مسلم ممالک کو امن و سلامتی کی خاطر متحد ہو جانا چاہیے

وطن عزیز کی روایتی مہمان نوازی سے مزین ماحول میں امریکا اور ایران کے وفود باہمی صلح کے کسی معاہدے تک پہنچے بغیر اپنے اپنے ملکوں کو واپس روانہ ہو چکے ہیں تاہم دنیا کو جنگوں کے ایک نئے سلسلے سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششیں بے نتیجہ نہیں رہی ہیں۔ امریکا اور ایران دونوں ہی مذاکراتی عمل میں شریک ہوکر افہام و تفہیم کے لیے درکار ایک ضروری مرحلہ طے کر چکے ہیں جس کے لیے پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، اگرچہ دونوں ملکوں کی جانب سے اس وقت بھی تند وتیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے لیکن سفارتی گرماگرمی کے باوجود امریکا کی طرف سے ایران کے خلاف کسی فوری فوجی کارروائی کے خطرات بہت کم ہیں۔ غالب گمان یہ ہے کہ جنگ بندی کے لیے طے شدہ مدت کی خلاف ورزی نہیں ہوگی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ ایک معروف امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ سمجھ گئے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی مقاصد کے لحاظ سے غیر سودمند ثابت ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق عارضی جنگ بندی کو امن و سلامتی کے مستقل ماحول میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نے اعتماد سازی کے عمل کو بہترین انداز میں آگے بڑھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے، جو ایک طرف پاکستان کی کوششوں کی تائید و حمایت کا درجہ رکھتا ہے تو دوسری جانب اس رویے سے مستقبل میں بات چیت کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے کی راہیں مزید کشادہ ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے امریکا، ایران مذاکرات میں بات چیت ایک مناسب درجے تک آگے بڑھ چکی تھی تاہم ایرانی مذاکرات کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے صلح کے معاہدے کے لیے بے جا شرائط عائد پیش کی جا رہی تھیں جنھیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا لہٰذا ایرانی وفد صلح نامے پر دستخط نہ کرنے پر مجبور ہوا۔ دوسری طرف امریکی وفد کی جانب سے ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ جوہری صلاحیت کے حصول کی کوششیں ترک کرنے اور آبنائے ہر مز کو یکطرفہ طورپر کھولنے کے لیے تیار نہیں تھا جس کی وجہ سے معاہدہ نہ ہو سکا۔

تجزیہ کار پہلے ہی ان خدشا ت کا اظہار کر رہے تھے کہ امریکا اور ایران کے مابین بہت جلد کسی معاہدے پر اتفاق کے امکانات محدود تر ہیں تاہم پاکستان کی سفارتی کامیابی کو ماسوائے بھارت اور اسرائیل کے، پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔ اس سفارتی کامیابی میں جسے بعض ملک دشمن عناصر اور ان کے بہکاوے کا شکار سادہ لوح افراد تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، بنیادی کردار دنیا کو جنگ اور فساد سے محفوظ رکھنے کا وہ جذبہ تھا جوکہ پاکستانی قیادت میں واضح طورپر دکھائی دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ منطقی طورپر خود پاکستان کو بھی ایسی ہی سفارتی کامیابی کی اشد ضرورت تھی جو اس کے کھوئے ہوئے عالمی وقار اور مسلم امہ میں اس کے قائدانہ کردار کو پھر سے اجاگر کر سکے تاہم دنیا بھر کی جانب سے ملنے والی پذیرائی بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے اہم ترین قدم اٹھا کر امن پسند لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں محض ایک خطہ ارضی کو جنگ اور فساد سے محفوظ رکھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے مثبت نتائج سے پوری دنیا مستفید ہوئی ہے یہاں تک کہ باہم متحارب ممالک یعنی ایران اور امریکا کا مفاد بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ جنگوں کے سلسلے کو مزید آگے نہ بڑھائیں اور انسانوں کو امن کی حالت میں رہنے دیںکیوں کہ جنگ کے نتائج جہاں پوری دنیا کے لیے بھیانک ہوں گے وہاں یہ دونوں ملک اور ان کے کروڑوں عوام بھی شدید طورپر متاثر ہوں گے۔

اگر یہ کہا جائے کہ امریکی اور ایرانی پالیسی سازوں کو جنگ کے مضمرات اور اس میں پوشیدہ مہلک نتائج کا اندازہ نہیں تو یہ ایک غیر منطقی بات ہوگی۔ اس کے باوجود یہ دونوں ریاستیں جنگ کی جانب کیوں قدم بڑھاتی رہیں؟ اس کے ایک سے زائد جواب دیے جا رہے ہیں۔ سابقہ تاریخ اور ان دونوں ریاستوں کے کردار کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکا اور ایران دونوں ہی توسیع پسندانہ عزائم کی حامل دکھائی دیتی ہیں۔ اگر امریکا نے اپنے قیام سے لے کر اب تک دنیا میں مسلسل جنگیں برپا کی ہیں تو ایران کے پچھلے چالیس، پینتالیس برس بھی مسلسل جنگوں ہی سے عبارت ہیں۔ امریکا نے دنیا کے وسائل پر تسلط کے لیے کہیں براہِ راست اور کہیں بالواسطہ جنگوں کا سلسلہ جار ی رکھا ہے تو ایران بھی اپنی پراکسی وار کی وجہ سے دنیا میں منفی شہرت رکھتا ہے۔ لہٰذا ان دونوں ریاستوں کے درمیان وسائل پر تسلط اور تزویراتی مفادات پر غلبے کی جنگ برپا ہے جس کے نتائج نہ صرف علاقائی ممالک کے لیے تباہ کن ہوں گے بلکہ عالمی معیشت کو بھی تباہی کا منہ دیکھنا ہوگا۔ تیل کی سپلائی لائن متاثر ہونے سے چین کو اقتصادی نقصانات کا سامنا ہوگا اور عرب ریاستوں کو بدامنی، تشدد اور معاشی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جنگ برپا کر کے دراصل عربوں کی تیل کی مارکیٹ کو پامال کرنا چاہتا ہے۔ امریکا کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو قائم رکھنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال میں وینزویلا کے قبضہ کیے گئے تیل کے ذخائر کو عالمی منڈی میں فروخت کرنا ایک بہترین طریقہ ہو سکتا ہے خواہ اس کی وجہ سے خطۂ عرب کو کیسے ہی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے۔ عربوں کی تباہی اسرائیل کے بھی عین مفاد میں ہے کیوں کہ تباہ حال عرب ریاستیں بہرحال گریٹر اسرائیل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکیں گی۔ اسرائیل اپنے مفادات کے لیے امریکا کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے کی کوشش میں ہے جبکہ عرب اور دیگر مسلم ممالک ویسے ہی اس کی سازشوں کی زد میں ہیں لہٰذا اس وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک باہمی اتحاد و یکجہتی اور اپنی خارجہ پالیسی اور امن و سلامتی کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی اصول قرار دیں۔

پاکستان کے بعد ترک صدر کی جانب سے اسرائیل کو کی گئی تنبیہ غیر معمولی ہے۔ پاکستان کے دستے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد اور باہمی دفاعی اشتراک مسلم ریاستوں کو غیر معمولی توانائی فراہم کرے گا جس کی اس وقت مسلم امہ کو اشد ضرورت ہے۔ مسلم ممالک کا باہمی اتحاد جنگوں کے سلسلے کو روکنے اور عالم اسلام کو درپیش خطرات اور چیلنجوں کا سدباب کرنے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتا ہے۔