ہاتھ اور پاؤں کا استعمال، کبھی خوشی، کبھی وبال

ہماری طرح کے عمر رسیدہ لوگوں کے ہاتھوں سے کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، ان کے رعشہ زدہ نحیف و نزار ہاتھ بادل نخواستہ کسی پہ اٹھ بھی جائیں تو کسی کو تھپڑ رسید کرنے کی ان کی آرزو پوری نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس سے پہلے کہ ان کا ہاتھ بمشکل تمام کسی نوجوان کے گال پہ ہلکا سا چپت مارنے کے ارادے سے اٹھ بھی جائے تو مارنے والا ہاتھ ابھی ہوا میں ہی ہوتا ہے کہ فوراً نوجوان وہاں سے چمپت ہو جاتا ہے۔ البتہ کسی کسرتی بدن والے کے بھاری بھرکم ہاتھ کو کوئی چیلنج کر بیٹھے تو موصوف بازو کے ڈولے دکھا کر کہہ اٹھتا ہے کہ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔ طاقت دیکھنا چاہتے ہو تو میدان میں آؤ، ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ جب ان کا ہاتھ اٹھتا ہے تو دن میں تارے نظر آجاتے ہیں اور پھر مضروب ہاتھ جوڑ کر، پاؤں پڑ کر کہتا ہے ہم کا معافی دے دو، ہم سے بھول ہوگئی۔ اللہ نہ کرے کسی کے پاس ہاتھوں اور پاؤں کا سنگم نہ ہو۔ تو بھائی! جی تو وہ لوگ بھی لیتے ہیں لیکن ایسا جینا کیا جینا جو کسی کو دوسروں کا محتاج بنا دے۔ محتاج لوگ تو مدد کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور غیرت رکھنے والے بنا پاؤں کے گھسٹ گھسٹ کربھی اپنے پیروں پہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم ہاتھ اور پاؤں والوں کے لیے اللہ کے حضور ہاتھ باندھے دست بدعا ہیں کہ اللہ کرے ہم سب کے ہاتھ پاؤں سلامت رہیں۔ آپ دوسروں کے لیے اپنے تعاون کا ہاتھ بڑھاتے رہیں۔ ان کے کاموں میں ہاتھ بٹانے رہیں۔ اللہ آپ کو اس کا بڑا اجر دے گا۔

دوسری بات جو خواہش بن کر ہمارے لبوں پہ آتی ہے وہ یہ کہ آپ کبھی بھی دوسروں کے معاملات میں ہرگز ٹانگ نہ اڑائیں۔ نہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر بگلا بنیں ورنہ اس بات کا امکان ہے کوئی آپ کو پگلا نہ کہہ بیٹھے۔ سمجھدار لوگ سمجھدار بچوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن پوت کے پاؤں پالنے میں دکھائی دیتے ہیں ان کی تربیت میں ان کے والدین کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پیدل چلنا اچھی عادت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر حضرات بھی اس کا تقاضہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پٹرول کی آسمان سے چھوتی قیمتوں کے پیش نظر سب کو پیدل چلنا چاہیے۔ سب پاؤں والوں کو پیدل چلتے چلتے احتیاطاً اپنی آنکھیں ضرور کھلی رکھنی چاہئیں مگر اس احتیاط کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو بھٹکنے سے بچانا بہت ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آنکھیں اور گردن کسی حسینہ مہ جبیں کی طرف مڑتی چلی جائیں اور آپ کا پاؤں کیلے کے چھلکے پر پڑ جائے، ایسا نہ ہو کہ آپ کے دل کے بجائے ٹانگ پھسل کر ٹوٹ جائے۔ اس حادثے میں کس کا ہاتھ ہے کس کا نہیں، یہ بات طے ہے کہ قصور آنکھیں بھٹکنے اور پاؤں رپٹنے کا ہوتا ہے۔ کراچی والو! ہوشہارباش! کبھی کبھی برسات میں خاص طور پر رات میں، جب کراچی کی سڑکیں نہریں بن جاتی ہیں، گھر سے نہ نکلیں۔ اگر مجبوری کے ہاتھوں نکلنا پڑے تو چلنے والوں کو اپنے پاؤں پھونک پھونک کر زمین پہ رکھنے چاہییں ورنہ خدانخواستہ آپ غڑاب سے گٹر کے اندر چلے جائیں اور پھر ڈھونڈیں بھی تو کسی کے ہاتھ نہ آئیں۔

