سفارتی کامیابیوں سے معاشی استحکام کی جانب اٹھتے قدم

ایران اور امریکا کے مابین جنگ بندی کے لیے پُل کا کردار ادا کرنے پر پاکستانی قیادت کو دنیا بھر سے شان دار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور متعدد مسلم ریاستوں میں جشن کا سماں ہے اور ایران کے عوام شکریہ پاکستان کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ایران پر عمومی حملے کے لیے مقرر کردہ وقت سے پیشتر پاکستان نے سفارتی محاذ پر نہایت ذمہ داری اور بھرپور حکمتِ عملی کے تحت زبردست کوششیں کیں جوکہ باور آور ثابت ہوئیں اور بفضلہ تعالیٰ پاکستان اپنے دوستوں بالخصوص سعودی عرب، چین، ترکیہ اور مصر کی مدد سے ایک ایسی جنگ رکوانے میں کامیاب ہوگیا جو مسلم ریاستوں کے لیے ایک بھیانک اور الم ناک انجام کا سبب بن سکتی تھی۔ جنگ بندی کے اعلان سے قبل عالمی سطح پر ایران کے خلاف امریکا کی بڑی کارروائی کو قریباً یقینی سمجھ لیا گیا تھا۔ بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر جوہری حملے کا پروگرام بنا لیا گیا تھا، گویا تیسری عالمی جنگ بالکل تیار تھی لیکن پاکستان نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور سفارتی سطح پر ہر قسم کی کوششیں جاری رکھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی قیادت یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا اقدام خطرات سے خالی نہ ہوگا اور جنگ عالمی معیشت کا بھٹہ بٹھا دے گی، اسرائیل کے ایما پر تصادم کی راہ اختیار کر چکی تھی جبکہ ایرانی قیادت سمجھوتے کی بجائے جنگ پر بضد دکھائی دیتی تھی، ایسے میں پاکستان نے چین کو ایرانی قیادت سے رابطہ کر کے اسے ہوش کے ناخن لینے پر آمادہ کیا۔ عارضی جنگ بندی کے مرحلے کو ایک مستقل صلح اور پرامن تعلقات میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں مسلسل جاری ہیں اور امریکی نائب صدر کی قیاد ت میں امریکی وفد ایرانی نمائندوں کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: جنگ ختم۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
یہ امر واضح ہے کہ پیچیدہ عالمی سیاست اور مفادات کے گرد گردش کرتی پالیسیوں کے درمیان دو متصادم طاقتوں کو صلح پر آمادہ کرنا انتہائی سنجیدگی، سفارتی مہارت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا متقاضی تھا۔ یہ کارنامہ کسی بھی ناتجربہ کار یا غیر محتاط رویے کی حامل قیادت سے بعید تھا۔ امریکا اور ایران جس انداز میں جنگ، تباہی اور ہلاکت کے راستوں پر بگٹٹ دوڑے جا رہے تھے، وہ ناتجربہ کاری سے زیادہ عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ تھا، آسان الفاظ میں امریکا اور ایران دونوں ہی انا کے گرداب میں پھنس چکے تھے اور انسانیت کا مجرم نیتن یاہو ان دونوں ریاستوں کو تصادم کی راہ پر ڈال کر اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کو یقینی سمجھ رہا تھا۔ ان ہوش ربا حالات میں محض منطق، متانت اور نیاز مندانہ لب و لہجہ ہرگز کارگر ثابت نہ ہوتا، پاکستانی قیادت نے اپنے عزم کے مطابق فسادی قوتوں کا راستہ روک کر نیز خود مشقت اٹھا کر اعتماد سازی کے لیے درکار ماحول اور سہولیات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے سنجیدگی، خلوص اور وقار کے ساتھ سفارتی اعتبار قائم کیا اور اس کے نتیجے میں تزویراتی یقین پیدا ہوا جس کی وجہ سے ایران اور امریکا دونوں ہی ریاستوں کو اپنے مفادات کا تحفظ بات چیت اور امن کے قیام میں دکھائی دیا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اس کی دفاعی قوت، جنگ میں مہارت اور امن کے لیے سازگار سفارتی صلاحیت نے اسے وہ مقام مہیا کر دیا جس میں کوئی ریاست اخلاقی برتری حاصل کر کے خود کو ثالث بالخیر کے روپ میں پیش کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی تجزیہ کاروں کے نزدیک انسانی تاریخ میں پیش آنے والے سفارت کاری کے اس غیر معمولی کارنامے کا سہرا پاکستان ہی کے سر پر ہے کیوں کہ صرف پاکستان ہی اس سفارتی معرکے کو سر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران سے امن معاہدے کی امید
