وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی مشکلات پیدا کیں، ہم دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کو ہمسایہ ممالک سے مکمل سپورٹ دی جارہی ہے، فیلڈ مارشل دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوج کی قیادت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے بلوچستان میں سڑکوں کے جال بچھائے، بلوچستان میں ترقیاتی کام کوئی احسان نہیں ہمارا فرض ہے، مشاورت اور بھائی چارے کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو چیلنجز ہیں ان کا سرجوڑ کر حل تلاش کرنا ہے۔ بعدازاں انہوںنے کوئٹہ میں ایک تقریب میں کراچی تا چمن چار رویہ سڑک کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ یہ شاہراہ دو برس میں مکمل ہوگی۔
ملک اس وقت جس دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ بے امنی اور دہشت گردی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہ محض چند علاقوں یا صوبوں تک محدود مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پورے ملک پر پڑ رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان اس آگ کی لپیٹ میں سب سے زیادہ ہیں، جہاں مسلسل دہشت گردی اور بدامنی نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا حقیقت پر مبنی ہے کہ دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی حالات کو مشکل بنا دیا ہے اور جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا، چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ یہ عزم اور ارادہ اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردی اور بے امنی کے اثرات محض جان و مال کے نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پورے معاشرتی، معاشی اور ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ بے امنی کا سب سے پہلا اور واضح اثر انسانی جانوں کے عدم تحفظ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں لوگوں کو اپنی جان، اپنے بچوں اور اپنے مستقبل کا تحفظ نظر نہ آئے تو وہ معاشرہ اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ خوف اور عدم اعتماد فضا پر حاوی ہو جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے کٹنے لگتے ہیں اور ریاست پر اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ خلا ہوتا ہے جسے دہشت گرد اور بیرونی آلہ کار اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے یہی صورتحال ہے۔
دہشت گردی اور بے امنی کا ایک خطرناک پہلو اس کے معاشی اثرات ہیں۔ معیشت کا بنیادی تقاضا امن و استحکام ہے۔ جہاں روزانہ دھماکوں، حملوں اور بدامنی کی خبریں ہوں، وہاں کوئی بھی سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے کا رسک نہیں لیتا۔ مقامی صنعت کار بھی یا تو کاروبار سمیٹ لیتے ہیں یا دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً روزگار کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وہ چکر ہے جو دہشت گردی زدہ علاقوں کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ بلوچستان کی مثال اس حوالے سے سب سے زیادہ واضح ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ سڑکیں، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ جب نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار میسر نہ ہو تو وہ مایوسی کا شکار ہوتے ہیں اور یہی مایوسی دہشت گرد تنظیموں کیلئے سب سے آسان شکار ثابت ہوتی ہے۔ حکومت اگر محض عسکری کارروائیوں تک خود کو محدود رکھے اور سماجی و معاشی پہلوؤں کو نظرانداز کرے تو مسئلے کی جڑ پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے محض شاخیں کاٹنے کے مترادف ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور آج بھی ایک منظم اور مربوط نظام کے تحت ملک بھر میں کارروائیاں جاری ہیں۔ فورسز کی ان کوششوں کی بدولت دہشت گرد بڑے پیمانے پر اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہیں، تاہم دہشت گردی محض ایک سیکورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک جامع قومی مسئلہ ہے، جس کے حل کیلئے حکومت، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
وزیراعظم کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کو وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں اور بلوچستان کیلئے ماضی میں بھی اضافی وسائل کی فراہمی میں پنجاب نے کردار ادا کیا، مگر وسائل کی محض تقسیم کافی نہیں، اصل مسئلہ ان وسائل کا شفاف، منصفانہ اور مؤثر استعمال ہے۔ ترقیاتی منصوبے عوامی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر بنائے جائیں اور ان پر بروقت عملدرآمد ہو تو وہ حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر ترقیاتی منصوبے کاغذی کارروائیوں اور افتتاحی تقریبات تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کراچی تا چمن شاہراہ کی مرمت و توسیع کے منصوبے کا افتتاح ایک مثبت پیشرفت ہے۔ یہ شاہراہ نہ صرف بلوچستان کے اندر آمدورفت کیلئے اہم ہے بلکہ ملک کی مجموعی معاشی سرگرمیوں کیلئے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ بہتر سڑکیں تجارت اور روزگار کو فروغ دیتی ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ایسے منصوبے صرف چند شہروں یا شاہراہوں تک محدود نہ رہیں۔
دہشت گردی کے مسئلے کا ایک اہم پہلو بیرونی مداخلت ہے، جس کی طرف وزیراعظم نے اشارہ کیا کہ فتنہ الخوارج کو ہمسایہ ممالک سے مکمل سپورٹ دی جا رہی ہے۔ اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، مگر اس کے ساتھ ساتھ اندرونی کمزوریوں کا علاج بھی ضروری ہے۔ اگر عوام خود کو محروم، نظرانداز اور دیوار سے لگا ہوا محسوس کریں گے تو بیرونی طاقتوں کیلئے انہیں استعمال کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس لیے قومی سلامتی کی پالیسی کو وسائل کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ چیلنجز کا حل سر جوڑ کر تلاش کرنا ہوگا، دراصل مسئلے کا نچوڑ ہے۔ دہشت گردی اور بے امنی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا جماعت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، سیاسی جماعتوں، صوبائی حکومتوں اور عوام کو ایک مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہونا ہوگا۔ باہمی اعتماد، مشاورت اور مسلسل عملدرآمد ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو اس دلدل سے نکال سکتا ہے۔ جب تک بلوچستان اور خیبرپختونخوا جیسے پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں حقیقی معنوں میں شامل نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ امن و استحکام کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی اور مضبوط معیشت کے بغیر پائیدار امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست اس مسئلے کو وقتی ردعمل کی بجائے طویل المدتی قومی حکمت عملی کے تحت حل کرے۔

