گزشتہ سے پیوستہ:
سوال یہ ہے کہ مطالعے کی کمی کو اے آئی پورا کر سکتی ہے؟ اس کا جواب بھی مختصر اور صاف ہے، نہیں۔ اے آئی آپ کو معلومات دے سکتی ہے مگر آپ کو ‘دانش’ نہیں دے سکتی۔ دانش وہ چیز ہے جو برسوں کے مطالعے، تجربے اور غور و فکر سے آتی ہے۔ عبداللہ حسین کا ‘اداس نسلیں’، قرة العین حیدر کا ‘آگ کا دریا’ یا عالمی ادب کی بات کریں تو ٹالسٹائی کا ‘وار اینڈ پیس’ یا دستوفسکی کا ‘برادرز کرامازوف’ آپ کو اے آئی نہیں سمجھا سکتی۔ قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامہ کی ضخامت سے آپ ڈر کر اس کی سمری بنوا لیں تو کوئی فائدہ نہیں، شہاب نامہ کی روح آپ کو اصل کتاب سے ہی ملے گی۔ اشفاق احمد کا ‘زاویہ’ اے آئی چند سطروں میں بتا دے گی مگر چائے پیتے ہوئے بابا اشفاق کی باتوں کا سواد آپ کو مطالعے سے ہی ملے گا۔
اس کا پورا امکان موجود ہے کہ اے آئی کے باعث وہ لوگ جو پہلے سے سست اور ہڈحرام تھے وہ مزید سست ہو جائیں۔ طلبہ اپنی اسائنمنٹس اے آئی سے لکھوائیں گے۔ پروفیشنلز اپنی رپورٹس اے آئی سے بنوائیں گے۔ صحافی اپنے آرٹیکلز اے آئی سے تیار کروائیں گے۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ انسان کی اپنی سوچنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔ پٹھوں کی طرح دماغ کو بھی استعمال نہ کیا جائے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اگر پوری نسل کا دماغ کمزور ہو گیا تو اگلی نسل کہاں جائے گی؟ اس لیے اے آئی کے اس دور میں اصل کامیابی انہی لوگوں کی ہو گی جو اے آئی کا استعمال ایک ٹول کی طرح کریں نہ کہ اپنے دماغ کا متبادل۔ جو لوگ اے آئی سے ریسرچ کروائیں مگر خود سوچیں، اے آئی سے ترجمہ کرائیں مگر خود ترتیب دیں، اے آئی سے معلومات لیں مگر خود تجزیہ کریں، وہی آگے بڑھیں گے۔ جو لوگ اے آئی کو سوچنے کا متبادل سمجھیں گے وہ پیچھے رہ جائیں گے۔
میں خود بھی اے آئی استعمال کرتا ہوں، ریسرچ کے لیے، نیوز سورسز ڈھونڈنے کے لیے، کبھی لمبی رپورٹ ترجمے کے لیے، لکھنے کا کام مگر خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ تجرباتی طور پر اے آئی سے بعض چیزیں لکھوائیں مگر وہ مصنوعی، مشینی، بے روح، بے رنگ ٹائپ تھیں۔ حقیقت یہ ہے کوئی بھی صحافی، کالم نگار، مصنف اگر اے آئی سے آرٹیکل لکھوائے تو چاہے وہ جتنا ہی اچھا ہو اُس کے اندر روح نہیں ہوگی۔ اپنے ہاتھ سے، اپنی سوچ سے لکھی گئی چیز اگر ماٹھی ہو تب بھی اس میں دھڑکتی روح ملے گی، احساسات ہوں گے، ایک خاص فلیور، مہک اور ٹچ ہوگا۔ آدمی جو خود لکھے اس میں اس کی ذات، اس کا تجربہ، اس کی غلطیاں، کمزوریاں شامل ہوتی ہیں اور یہی چیز تحریر کو زندہ رکھتی ہے۔ ایک اور پہلو جو بہت اہم ہے اور وہی صحافت کو بچائے گا، تخلیقی صحافت کی نظر میں اے آئی کے دور میں ‘انسانی کہانی’ کی قدر اور بڑھے گی۔ لوگ اے آئی سے بنائی گئی مصنوعی خبریں پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے۔ وہ حقیقی انسانی تجربہ چاہیں گے۔ کوئی ایسا مضمون جس میں لکھنے والے نے خود تجربہ کیا ہو، خود محسوس کیا ہو، خود مشاہدہ کیا ہو۔ وہ صحافی جو اپنے پاؤں پر چل کر کہانی تک پہنچتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، ان کے گھروں میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، ان کی اہمیت اور بڑھے گی۔ کیونکہ اے آئی یہ سب نہیں کر سکتی۔
ہمارے ہاں صحافت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے پہلے ہی سے فیلڈ رپورٹنگ چھوڑ دی ہے۔ اکثر صحافی دفتر میں بیٹھ کر ایکس/ ٹویٹر سے خبریں لیتے ہیں، ٹی وی دیکھ کر اسٹوری بناتے ہیں۔ اے آئی اس سست صحافت کو مار ڈالے گی اور یہ اچھی بات ہے۔ اگر اے آئی سست صحافت کو ختم کر کے محنتی صحافت کی جگہ بنا دے تو یہ صحافت کے لیے مفید ہو گا۔ ایک بار کسی صحافتی ورکشاپ میں خاکسار کو بلایا گیا، میں نے نوجوانوں کو ایک ہی نصیحت کی، ‘اگر آپ صحافی بننا چاہتے ہیں تو 3 چیزیں سیکھیں: ‘اے آئی کا استعمال سیکھیں تاکہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ دوسری، اے آئی کی حدود سمجھیں تاکہ اس کے جال میں نہ پھنسیں اور تیسری جو سب سے ضروری ہے، اپنی انسانیت کو سنبھالیں۔ اپنا مشاہدہ، اپنا تخیل، اپنا تجربہ، اپنی حساسیت۔ یہ سب چیزیں آپ کا اصل سرمایہ ہیں۔ اگر یہ آپ نے چھوڑیں تو اے آئی آپ کا متبادل بن جائے گی۔ اگر یہ آپ نے بڑھائیں تو اے آئی آپ کا ہتھیار بن جائے گی’۔ سوچتا ہوں، شاید اگلی دہائی صحافت کی سب سے مشکل دہائی ہوگی مگر اس کے بعد جو صحافت نکلے گی وہ شاید زیادہ خالص ہوگی، زیادہ گہری ہوگی، زیادہ انسانی ہوگی۔ کیونکہ جب سب کام مشینیں کرلیتی ہیں تب انسان کے پاس صرف وہی کام رہ جاتا ہے جو انسانی ہے یعنی سوچنا، محسوس کرنا، تجزیہ کرنا، کہانی سنانا۔ یہی صحافت کا اصل دل ہے اور اس دل کو کوئی الگورتھم نہیں دھڑکا سکتا۔ آپ بھی سوچیے گا۔