اب جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے تو وہ قوتیں جوکہ پاکستان کی اس کامیابی کو ہضم نہیں کر سکتیں، یقینی طورپر اپنی پراکسی یا دیگر وسائل کے ذریعے سے سازشوں کے نئے سلسلے کا آغاز کریں گی لیکن امید ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی بڑا فوجی تصادم پیش نہیں آئے گا بلکہ اس کے برعکس تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دفاعی محاذ پر کامیابیوں کے بعد اب پاکستان کے لیے معاشی استحکام کی راہیں بھی ہموار ہو چکی ہیں۔ جنگ بندی کے لیے فریقین کی جانب سے پاکستان پر اظہارِ اعتماد کے بعد وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے تاریخی سفارتی کردار اور عظیم الشان کامیابی کو حق تعالیٰ شانہ کے خصوصی فضل و کرم کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے پوری قوم سے سجدہ شکر بجا لانے کی درخواست کی۔ انھوں نے انسانی تعلقات میں درستی، بہتری اور اصلاح کے لیے قرآن کریم کے اصول ”قولوا قولاً سدیدا“ کا حوالہ بھی دیا۔ وزیر اعظم نے اپنی گفتگو میں امریکا، ایران جنگ بندی کے لیے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کاوشوں، فکر مندی اور ذمہ دارانہ کردار کی بھی کھل کر ستائش کی۔ فی الواقع خود وزیر اعظم میاں شہبازشریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور ان کی پوری ٹیم اور پاکستان کے خاموش محافظین کی بھرپور محنت اور ان تھک کاوشوں نے تائیدِ ایزدی کے حصول میں اہم کردار ادا کیا اور ملک کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے اور رہنمائی کرنے والے مخلص افراد کی جدوجہد آخرکار نتیجہ خیز ثابت ہوئی جس کے ثمرات اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کی ستائش، توصیف اور مدح سرائی کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس تجربے سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ انسانوں کی اکثریت فی الواقع جنگ، تباہی، نسل کشی اور ہلاکت خیزی کی بجائے امن، صلح اور باہمی احترام ہی کو درست سمجھتی ہے لہٰذا عالمی رہنماوں کو بھی مفادات کی سیاست سے آگے بڑھ کر انسانوں کی فلاح و بہبود، انسانوںکی اجتماعی بہتری، امن و سلامتی اور باہمی احترام بحالی جیسے بلند مقاصد کی جانب توجہ دینا چاہیے۔ پاکستان نے تاریخ کے حالیہ عرصے میں انسانوں کو درپیش انتہائی سنگین اور نہایت تباہ کن جنگ کو رکوا کر دراصل امن، سلامتی اور احترام انسانیت کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی ہے جس پر اہلِ وطن کو بجا طور پر تشکر اور اپنی ریاست پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے۔ پاکستان کو حالیہ عرصے میں جو کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں، ان کا تقاضا ہے اہلِ وطن باہمی اتحاد کو بروے کار لائیں، تعمیر وطن کے لیے ہمہ گیر جدوجہد اختیار کی جائے اور ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشی اصلاحات کے ذریعے امن اور استحکام کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ مسلمانوں کی عظیم ریاست اپنے قیام کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوسکے۔