پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی سیاسی اہمیت اور اس کے تقاضے

بفضلہ تعالیٰ پاکستان کی کوششیں رنگ لائی ہیں اور اس وقت ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان وفود کی سطح پر امن کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جبکہ جلد ہی دونوں ملکوں کے اہم افراد مستقل جنگ بندی، امن اور باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے گفت و شنید کا آغاز کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق گو کہ ایران تاحال امریکا کی سابقہ تاریخ کو مدّنظر رکھتے ہوئے مذاکرات سے کچھ زیادہ پُر امید نہیں لیکن یہ سیاسی لحاظ سے یہ امر بھی تسلی بخش ہے کہ ایرانی قیادت نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے گفت و شنید کو ترجیح دی ہے۔ دوسری جانب امریکا کی طرف سے بھی پاکستان کے کردار کو قابلِ اعتماد سمجھا جارہاہے جیسا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خود اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکاہے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ لبنان کے وزیر اعظم نے اسرائیل کے حملوں سے تنگ آکر آخر کار وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے رابطہ کیا ہے تاکہ وہ نیتن یاہو نامی انسانیت کے مجرم کو پٹہ ڈلوا سکیں۔ لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کے ایک ذریعے سے پیغام دیا ہے کہ اسرائیل ایک لعنت اور دنیا میں شیطان کے وجود کا نام ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا مرکز بن چکاہے، اسرائیل کے خلاف ملک کے وزیر دفاع کے انتہائی سخت الفاظ دراصل پوری دنیا کو یہ پیغام ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت اسرائیل کی طرف داری یا حمایت کو قبول نہیں کرے گا اور حالیہ مذاکرات میں پاکستان کا یہ موقف ایک خاص سیاسی اہمیت کا حامل ہوگا۔

پاکستان کا پوری دنیا کا مرکزِ نگا ہ بن جانا، دراصل اس کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور عسکری قوت کا مظہر ہے۔ امریکاا اور ایران دونوں ملکوں نے پاکستان کو بطورِ ثالث تسلیم کرکے، یہ پیغام دے دیا ہے کہ یہ ریاست اب دنیا میں ایک خود مختار، آزاد اور ذمہ دارانہ کردار کا حامل ملک تصور کی جارہی ہے۔ ایک طرف ایران کی قیادت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ وہ اپنے حقوق سے دست بردار نہیں ہوگی، اگرچہ وہ جنگ کی خواہش مند بھی نہیں ہے جبکہ دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے ترجمان امریکی عوام کو مطمئن کررہے ہیں کہ اسلام آبا د کے بند کمروں میں ہونے والی بات چیت میں امریکی مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ گویا دونوں اطراف سے پاکستان کو اعتماد کے قابل سمجھا جارہاہے اور یہی وہ مرحلہ ہے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک سنجیدہ، بردبار، ذمہ دار اور قوت رکھنے والے ملک کی شناخت عطا کرتاہے، اس کی بنیادی وجہ امن کے لیے کی جانے والی پر خلوص کوششیں ہیں۔

