پنجاب لائبریری کا دورہ اور’’ادھوری ملاقات“

(مضمون: محمد عربی صعود)
ہمارے دل کے ایک گوشے میں کتب اور لائبریری کی محبت و شوق کا چراغ ہمیشہ فروزاں رہتا ہے اور ہم اپنی نگاہ کے لیے سُرور اور دل و دماغ کے لیے راحت و حلاوت کے جواہرات اسی علم و دانش کے سمندر میں ڈھونڈتے ہیں۔
جب ہم لاہور میں خیمہ زن ہوئے ہیں، اس جذب عشق و جنوں میں ایک تلاطم برپا ہوگیا، جس نے ہماری اس چاہت و محبت کی جنبش کو شعلہ جوالہ بنا دیا، کیونکہ لاہور لائبریریوں کا شہر اور علم و دانش کے خزانوں کی آماجگاہ ہے۔ ایک دن ہمارے دل میں پنجاب لائبریری جانے کے اِرادے کی کلی کِھل اٹھی اور شوق کا چشمہ دل کی سرزمین میں پھوٹ پڑا اور اس وقت آسمان پر بادلوں کے قافلے اٹھکھیلیاں کررہے تھے اور رم جھم برس رہی تھی جس کی وجہ سے موسم خوشگوار بن گیا تھا۔ اگرچہ دل کے کسی گوشے میں یہ خدشہ سر اُٹھا رہا تھا کہ یہ بوندا باندی کہیں موسلا دھار بارش کی صورت اختیار نہ کرلے اور ہم راستے میں کہیں پھنسے نہ رہ جائیں، مگر شوق اور جذبات کی شدت نے اس مصلحت کا گلا گھونٹ دیا۔ ہم نے لوکیشن کی انگلی تھامی اور سفر کی پشت پر سوار ہوگئے۔
جب ہم مال روڈ سے گزر کر لائبریری روڈ کی جانب مڑے تو ایک پُرشکوہ عمارت نے ہمارا استقبال کیا۔ وہ عمارت جو قدامت پرستی کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی، جدت کے رنگ سے ناآشنا، کسی کہن سال درویش کی مانند ایستادہ تھی۔ ہم جو شوقِ مطالعہ میں سرشار تھے نام پڑھے بغیر ہی اُس کے اندر عقیدت مندانہ انداز میں داخل ہو گئے، مگر وہاں موجود پہریدار نے کہا: ’آج چھٹی ہے‘۔یہ الفاظ سن کر ہمارے سلگتے ہوئے جذبات سرد پڑ گئے۔ لمحہ بھر کے لیے شوق جھنجھلا اٹھا۔ ہم تو نظام الاوقات کی تصدیق کرکے آئے تھے، اس کے مطابق لائبریری کھلی ہونی چاہیے تھی مگر ہمیں اپنی محنت اور مشقتِ سفر رائیگاں ہوتی نظر آرہی تھی۔ جلد ہی عقدہ کھلا کہ وہ علم کی دنیا نہیں جہاں فکر و دانش کے پھول کھلتے ہیں بلکہ کسی سرکاری دفتر کی عمارت تھی جہاں جرم و سزا کی سرگوشیاں ہوتی ہیں۔ لائبریری تو عین اُس کے سامنے اپنی بانہیں وا کیے کھڑی تھی۔ ہمارے مجروح دل میں پھر سے اُمید کی ایک رمق پیدا ہوگئی اور روح پر خوشی کی پھوار برسنے لگی اور ہم وہاں سے معذرت کرتے ہوئے اصل منزل کی جانب لپکے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے سخن کا عنوان محمد ﷺ
لائبریری کے در و دیوار میں داخل ہوتے وقت ہمارے تصور میں کتابوں کی ایک بارات تھی، جو شیلفوں کے تخت پر براجمان تھی مگر جب ہم ’دارالمطالعہ‘ پہنچے تو حیرت کے نشتر ہمارے سینے میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ کتابوں کا وہ قافلہ جو ہمارے ذہن کے افق پر چمک رہا تھا حقیقت کا آئینہ اسے جھٹلا رہا تھا۔ وہاں تو گنتی کی کچھ کتابیں، اُردو اور انگریزی کی محوِ آرام تھیں، جسے کوئی شخص ’پبلک لائبریری‘ کہنے کی غلطی ہرگز نہیں کرسکتا تھا۔ دریافت کرنے پر منکشف ہوا کہ یہاں کتابیں سیکشن نمبر دوم میں مقید ہیں اور آپ کو مطلوبہ کتاب نکال کر دی جائے گی۔ ایک لحاظ سے تو یہ باعثِ سہولت ہے کہ مطلوبہ کتاب آسانی سے دستیاب ہو جائے اور وقت کا ضیاع بھی نہ ہو مگر اس کا دوسرا پہلو نقصان دہ اور غمناک ہے۔ ایک سچے قاری کے لیے لائبریری جانے کا اصل مقصد تو نئے موضوعات کی خوشبو سونگھنا اور نئے مصنفین کے افکار و خیالات سے شناسائی حاصل کرنا ہوتا ہے جو یہاں مفقود نظر آیا۔وہاں موجود ایک شخص نے کمپیوٹر سے کتب کی فہرست نکال کر دکھائی، جس میں سے ہم نے چند کتب کا انتخاب کیا اور ایک گوشے میں بیٹھ گئے۔ ہمارے سامنے ایک بزرگ قرآنِ مجید کے اوپر ہی ڈائری رکھ کر کچھ لکھ رہے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انگریزی کی کوئی تفسیر لکھنے میں مصروف ہیں۔
کچھ دیر بعد جب ہماری مطلوبہ کتب لائی گئیں تو ان کی حالت دیکھ کر ہماری دوسری غلط فہمی کا سر بھی پھوٹ گیا۔ ہم حیرانگی و پریشانی کے عالم میں اسے تکتے رہ گئے۔ ایک کتاب سنہ 1973ء کی یادگار تھی اور دوسری بھی عہدِ رفتہ کی نشانی تھی۔ ہم تو نئی نویلی کتابوں کے جلوے کی اُمید لگائے بیٹھے تھے مگر یہاں قدامت کا راج تھا، جو ہماری توقعات پر پانی پھیر رہا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم لائبریری میں دل جمعی و دل چسپی اور پورے شوق اور توجہ کے ساتھ مطالعہ نہیں کرسکتے۔ ہم کتابوں کو جانچتے پرکھتے، ان کا ذائقہ چکھتے اور ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں، پھر اپنی پسندیدہ کتاب ساتھ لے آتے ہیں، جس کا پھر توجہ و انہماک کے ساتھ مطالعہ شروع ہوتا ہے۔ ہم بے دلی کے عالم میں کچھ دیر وہاں بیٹھ کر ان کتابوں کو ٹٹولتے رہے اور پھر خالی ہاتھ، خالی دل اور بوجھل دماغ کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔ ممبرشپ نہیں لے سکے کیونکہ یہ ان کی چھٹی کا دن تھا۔ پھر کبھی زندگی اور گردشِ ایام نے مہلت اور فرصت دی تو اس علمی خزانے کی ممبر شپ ضرور لیں گے، تاکہ اس علم و حکمت کے خزانے سے کما حقہ مستفید ہوسکیں۔ فی الوقت یہ سفر ایک ادھوری ملاقات کا منظر بن کر دل کی لوح پر نقش ہوگیا۔