امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف مقامات پر حملے کر کے وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو اغوا کر کے نیویارک پہنچا دیا ہے، جبکہ وینزویلا حکومت کا کہنا ہے کہ ان امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کا حکم دیا اور وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں دھماکوں کی متعدد آوازیں سنی گئیں جبکہ چند مقامات پر آگ بھڑکتی دکھائی دی۔ وینزویلا کی حکومت نے تصدیق کی کہ حملے کا کراکس، میرانڈا، آراگوا اورلاگویرا ریاستوں میں ہوئے ہیں، ان امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا ہے۔ وینزویلا حکومت نے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا، ہم امریکا کی فوجی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں۔
یہ اقدام عالمی نظام، جمہوریت اور انسانی وقار کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں پر امریکی حملے اور پھر ایک منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا یہ سب کسی فلمی اسکرپٹ کا حصہ نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں دنیا کے سامنے ہونے والی ایک حقیقی، آمرانہ اور جابرانہ کارروائی ہے۔ اس کارروائی کا کوئی اخلاقی، قانونی یا جمہوری جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واضح حقیقت ہے کہ یہ اقدام وینزویلا کی جانب سے امریکی مرضی اور منشا کے آگے سر جھکانے سے انکار کی سزا ہے۔ امریکا، جو خود کو دنیا میں جمہوریت کا سب سے بڑا چیمپئن اور انسانی حقوق کا محافظ قرار دیتا ہے، اسی امریکا نے ایک آزاد، خود مختار اور اقوام متحدہ کے رکن ملک کی سرحدوں کو پامال کیا، اس کے دارالحکومت پر حملہ کیا اور اس کے منتخب صدر کو بزور طاقت اغوا کر کے نیویارک منتقل کر دیا۔ یہ صرف وینزویلا کی خود مختاری پر حملہ نہیں بلکہ پوری دنیا میں جمہوری اقدار کے جنازے کے مترادف ہے۔ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کا اغوا ایک انتہائی قابلِ مذمت اور شرمناک فعل ہے۔ یہ واقعہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، عالمی عدالت انصاف اور تمام بین الاقوامی اداروں کے وجود پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک سپر پاور کھلے عام یہ اعلان کر دے کہ وہ جس ملک کے صدر کو چاہے اغوا کر سکتی ہے تو پھر بین الاقوامی قانون، ریاستی خود مختاری اور سفارتی آداب محض کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں رہ جاتے۔
امریکا نے عملاً یہ پیغام دے دیا ہے کہ دنیا میں جمہوریت نہیں، صرف طاقت کا قانون ہے۔ جو طاقتور ہے وہی حق پر ہے اور جو کمزور ہے وہ محض ایک شکار۔ یہ روش نہ صرف خطرناک ہے بلکہ پوری دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے، جہاں ہر طاقتور ملک اپنے ناپسندیدہ کمزور ملک کے حکمران کے خلاف اسی امریکی ماڈل کو اپنائے گا۔ اس سارے واقعے میں سب سے زیادہ شرمناک پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو کسی خفیہ یا دفاعی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گویا کسی منتخب صدر کا اغوا ایک قابلِ ستائش کارنامہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی آئین اور قانون کے تحت صدر ٹرمپ ایسی کارروائی امریکا کی کسی ریاست کے گورنر کے خلاف بھی کرنے کے مجاز نہیں، چہ جائیکہ وہ ایک آزاد ملک کے صدر کے خلاف اس قسم کی کھلی جارحیت کریں۔ اغوا کے بعد صدر مادورو کے خلاف مبینہ جرائم کی چارج شیٹ جاری کرنا بھی اسی جبر کا تسلسل ہے۔ دنیا کی کسی بھی آزاد اور خود مختار عدالت میں ایسی چارج شیٹس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر جرم کی بات کی جائے تو صدر مادورو پر لگائے گئے تمام الزامات سے کہیں بڑا جرم خود صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے انجام دیا ہے، جو ایک آزاد ملک پر حملہ، اس کی قیادت کا اغوا اور اس کی خودمختاری کی پامالی ہے۔ یہ بھی رپورٹس میں آ چکا ہے کہ اس اغوا کی منظوری کئی دن پہلے دی جا چکی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی، منصوبہ بند اور دانستہ جارحیت تھی۔ اس جرم میں شامل تمام افراد چاہے وہ سیاسی قیادت ہو، عسکری کمان ہو یا انٹیلی جنس ادارے سب کو عالمی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے کسی ملک میں رجیم چینج کے لئے طاقت کا استعمال کیا ہو۔ وینزویلا کے ساتھ ساتھ امریکی نگاہیں ایران پر بھی جمی ہوئی ہیں، جہاں مہنگائی اور معاشی مسائل کے خلاف عوامی احتجاج کو رجیم چینج کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو خود اعتراف کر چکے ہیں کہ ایرانی احتجاج کو موساد کے ایجنٹ ہوا دے رہے ہیں۔ اس اعتراف کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وینزویلا میں نظر آنے والی عوامی ہلچل کے پیچھے بھی سی آئی اے کا کردار موجود ہوگا۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی ملک کے عوام کو اپنی حکومت سے شکایات ہیں تو احتجاج اس ملک کا داخلی معاملہ ہوتا ہے۔ کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت نہ صرف غیر جمہوری بلکہ صریح جارحیت کے زمرے میں آتی ہے مگر بدقسمتی سے امریکا، جو جمہوریت کا سب سے زیادہ راگ الاپتا ہے، دنیا کے ہر خطے میں انہی مداخلتوں اور خونریزیوں کا سب سے بڑا مرتکب ہے۔ صدر مادورو کا اصل ”جرم” یہی تھا کہ انہوں نے امریکی احکامات کے آگے سر جھکانے سے انکار کیا۔ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے اور امریکا اس دولت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ہیوگو شاویز ہوں یا نکولس مادورو، دونوں اس لوٹ مار کی راہ میں رکاوٹ تھے۔
صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اب وینزویلا کے تیل کے ذخائر کا انتظام امریکا سنبھالے گا، اس پوری جارحیت کا نچوڑ ہے اور یہی امریکی جارحیت کی بنیاد ہے۔ یہ بیان اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ یہ جنگ جمہوریت، انسانی حقوق یا قانون کے لئے نہیں بلکہ تیل اور معدنیات کے لئے ہے۔ وینزویلا کی حکومت نے اس بیان کو مسترد کیا ہے، مگر یہ کافی نہیں۔ وینزویلا کو چاہیے کہ وہ نہ صرف امریکی دباؤ کو مکمل طور پر مسترد کرے بلکہ عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کے تمام فورمز پر صدر مادورو کے اغوا اور قومی خود مختاری کی پامالی کے خلاف کیسز دائر کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد دنیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کھلی امریکی غنڈا گردی کو متفقہ طور پر رد کرے۔ اگر آج دنیا خاموش رہی تو کل ہر کمزور ملک کی باری ہوگی۔ امریکا کی یہ آمریت اگر نہ روکی گئی تو بین الاقوامی نظام مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ دنیا واضح الفاظ میں کہے طاقت کے زور پر جمہوریت نہیں چلائی جا سکتی اور امریکی آمریت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