پاکستان امن کے لیے کوششیں کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی تعلقات میں ایک ایسا پل بن چکا ہے جس کے کردار کو اب آلہ کار نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ اس کی حیثیت پر مخالفین کو اعتبار ہے اور یہی اعتبار دراصل موجودہ حالات میں کسی ریاست کے لیے ایک بڑے اعزاز سے کم نہیں کیوں کہ اسی اعتبار کی بدولت دنیا میں جنگوں کے سلسلے کو روکا جاسکتاہے۔ پاکستان نے امن کا ساتھ دے کر دنیا کو یہ باور کروایا ہے کہ مسائل کے حل اور مفادات کے حصول کے لیے جنگوں کا طریقہ درست نہیں ہے جیسا کہ ظالم اور دہشت گرد اسرائیل نے وطیرہ اختیار کررکھاہے۔ پاکستان کے عوام بھی امن کے ہی حامی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ملک کے نوے فی صد سے زائد عوام نے امن کے لیے کی جانے والی پاکستان کی کوششوں کی حمایت اور تعریف کی ہے۔ دراصل امن اور سلامتی انسانوں کی بنیادی ترین ضرورت ہے جس کے بغیر کوئی بھی معاشی سرگرمی بے معنیٰ ہوکر رہ جاتی ہے۔ معاشی ترقی اور استحکام کے لیے عام لوگوں کی زندگیوں کو برباد کردینا دراصل فساد فی الارض ہے جس کا ارتکاب اسرائیل اور امریکا کررہے تھے۔ پاکستان نے امن کا سفیر بن کر اس کردار کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے پاس صرف عسکری قوت ہی نہیں بلکہ سفارت کاری کے لیے بہترین مہارتیں، وسیع تجربہ اور اعلیٰ معیار رکھنے والی ایک ٹیم بھی موجود ہے جس نے ثابت کردکھایاہے کہ بدترین حالات میں بھی سنجیدگی، متانت، بردباری اور پرخلوص کاوشیں آخر کار رنگ لے آتی ہیں۔ پر امن کردار اور شدید نوعیت کے تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرکے پاکستان نے موجودہ عالمی سیاسی صورت حال میں اپنا قدکاٹھ اور اعتبار بلند کرلیا ہے۔ تنازعات میں گھری دنیا میں یہ اعتبار بھی نہایت اہم وسیلہ رکھتاہے۔ ظاہرہے کہ دو متحارب ریاستوں کے درمیان امن کے لیے کردار ادا کرنے والے ملک کو بھی گہرے حزم و احتیاط، انتہائی درجے کے محتاط رویے اور گہری بصیرت سے کام لینا ہوگا۔ اس موقع پر پاکستان کسی بھی فریق کو ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا اور یہ وہ باریک معاملہ ہے جسے بھارت اور اسرائیل بگاڑنے کی کوشش ضرور کریں گے تاکہ انھیں فساد پھیلانے کا کوئی نیا موقع ہاتھ آسکے۔ اہلِ وطن سے یہ بات مخفی نہیں ہوگی کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی نے بھارت کی انتہا پسند قیادت کو جلتے توے پر بٹھا رکھا ہے۔ بھارتی میڈیا کا ردعمل اس اندرونی تکلیف کا عکاس ہے جو بھارت کے طاقت ور حلقوں میں گہرائی تک محسوس کی جارہی ہے۔ دوسری جانب انسانیت کے مجرم نیتن یا ہو کی جانب سے بھی فساد، جنگ، تشدد اور نئے حملوں کی دھمکیاں جاری ہیں۔ یہ ان عالمی مجرموں کا حقیقی رویہ ہے جو اب انسانوں کو جان لینا چاہیے۔ نیتن یاہو نے عدالتی مواخذے سے بچنے کے لیے جنگوں کا جوسلسلہ چھیڑا تھا ممکنہ طورپر اس کا انجام دکھائی دینے لگا ہے کیوں کہ جنگوں کا سلسلہ رکتے ہی مودی اور نیتن یاہو انسانیت کے ان دونوں مجرموںکی سیاسی موت واقع ہوجائے گی۔

پاکستان کو جو سیاسی کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں، اس میں داخلی اتحاد، قیادت کا متفقہ طرزعمل اور دوست ممالک کا غیر معمولی تعاون بھی شامل ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم من حیث القوم اپنے کردار کو مزید ذمہ دار اور فعال بناتے ہوئے خود کو فساداور انارکی سے دور رکھیں۔ ملک سے سیاسی اور مذہبی انتشار کا خاتمہ کیا جائے۔ افغانستان سے اگر ہمارے معاملات طے پاجاتے ہیں تو ملک میں دہشت گردی کے اسباب و عوامل کے سدِ باب پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ نظام عدل کی اصلاح اور معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کی جانی چاہیے۔ طویل عرصے کی جدو جہد کے بعد پاکستان کو موجودہ مقام نصیب ہوا ہے۔ یہ حق تعالیٰ شانہ کا خصوصی فضل و انعام ہے۔ اس موقع پر یومِ تشکر منانے سے زیادہ اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر ذمہ داری کا ثبوت دیں اور اپنے کردار اورعمل کو قرآن وسنت کے بتائے گئے اصولوں کی روشنی میں پہلے سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کریں۔