوں کو یہ پیغام ملتا کہ مسلم امہ کمزوری و انحطاط کے باوجود اپنے تحفظ کے ضمن باہم متحد ہے لیکن برا ہوان مفروضہ سیاسی مفادات، اقتصادی شراکتوں کے لالچ اور مستقبل کے منصوبوں کا جنہوں نے مسلم امہ سے تعمیر و استحکام کے اس جوہر کو ہی سلب کرلیا ہے جو ایمانی تناظر اور دینی بصیرت سے وجود میں آتا ہے اور عقل و دانش اور تجربے کے مطابق بھی کارِ جہانبانی کے لیے اصول کا درجہ رکھتا ہے۔ خودی، حمیت، فراست اور دانائی کا یہ جوہر دانشِ افرنگ پر بند آنکھوں کے ساتھ یقین کرلینے کی وجہ سے ضائع ہو چکا ہے۔ مسلم امہ کے عوام و خواص مغربی تہذیبی اقدار، افکار و نظریات اور زندگی کے معاملات کے حل کے لیے دانشِ افرنگ کے وضع کردہ اصولوں کو فطری اور حتمی خیال کر بیٹھے ہیں لہٰذا انہیں نظم و ضبط کے معاملات سے لے کر سیاسی، اقتصادی اور قانونی امور میں درپیش ہر معاملے کا حل مغربی عقل و خرد ہی میں دکھائی دے رہا ہے اور امت مسلمہ کا اپنا تشخص کہیں گم ہوچکا ہے۔ غزہ کے مسلمانوں کے قتلِ عام کے باجود مسلم امّہ بلاو جہ بے بسی کی تصویر ثابت نہیں ہورہی، اس کی ٹھوس وجوہ ہیں جن میں سے ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ داخلی اختلافات و تنازعات ہیں جن سے نجات پانے کے لیے ہمیں ترجیحات اور پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ مسلم ممالک کو عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ مسلمانوں کے درمیان جنگ و جدال کی باتیں کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ باہمی تنازعات کئی مسلم ممالک کو خانہ جنگی اور تباہی میں دھکیل چکے ہیں۔ دنیا کے دو ارب مسلمان مسلم حکمرانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہم اپنے داخلی اختلافات اور انتشار پر قابو نہ پا سکے اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں کو صہیونی درندوں کے ہاتھوں کٹتے اور مرتے ہوئے بس دیکھتے ہی رہ گئے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

ایران میں حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاج

ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراط زر کے خلاف تاجر برادری کی جانب سے دوہفتے قبل شروع کی جانے والی احتجاجی تحریک نے ایرانی قیادت کے لیے سنگین صورت حال پیدا کردی ہے اور حکومت کی جانب سے انٹر نیٹ کی بندش اور میڈیا بلیک آوٹ کے باوجود سامنے آنے والی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات حکومت کے قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ ایرانی قیادت نے ہنگاموں کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ ایرانی قیادت کا یہ دعوی تو غلط نہیں ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں جاری احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی قاتل وزیر اعظم نیتن یاہو کھلے عام ایران میں احتجاج کرنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں تاہم دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران کے عوام ولایت فقیہ کے عنوان سے قائم موجودہ رجیم سے بھی مایوس لگتے ہیں کیونکہ اس رجیم کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں اندرون ملک عوام کے معاشی حالات دگرگوں ہوچکے ہیں۔ ایران کی مذہبی قیادت نے جتنا سرمایہ اور توجہ پاسداران انقلاب کے ذریعے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے دیگرممالک بالخصوص شام،عراق،لبنان اور بحرین کے اندر مداخلت اور فرقہ واریت پھیلانے پر دی، اتنی توجہ اگر خود ایران کے عوام کی خوشحالی اور ترقی پر دی جاتی تو شاید آج ایران کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