کیا دنیا کے فیصلے سوشل میڈیا پر ہوتے ہیں؟

گزشتہ ماہ پاکستان کی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز پر دنیا نے کسی حد تک سکھ کا سانس لیا تھا اور توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ خطے کے امن واستحکام اور عالمی معیشت کو درپیش خطرات اور چیلنجوں میں کمی آئے گی مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ فریقین کی ضد اور انا آڑے آگئی اور امن کی بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں ایشیائی ممالک میں تیل کی تجارت رکی ہوئی ہے اور پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور دنیا کی آٹھ ارب آبادی کا تقریباً ہر شخص مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔

عالمی برادری پر یہ مصیبت کسی ناگہانی افتاد یا قدرتی آفت کی وجہ سے نہیں بلکہ چند اشخاص بلکہ دو کی بیمار ذہنیت خون آشام فطرت اور مذہبی تعصب کا شاخسانہ ہے۔ دنیا بھر کے سنجیدہ اور فہمیدہ افراد کی سوچی سمجھی رائے اور خود امریکا کے سیاسی و صحافتی حلقوں کا پختہ خیال یہ ہے کہ امریکا کے خبطی اور سنکی مزاج کے حامل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قابض و ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے قاتل و سرٹیفائیڈ جنگی مجرم وزیر اعظم نیتن یاہو کے کہنے پر بغیر کسی پیشگی تیاری کے اور بغیر کسی قانونی جواز کے ایران پر حملہ کر دیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے تجزیے کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ باور کرایا تھا کہ جنگ کے اول وہلہ میں اگر ایران کی مذہبی و فوجی قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو ایران کی موجودہ حکومت گر جائے گی اور ایران میں رجیم چینج کا دیرینہ امریکی خواب پورا ہو جائے گا اور اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ مغربی طاقتوں اور امریکی عوام کی آنکھوں کا تارہ بن جائیں گے۔ مگر موساد کی یہ پیش گوئی خوش فہمی ثابت ہوئی اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کے انتہائی وحشیانہ استعمال اور ایرانی قیادت کو راستے سے ہٹانے میں کامیابی کے باوجود ایران کی حکومت نہیں گری اور ایرانی قوم نے بھی طاقت کے زور پر رجیم چینج کے منصوبے کو مسترد کر دیا۔

پھر دنیا نے دیکھا کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ایران نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا شروع کر دیا اور خلیج میں قائم امریکی اڈے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی زد میں آگئے۔ عالمی میڈیا میں حالیہ دنوں تفصیلی رپورٹیں شائع ہوئی ہیں جن سے امریکی اڈوں کی تباہی کے اصل حجم کا اندازہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے خلیج کی سمندری حدود پر اپنی گرفت کا ثبوت پیش کر دیا۔ دوسری جانب روس اور چین کی جانب سے ایران کے ساتھ خفیہ و علانیہ تعاون کی اطلاعات نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شیطانی جوڑی کے ہوش اڑا کر رکھ دیے۔ اس پس منظر میں جب پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کیں تو امریکی صدر ٹرمپ دوڑے دوڑے آئے اور پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی بلائیں لینے لگے۔ مسٹر ٹرمپ ایران جنگ کے کمبل سے جان چھڑانا بھی چاہتے تھے مگر ساتھ میں اپنی شکست و ہزیمت پر پردہ بھی ڈالنا چاہتے تھے۔ گویا جو اہداف وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے تھے وہ مذاکرات کی میز پر چالاکی دکھاکر حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے عین مذاکرات کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے دھمکیاں دینے اور فریق مخالف کو پریشرائز کرنے کا حربہ اختیار کیا جس کو پوری دنیا میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ عالمی سفارتی امور کی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ جہاں دو فریق کسی تنازع کے حل پر مذاکرات کر رہے ہوں وہاں ہر فریق محتاط طرز گفتگو اختیار کرتا ہے اور کوئی بھی ذمہ دار شخص ایسی کوئی بات نہیں کرتا جو مذاکرات کے ماحول کو متاثر کر سکتا ہو۔ یہاں صورت حال یہ تھی کہ امریکا کے نائب صدر اپنے وفد کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے ادھر امریکی صدر وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے دھمکیاں دے رہا تھا۔ ظاہر ہے ایسے ماحول میں مذاکرات کی کامیابی کی کیا توقع رکھی جا سکتی تھی۔

اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد بھی امریکا نے ایران کے ساتھ بات چیت کی فائل بند نہیں کی اور اس وقت بھی فریقین کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جو اس بات کی علامت ہے امریکا جنگ دوبارہ شروع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے مگر اس وقت بھی امریکی صدر ٹرمپ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے دھونس دھمکی اور تضاد بیانی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اب تو امریکا کے بہت سے سنجیدہ حلقوں یہاں تک کہ خود صدر ٹرمپ کی پارٹی کے ارکان نے بھی مسٹر ٹرمپ کی ذہنی صحت پر شکوک وشبہات کا اظہار کرنا شروع کیا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ ہفتے امریکی وزیر جنگ پیٹھ ہیگستھ کو سینیٹ کمیٹی کے روبرو سخت سوالات کا سامنا رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ خود پیٹھ ہیگستھ کی ذہنی اپج پر بھی امریکی میڈیا میں شکوک وشبہات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے اور یہ پوری انسانیت کے لیے بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس وقت دنیا کے فیصلے ایسے افراد کے ہاتھ میں ہیں جن کا ذہنی توازن ہی مشکوک ہے۔ ورنہ کیا آج کی اکیسویں صدی کی دنیا میں کیا اس بات کا تصور بھی کیا جانا چاہیے کہ عالمی امن واستحکام پر براہ راست اثر انداز ہونے والے فیصلے سوشل میڈیا پر لگاتار اور بلاسوچے سمجھے کی جانے والی پوسٹوں کے ذریعے کیے جاتے ہوں؟

صحافت کو بچایا جائے!

صحافت کے عالمی دن کے موقع پر مختلف تقریبات میں دنیا بھر میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے اور بالخصوص پاکستان میں صحافت کو درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے اس وقت عالمی سطح پر صحافت جوہری تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ سوشل میڈیا نے ادارتی نگرانی والی ذمہ دار صحافت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے صحافت کی گویا دنیا ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ مگر اس کے باوجود ادارتی نگرانی پر مبنی قومی صحافت کی اہمیت وافادیت اپنی جگہ قائم ہے۔ صحافت پر ادارتی کنٹرول کا تصور ختم ہوگیا تو معاشرہ افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری حکومتیں اور میڈیا ہاؤس مالکان پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی قدر کریں اور ان کے جائز مسائل کے حل پر توجہ دیں۔