ایک کہاوت ہے کہ’سر بڑا سردار کا اور پاؤں بڑا زمین دار کا’ ہوتا ہے مگر ہمارا خیال ہے کہ آپ کے پاؤں چھوٹے ہوں یا بڑے، بڑی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے بڑوں کے پاؤں ضرور دبائیں۔ اللہ کے یہاں اس کا بڑا اجر ہے۔ زندگی بہت قیمتی شے ہوتی ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ کبھی طاقتور سے نہ ٹکرائیں۔ ویسے بھی زورآور کو دیکھ کر کمزوروں کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ ہم ایک نصیحت گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر وقت مستعد رہنا چاہئے نہ کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھے رہیں۔ یاد رکھیں جب تک ہاتھ پاؤں نہ مارے جائیں کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جو ہاتھ پاؤں نہیں ہلاتے وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انسان کے عمر رسیدہ ہونے کی دیر ہوتی ہے کہ ذمے داریاں پاؤں کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔ کبھی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر ہوتی ہے اور کبھی ہاتھ تنگ ہونے کی وجہ سے بچوں کی تعلیم میں رکاوٹیں در آتی ہیں۔ ایسے میں ہاتھ کا دیا ہوا کام آتا ہے۔ کچھ لوگ آگے بڑھتے ہیں اور ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ اگر آپ نے ماضی میں کسی کی مدد کے لیے ہاتھ نہ بڑھایا ہو تو بہت ممکن ہے کہ جو کچھ آپ کے پاس موجود ہو اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔

ایک بات یاد رکھیں کہ اپنے ہاتھ کی کمائی میں جو برکت ہوتی ہے وہ ادھارقرض لیکر گزارا کرنے میں نہیں ہوتی۔ ویسے بھی جو کوئی مقروض ہوتا ہے سب ہاتھ دھو کر پیسوں کی وصولی کے لیے اُس کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں۔ انسان کو اللہ سے دولت کی بہتات کی بجائے آمدن میں برکت کی دعا کرنی چاہیے۔ دولت تو ہاتھ کی میل ہوتی ہے، اس لئے اسے کھلے ہاتھ سے خرچ کرنے کی بجائے ہاتھ کھینچ کر ضروریات پر خرچ کرنا چاہیے۔ ورنہ جب دولت کی دیوی روٹھ جاتی ہے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ بستر پہ پاؤں پسار کر پڑے رہنے سے بہتر ہے ہاتھ پاؤں مار کے کچھ نہ کچھ دال دلیا کی فکر کریں۔ ورنہ چاروں جانب کسمپرسی کا ایسا مہیب اندھیرا ہوگا جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے گا اور آپ کے پاؤں بھی ڈگمگانے لگیں گے۔ ان لوگوں کے نقش قدم پر نہ چلیں جو دوسروں کے مال پہ ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ انہیں بڑے مگر مچھ کہاجاتا ہے مگر وہ کسی کے ہاتھ آتے ہیں نہ ان پہ ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔

آئیے ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور قدم سے قدم ملا کر اپنی مادر وطن کے دفاع کے لیے ایک ہو جائیں تاکہ دشمن ہم پہ حملہ ور نہ ہو سکے۔ اگر دشمن ایسی حرکت کر بیٹھے تو ہمارا اتفاق دیکھ کر اس کے پاؤں اکھڑ جائیں گے۔ ہاتھ ہاتھوں میں پیوست رہیں تو جڑنے کی علامت بنتے ہیں۔ ہاتھ جڑتے ہیں تو دل بھی جڑتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ اور یہ پاؤں اللہ کی نعمت ہیں ان کی قدر ان کے مفید استعمال میں ہوتی ہے۔ کسی پر ہاتھ پاؤں کا بادلوں کی طرح برسنا، تھپڑ جڑ دینا یا پاؤں سے ٹھڈا مارنا در اصل ان کی آوارگی کی علامت ہے۔ ہاتھوں کی شان ہاتھوں کو لگی مہندی اور کلائیوں میں پہنی چوڑیوں سے بڑھتی ہے لیکن ہاتھوں کا کمال ہاتھوں سے بنائی خوبصورت پینٹنگ، مصنوعی جیولری اور ہاتھوں سے بنے لذیذ کھانوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پیروں میں پائل ہو یا پازیب، بے شک خواتین کے شوق کی چیزیں ہیں مگر وہ پیر اس سے کہیں اچھے ہوتے ہیں جو استقامت کے ساتھ اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے میدان عمل میں متحرک رہتے ہیں۔ ہمارے بزرگ لوگ بھی ہمیشہ یہ دعا کرتے ہیں کہ جب زندگی کا سفر تمام ہو تو خدا کرے چلتے ہاتھ پاؤں اس دنیا سے رخصت ہوں۔