بنگلا دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر ثاقب صداقت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت کا حجم حالیہ عرصے میں 20 فیصد اضافے سے ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز کے زیر اہتمام ڈسکشن سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا کہ براہ راست پروازوں اور شپنگ روابط سے دوطرفہ تجارت کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا، کراچی کے بعد لاہور سے بھی ڈھاکا کے لیے پروازیں شروع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان شپنگ روابط کو فروغ دیا جائے گا، بنگلا دیش کے سرکاری افسران کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، یہ دورہ حکومتی اور عوام سے عوام کے رابطوں کو مضبوط بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا کہ دو طرفہ تجارت کے حجم میں آنے والے دنوں میں اضافہ ہوگا، عالمی امن کی خاطر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کی کاوشیں لاحق تحسین ہیں۔
پیٹرن ان چیف کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز اکرام سہگل کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلا دیش دو ممالک لیکن ایک قوم ہیں، دونوں ملکوں کی نوجوان آبادی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش اور پاکستان کے درمیان تجارت پر ٹیریف کا خاتمہ ضروری ہے، بنگلا دیش کی چائے پر درآمدی ڈیوٹی ختم کی جائے تو پاکستان میں چائے کی قیمت 50 فیصد کم کی جا سکتی ہے۔
اکرام سہگل نے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ویزا آن ارائیول کی سہولت سے دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے میں مدد ملے گی۔
پیٹرن ان چیف کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلا دیش مشترکہ دفاعی سمجھوتہ کریں، دونوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دوسرے ملک پر جارحیت تصور کی جائے۔

