مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاں

(19 و 20اپریل 1994ء کو مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے ‘اکیسویں صدی کا چیلنج اور دینی صحافت’ کے عنوان سے دو روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں مختلف مذہبی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ مدیران جرائد نے شرکت کی۔ 19اپریل کو سیمینار کے دوسرے اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی نے مندرجہ ذیل مقالہ پیش کیا۔ اس نشست کی صدارت ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے کی۔)

مغرب کا مادی فلسفہ حیات جو سولائزیشن، انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے پر فریب نعروں کے ساتھ آج دنیا کے ایک بڑے حصے پر اپنی بالادستی کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے، انسانی معاشرہ کے لیے کوئی نیا فلسفہ نہیں ہے بلکہ نسل انسانی کے آغاز سے چلے آنے والے اسی فلسفہ حیات کی ترقی یافتہ شکل ہے جسے قرآن کریم نے ‘ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس’ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ فلسفہ جو وحی الٰہی اور علم یقینی کے بجائے انسانی خواہشات و مفادات اور عقل و شعور کے حوالے سے نسل انسانی کی راہ نمائی کا دعوے دار ہے۔ انسانی معاشرہ میں آج تک جتنے قوانین، ضابطوں اور اصولوں کی حکمرانی رہی ہے وہ بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہیں؛ ایک حصہ ان اصولوں اور قوانین و ضوابط پر مشتمل ہے جن کی تشکیل خود انسانی ذہن کی ہے۔ شخصی آمریت، بادشاہت، طبقاتی حکمرانی اور جماعتی ڈکٹیٹرشپ کے مراحل سے گزرتے ہوئے انسانی ذہن آج سولائزیشن اور جمہوریت کے نام سے ارتقا کی آخری منزل سے ہمکنار ہو چکا ہے۔ دوسرا حصہ اس نظام حیات کے تدریجی مراحل سے عبارت ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے اور جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر مختلف مراحل طے کرتا ہوا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی پر مکمل ہوگیا ہے۔ جبکہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کردہ نظام حیات قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی صورت میں موجود ہے۔

مغرب کا دانشور دنیا کو یہ نوید دے رہا ہے کہ انسانی معاشرہ کی فلاح و بہبود کے لیے انسانی ذہن جو کچھ سوچ سکتا تھا وہ سوچ چکا ہے اور اس کی کاوشوں کی معراج آج کے مغربی معاشرہ کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے، اب اس سے آگے بڑھنا انسانی ذہن کے بس میں نہیں ہے، اس لیے اس سے بہتر کسی نظام حیات کی توقع انسانی ذہن سے نہیں کرنی چاہیے۔ مغربی دانشور کا یہ کہنا بالکل درست ہے لیکن درست ہونے کے باوجود نامکمل ہے اس لیے کہ مغربی دانشور کے سامنے صرف انسانی ذہن کی کاوشیں ہیں اور وحی الٰہی کے تدریجی مراحل یا تو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں یا اس نے جان بوجھ کر اس حقیقت سے گریز اختیار کر رکھا ہے جبکہ حالات کی اصل تصویر یوں ہے کہ ایک طرف انسانی ذہن کے تشکیل کردہ نظام ہائے حیات ہیں جن کی آخری اور ترقی یافتہ شکل مغربی فلسفہ و تہذیب کی صورت میں دنیا کے ایک بڑے حصے پر تسلط جمائے ہوئے ہے اور دوسری طرف وحی الٰہی کا پیش کردہ نظام حیات ہے جس کا مکمل نمونہ خلافت راشدہ کی صورت میں انسانی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ اب یہ دونوں نظام ہائے حیات اپنی کشمکش کے ایک فیصلہ کن دور میں داخل ہونے والے ہیں جس کی تیاریوں اور ریہرسل کے مناظر اس وقت بھی دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

مغرب کا فلسفہ حیات اس فکر میں ہے کہ اس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران انسانی معاشرہ پر جو تسلط قائم کیا ہے وہ کمزور نہ ہونے پائے بلکہ اس کے دائرے میں وسعت پیدا ہو جبکہ وحی الٰہی کی بنیاد پر تشکیل پانے والا نظام حیات دنیا بھر کے اہل دین کی خواہشات اور آرزوؤں کی گہرائیوں سے ابھر کر سطح ارض پر جلوہ نمائی کے لیے بے تاب ہے اور کھلی آنکھیں رکھنے والے دور اُفق پر طلوع سحر کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ مغربی فلسفہ حیات جو خود کو سیکولرزم، جمہوریت، سولائزیشن، آزادی اور انسانی حقوق کے دلکش لیبلز سے مزین کیے ہوئے ہے، انسانی زندگی کے ساتھ وحی الٰہی کے ایسے تعلق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے جو انسانی معاشرہ کے کسی بھی اجتماعی دائرہ کے لیے حدود کار کا تعین کرتا ہو اور وہ زندگی کے اجتماعی اُمور کے حوالے سے انسانی عقل ہی کو آخری اور فیصلہ کن اتھارٹی قرار دے کر اجتماعی عقل کی خدائی کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ یہ فلسفہ دراصل اس یورپ کا فلسفہ ہے جس نے کلیسا، بادشاہت اور جاگیرداری کے مشترکہ مظالم کی چکی میں صدیوں تک پستے رہنے کے بعد اس گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کی اور بادشاہت اور جاگیرداری کے حق میں کلیسا اور پادریوں کے جانبدارانہ و ظالمانہ کردار سے متنفر و دلبرداشتہ ہو کر رد عمل کے طور پر مذہب اور وحی الٰہی کی رہنمائی سے ہی انکار کر بیٹھا۔

