کراچی کے مختلف علاقوں میں 9 دن سے پانی کی فراہمی بند

کراچی میں پانی کا بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، شہر کے مختلف علاقوں میں 9 دن سے پانی کی فراہمی بند ہے۔

 نجی نیوزچینل کے مطابق کراچی میں پانی کا بحران بدترین شکل اختیار کرگیا، بیشتر علاقوں میں 25 اپریل سے پانی کی فراہمی بند ہے جبکہ 27 اپریل کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے بریک ڈاؤن نے تو پانی کا نظام ہی درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔

بریک ڈاؤن کی وجہ سے 3 مرکزی لائنیں پھٹ گئی تھیں جس میں سے دو لائنوں کا مرمتی کام مکمل کرلیا گیا لیکن لائن نمبر 2 کا کام اب تک مکمل نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے  کراچی کے متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی بند ہے۔ اس میں کورنگی، لانڈھی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاقت آباد، پی آئی بی کالونی  اولڈ سٹی ایریا، محممود آباد، منظور کالونی، کورنگی کراسنگ، ڈیفنس کلفٹن سمیت متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے، شہر کا بڑا حصہ پانی سے محروم ہے  شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں مہنگے داموں پانی خرید کر اپنی ضروریات پوری کرر ہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں  لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی بند ہے جبکہ سرکا ری ہائیڈرنٹس پر ایک دن بھی پانی بند نہیں ہوا جس کی وجہ سے شہریوں میں غم وغصہ پایا جا تا ہے جبکہ ترجمان واٹر کارپوریشن  نے دعوی کیا ہے کہ شہر  کو یومیہ 650 ملین گیلن کے مقابلے میں 610 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے صرف 40 ملین گیلن پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔

ترجمان واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے بتایا کہ  پی آر سی سی (PRCC) لائن کی مرمت کا کام کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا ہے جس کے بعد شہر کے مختلف متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بتدریج بحال کر دی گئی ہے۔

ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق مرمتی کام مکمل ہوتے ہی کورنگی، ملیر، چنیسر، جناح، صدر، کلفٹن اور ڈی ایچ اے سمیت دیگر علاقوں میں پانی کی سپلائی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے اور صورتحال میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ شہر کو یومیہ 650 ملین گیلن کے مقابلے میں اس وقت 610 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ صرف 40 ملین گیلن کی کمی باقی رہ گئی ہے، جسے جلد پورا کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بجلی کے اچانک بریک ڈاؤن کے باعث دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی اہم تنصیبات متاثر ہوئیں، جس سے پانی کی ترسیل کا نظام متاثر ہوا اور شہر کے مختلف علاقوں میں سپلائی میں خلل پیدا ہوا۔ تاہم اب صورتحال میں نمایاں بہتری آ چکی ہے اور سپلائی بتدریج بحال کر دی گئی ہے۔