ایران پرامریکی حملے کا خدشہ،قطر بیس پر ہلچل(عرب ریاستوں کی جنگ روکنے کی کوششیں)

تہران/لندن/ نیویارک:ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش نظر متعدد ممالک نے حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اپنے سفارت خانوں اور شہریوں کے لیے الرٹ جاری کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں 28 دسمبر سے جاری شدید عوامی احتجاجی تحریک کے دوران امریکا کی انٹری سے حالات میں خطرناک حد تک کشیدگی بڑھ گئی۔رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر میں قائم امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید پر تعینات بعض امریکی فوجی افسران کو فوجی اڈّہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تین سفارتی ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے جس کا مطلب امریکی بیس سے فوجیوں کا باضابطہ انخلا نہیں۔ایک سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو یہ بھی بتایا کہ یہ محض فوجی پوزیشن میں تبدیلی ہے کسی ہنگامی انخلا کا حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ادھرایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست رابطے منقطع ہو گئے ہیں جس کے بعد ممکنہ حملوں کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے معطل ہوچکے ہیں۔

دریں اثناء اسرائیل اور عرب ریاستوں نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ فی الحال ایران پر حملہ نہ کرے۔امریکی ٹی وی کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور عربوں کا خیال ہے ایران پر حملے کے بجائے ایرانی حکومت کو مزید کمزور کیا جائے۔

امریکی ٹی وی کے مطابق کچھ عرب حلقوں کو خدشہ ہے کہ امریکا کا فوری حملہ ایرانیوں کو کہیں متحد نہ کردے۔ادھرایران نے ٹرمپ کی دھمکی پر جواب دیا ہے کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈّوں اور تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے نہ صرف امریکا کو جواب دیا بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو بھی مطلع کیا کہ امریکا نے حملہ کیا تو ان ممالک میں موجود امریکا کے فوجی اڈّے اور تنصیبات کو بھی دشمن سمجھا جائے گا۔

ایرانی حکام نے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک سے مقامی انٹیلی جنس کو متحرک اور سیکورٹی اداروں کو چوکنا رکھنے کی درخواست کی ہے تاکہ امریکا ان فوجی اڈوں کو ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ کرے۔

دوسری جانب ایران میں دو ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیاہے، احتجاج رکنے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے، انٹرنیشنل کالز بحال کردی گئیں تاہم انٹرنیٹ سروس ابھی بند ہے۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس حکام کا کہناہے کہ متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکا خیز مواد اور اسلحہ پکڑ ا گیا ہے۔

امریکی انسانی حقوق تنظیم نے دعویٰ کیا کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 2403 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا نے ملٹری آپریشن کی کوشش کی تو ایران تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے ملک میں مہنگائی کے خلاف جائز احتجاج کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا، مظاہرین سے ریلیف کی بات چیت جاری تھی کہ ٹرمپ کو مداخلت کا موقع فراہم کرنے کے لیے سازش کے تحت مظاہروں کو پرتشدد کردیا گیا تاکہ ایران کے خلاف بیرونی فوجی طاقت کا ممکنہ جواز تلاش کیا جا سکے ۔

ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ یہ بیان انہوں نے امریکی صدر اور وائٹ ہاس کے کئی اہلکاروں کی حالیہ دھمکیوں کے ردِعمل میں دیا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق، پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جنرل ناصر زادہ نے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے جون 2025ء میں ہونے والی 12 روزہ امریکی-اسرائیلی جارحیت کے دوران کی نسبت کہیں زیادہ تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران کے پاس کئی ایسے سرپرائز موجود ہیں جو انتہائی موثر ثابت ہوں گے۔ ایران کے چیف آف اسٹاف، میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کے سیکورٹی اہلکار کسی بھی موقع پر غیر ملکی مدد یافتہ دہشت گردوں کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے جون 2025ء کی 12 روزہ جنگ میں اپنے نقصانات کی تلافی کے لیے داعش طرز کے دہشت گرد ایران بھیجے تاکہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کریں۔