آج دنیا کے پانچ آباد براعظموں میں سے تین یعنی امریکا، یورپ اور آسٹریلیا پر اس فلسفہ کی حکمرانی ہے جبکہ ایشیا اور افریقہ میں تسلط قائم کرنے کے لیے اس کے پیروکار مسلسل ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ یورپ کے باشندوں نے کولمبس اور واسکوڈی گاما کی صورت میں دنیا کے دوسرے براعظموں میں آباد اور داخل ہونے کے لیے جس مہم کا آغاز کیا تھا اس کے نتیجے میں امریکا اور آسٹریلیا میں یورپی آباد کار مقامی آبادیوں کو پیچھے دھکیل کر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ آج ان دو براعظموں پر یورپی آباد کار ہی حکمران ہیں جبکہ اصل اور قدیمی آبادی کا ان ممالک کے اجتماعی نظام کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں ہے مگر افریقہ اور ایشیا نے یورپی آبادکاروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا جس کی وجہ سے یورپین حکمرانوں کو ان براعظموں میں اپنے مفادات کی حفاظت اور یورپی فلسفہ کی حکمرانی کے لیے ایک درمیانی نسل جنم دینا پڑی جو افریقہ اور ایشیا کے ممالک پر اس وقت حکمران ہے اور مغربی آقاؤں کی خواہشات و ہدایات اور اپنے ممالک کے عوام کے مفادات و نظریات کے درمیان سینڈوچ بن کر رہ گئی ہے۔ آج ہمارا اصل المیہ یہی حکمران طبقے ہیں جو جسمانی اعتبار سے ایشیائی اور افریقی ہیں مگر ذہن، سوچ اور تربیت کے لحاظ سے یورپین ہیں۔ ان حکمرانوں کے ذریعے سے افریقہ اور ایشیا کے عوام سے یورپین آبادکاروں کو قبول نہ کرنے کا انتقام لیا جا رہا ہے۔

عالمی تناظر سے ہٹ کر وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالہ سے اس کشمکش کا جائزہ لیا جائے تو واقعات کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلادیش پر برطانوی تسلط کے خلاف جنگ آزادی میں مسلمانوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور جنگ آزادی کے آخری مراحل میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی کے لیے پاکستان کے نام سے الگ ملک کا مطالبہ کر کے تقسیم ہند کی راہ ہموار کی، اس طرح دنیا کے نقشہ پر پاکستان کا وجود نمودار ہوگیا۔ لیکن پاکستان کے قیام کے بعد اس وطن عزیز میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے مغربی فلسفہ کو ہی منزل قرار دے لیا گیا اور ملک میں مغربی جمہوریت اور سولائزیشن کی حکمرانی یا قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ایک طویل کشکش کا آغاز ہوگیا۔ اس کشمکش میں ایک طرف برطانوی حکمرانوں کی پیدا کردہ حکمرانوں کی دوغلی نسل ہے جو اپنی ہی طرح کا نظام پاکستان پر مسلط رکھنا چاہتی ہے اور اس کی پشت پر پورا مغرب اپنے تمام تر وسائل اور توانائیوں کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ دوسری طرف وہ نظریاتی حلقے اور کارکن ہیں جو جنگ آزادی اور قیام پاکستان کے اصل مقاصد کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ جمہوریت، سیکولرزم، سولائزیشن، انسانی حقوق اور آزادی کے حوالہ سے پیش کیے جانے والے مغربی فلسفہ کو مسترد کرتے ہوئے قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مغربی فلسفہ آج ہمارے معاشرے میں کس حد تک دخیل ہے اور اس کے پیروکار اسلامی فلسفہ حیات کو اجتماعی نظام سے بے دخل کرنے کے لیے کن کن مورچوں سے ہم پر حملہ آور ہیں؟ اس کے عملی نقشہ پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے، اس لیے واقعات کی ایک ترتیب پیش خدمت کی جا رہی ہے جس سے اس نقشہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ (جاری ہے)