کراچی: شہر قائد کے تاجروں نے ایس ایس جی سی کی جانب سے اوگرا کو گیس ٹیرف میں مزید اضافے کی درخواست مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ریحان حنیف نے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو جمع کرائی گئی مالی سال2026ـ27 کے لیے گیس ٹیرف میں نمایاں اضافے کی درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قومی معیشت اور صنعتی بقا کے وسیع تر مفاد میں اس تجویز کو مسترد کیا جائے۔
زبیر موتی والا نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر فوری مداخلت کرتے ہوئے فوری نوٹس لیں، گیس قیمت 6855 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک جانے کا امکان ہے۔ ،محمد ریحان حنیف کا کہنا ہے کہ ایس ایس جی سی کی جانب سے 121 فیصد اضافے کی درخواست غیر منصفانہ ہے، صنعتی صارفین پر 956 ارب روپے کے خسارے کا بوجھ ڈالنے کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے اس اضافے کو مکمل طور پر بلاجواز اور غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسے علیحدہ طور پر بھی دیکھا جائے تو ایس ایس جی سی کی جانب سے 121 فیصد اضافے کی درخواست جس کے تحت قیمت تقریباً 3 ہزار 935 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ درخواست درحقیقت گیس ٹیرف کو سروس کی حقیقی لاگت کے بجائے ماضی کی مالی بدانتظامیوں اور ناکامیوں کی وصولی کا ذریعہ بنا رہی ہے۔زبیر موتی والا اور ریحان حنیف نے کہا کہ ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل دونوں کو پہلے اپنے مالی خساروں کی اصل وجوہات کو شفاف انداز میں سامنے لاکر حل کرنا چاہیے نہ کہ ٹیرف میں بھاری اضافہ کیا جائے۔

