حکومت آزاد کشمیر اور حریت کانفرنس کی مشترکہ کال پر کشمیری عوام نے پیر کے روز ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں اور دنیا بھر میںاپنا ”یوم حق خودارادیت” منایا ۔ یاد رہے کہ 5 جنوری 1949 میں اقوام متحدہ نے ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کی توثیق کی گئی اور جموں و کشمیر کے عوام کو آزاد اور غیر جانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ مقام افسوس ہے کہ سات دہائیوں سے زاید عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا۔ بھارت پون صدی کے عرصے سے جموں و کشمیر پر ناجائز طریقے سے قابض اور وہاں کے عوام کو خودارادیت کا حق دینے سے انکاری ہے۔
اس کی اصل وجہ اقوام متحدہ پر تسلط رکھنے والی عالمی قوتوں بالخصوص امریکا اور برطانیہ کی منافقت ہے۔ ان طاقتوں نے اقوام متحدہ اور اس کی قرار دادوں کو ہمیشہ اپنے استعماری مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے جبکہ دنیا کے کئی خطوں بالخصوص کشمیر اور فلسطین کے عوام کواپنی جدی پشتی سرزمین پرآزادی اور خودمختاری کے ساتھ جینے کے اس حق سے مسلسل محروم رکھا جارہا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی روشنی میں ان کو آج سے پون صدی قبل مل جانا چاہیے تھا۔ برطانیہ مسئلہ کشمیر کا اصل ”موجد” ہے اور یہ انگریز سرکار کی ہی مہربانی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پون صدی سے ایک عذاب کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ برطانیہ نے تقسیم کے وقت سراسر زیادتی اور بے ایمانی کرکے کشمیر بھارت کی جھولی میں ڈال دیا اور آج بھی اس پر کوئی ندامت نہیں کہ اس نے ایک خطے کے کروڑوں عوام پر کتنا بڑا ظلم کیا ہے، ورنہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کی ضرور کوشش کرتا اور بھارت پرکم از کم استصواب رائے کے قانونی تقاضے پر عمل کے لیے دباؤ ڈالتا۔ اسی طرح دور حاضر کی سپر پاور کہلانے والے ملک امریکا کا کشمیر کے بارے میں رویہ بھی تقریباً اسی طرح کا ہے جیسے اس نے فلسطین کے مسئلے میں پون صدی سے اپنایا ہوا ہے۔ اس کی نظر میں بھارت اور اسرائیل کی نہتے مسلمانوں کے خلاف تمام تر ریاستی دہشت گردی ” حق دفاع” ہے اور مقبوضہ علاقوں کے عوام کی اپنے حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد ”دہشت گردی”۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالی قوتوں پر تکیہ کرکے بیٹھ جانا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں اب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی متبادل حکمت عملی سوچنا ہوگی۔
یہاں اس حقیقت کو ذہن میں رکھناضروری ہے کہ کشمیر کا قضیہ صرف کشمیری مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ خود پاکستان کا بھی ایک طرح سے ذاتی مسئلہ ہے۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بجا طور پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تنازع کشمیر بر صغیر کی تقسیم کے ایجنڈے کا نامکمل حصہ ہے اور جب تک یہ مسئلہ طے نہیں کیا جاتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد کا تعین حتمی نہیں ہوسکتا اور ظاہربات ہے کہ یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ہمیشہ ایک تنازع کا باعث بنا رہے گا اور خطے کے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار رہیں گی۔ اس لیے مسئلہ کشمیر کا پائے دار اور منصفانہ حل نہ صرف کشمیر کے تین کروڑ شہریوں کے مستقبل کے لیے اہم ہے بلکہ اس پر پورے جنوبی ایشیا کے امن واستحکام کا انحصار ہے۔ اس سلسلے میں بھارت سے یہ امید لگائے رکھنا کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر کسی نہ کسی دن خود ہی کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے گا، خود فریبی ہوگی۔ یہ بھارت ہی ہے جو روز اول سے ہٹ دھرمی، نخوت اور غیر منطقی طرز عمل پر اڑا ہوا ہے۔ تقسیم برصغیر کے بعد جب کشمیر کے لوگوں نے انگریز سرکار اور بھارت کی ملی بھگت سے ڈوگرہ سرکار کے ذریعے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے فیصلے کے خلاف بغاوت کردی اورپاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے میدان عمل میں اترے تو بھارت بوکھلاہٹ کے عالم میں خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے کر گیا اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا کہ اقوام متحدہ جو فیصلہ کرے گی، بھارت اسے قبول کرلے گا لیکن جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ قرار داد پاس کی کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کے استصواب رائے سے طے کیا جائے اور بھارتی حکومت کشمیریوں کو خود ارادیت کا حق دے تو بھارت یکدم اپنے قول و قرار سے پھر گیا اور کشمیر میں استصواب رائے کا انتظام کرنے کی بجائے ”اٹوٹ انگ” کی نئی رٹ لگاکر کشمیریوں کو فوجی طاقت کے ذریعے دبائے رکھنے کا سلسلہ شروع کردیا جس کو کشمیری عوام نے ایک لمحے کے لیے بھی قبول نہیں کیا۔ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد روزاول سے جاری ہے اور پاکستان نے بھی اس قضیے کے ایک فریق کی حیثیت سے کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کی ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان دو بڑی اور متعدد چھوٹی جنگیں ہوچکی ہیں اور کئی دفعہ دوایٹمی قوتوں کے درمیان خوفناک جنگ ہوتے ہوتے بچی ہے۔ تنازع کشمیر کا پائے دار اور منصفانہ حل آج بھی وہی ہے جو آج سے پون صدی قبل اقوام متحدہ نے قرار دیا تھا کہ عالمی ادارے کے زیر اہتمام منصفانہ اور شفاف استصواب رائے منعقد کرکے جموں اور کشمیر کے عوام کو یہ فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ۔ اس کے بغیر برصغیر میں پائے دار امن واستحکام کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا۔
مولانا فضل الر حیم اشرفی کا سانحۂ ارتحال
ممتاز عالم دین، جامعہ اشرفیہ لاہور کے سرپرست اعلیٰ حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی بھی راہیٔ دار بقا ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی بزرگانِ دین کی یکے بعد دیگرے رحلت ملک و ملت کے لیے سخت رنج و الم کا لمحہ ہے۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی کا شمار ملک کی ان موقر علمی و روحانی شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی ساری زندگی دین متین کی خدمت و تعلیم میں صرف کردی اور جن کا ان کی ملی خدمات کی بنا پر ہر طبقے میں بہت احترام کیا جاتا تھا۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی نے اپنے عظیم علمی خانوادے سے جامعہ اشرفیہ جیسے مایہ ناز علمی ادارے کی صورت میں جو ورثہ پایا تھا، اسے نہایت امانت داری، محنت، سلیقے اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا اور اپنی بے پناہ مساعی سے اسے خوب خوب ترقی دی ۔ انہوں نے پاکستان کی سلامتی، تحفظ اور قومی و ملی وحدت کے لیے بھی ہمیشہ صف اول میں رہ کر جدوجہد کی۔ اللہ تعالیٰ مولانا فضل الرحیم اشرفی کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق کی ارزانی فرمائے۔

