قومی مزاج کو بدلنے کی ضرورت!

راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے پیش نظر سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ ادارے کی رپورٹ مطابق شرپسند عناصر کی جانب سے راولپنڈی ڈویژن، ٹیکسلا، حسن ابدال اور اسلام آباد میں پولیس اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس پر تھریٹ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ توانائی نے توانائی بچت کیلئے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا۔حکام کے مطابق صوبائی حکومتیں چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے رائے لے رہی ہیں جبکہ ڈسکوز سے بھی متعلقہ ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق بازار، مارکیٹس، دکانیں اور کمرشل زونز صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جسے ایک سے 2 ماہ کیلئے لاگو کیا جا سکتا ہے۔راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیکورٹی ہائی الرٹ اور ملک بھر میں توانائی بچت کےلئے زیر غور اقدامات، یہ بظاہر دو مختلف نوعیت کی خبریں ہیں، مگر درحقیقت یہ دونوں ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ یہ خبریں اس منظرنامے کا آئینہ ہیں جس میں آج کا پاکستان سانس لے رہا ہے۔ ملک ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں داخلی سلامتی اور معاشی استحکام دونوں کو بیک وقت سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ خصوصاً ایران سے جڑی جنگی صورتحال نے دنیا کے بڑے حصے کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کوئی ملک براہ راست اس کے اثرات کا شکار ہے تو کوئی بالواسطہ طور پر اس کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ پاکستان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جڑواں شہروں میں سیکورٹی الرٹ کا بظاہر ایران جنگ سے براہ راست تعلق نہیں، کیونکہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کر رہا ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کسی خطے میں غیر یقینی اور کشیدگی بڑھتی ہے تو ایسے مواقع دشمن کےلئے سازگار بن جاتے ہیں۔ وہ ایسے حالات کو ”سنہری موقع“ سمجھ کر اپنی کارروائیوں کو تیز کر دیتے ہیں۔زیر بحث خبر میں جس انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ اسی خدشے کا مظہر ہے کہ شرپسند عناصر نے مجموعی ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دشمن نہ صرف متحرک ہے بلکہ وہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اپنے مذموم مقاصد کےلئےمنصوبہ بندی کر رہا ہے۔
دہشت گردی صرف سیکورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں نگلیں بلکہ معیشت، سیاست اور سماجی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، مگر اس کے باوجود یہ خطرہ ختم نہیں ہو سکا، خصوصاً افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد اس خطرے کی نوعیت مزید خطرناک ہو گئی ہے۔ ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروہوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ ماضی میں اشرف غنی حکومت بھی خوارج کو پاکستان کےخلاف پراکسی کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے، مگر موجودہ صورتحال اس لحاظ سے زیادہ سنگین ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خارجی ٹولے کے حوصلے اب پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہیں اور وہ بغیر کسی خوف کے پاکستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ معاملہ اٹھایا، قطر، ترکیہ اور سعودیہ کی ثالثی میں مذاکرات کیے، مگر بدقسمتی سے طالبان رجیم پاکستان کے تحفظات کو توجہ دینے پر آمادہ نہیں، جس کی وجہ سے پاکستان نے جارحانہ دفاع کا راستہ اختیار کرتے ہوئے افغانستان میں گھس کر خوارج پر وار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں افغانستان پر دباو¿ بڑھا ہے اور انہوں نے اپنی سرزمین پاکستان کےخلاف استعمال نہ ہونے دینے کے بیانات بھی دیے ہیں۔ اسی تناظر میں چین کی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز اچھی پیشرفت ہے۔دیکھنا ہوگا کہ چین کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔ بہرحال خطے کے امن کےلئے اس مسئلے کا پرامن حل ضروری ہے۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے میں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات بھی اسی بڑے بحران کا حصہ ہیں۔ تیل اور گیس کی عالمی سپلائی میں خلل، قیمتوں میں اضافہ اور درآمدی انحصار نے پاکستان کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے میں توانائی کی بچت کے لئے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ بازاروں کے اوقات کار کو محدود کرنے کی تجویز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دن کے اوقات میں کاروباری سرگرمیوں کو محدود کرنے سے نہ صرف بجلی کی بچت ہوگی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار میں بھی کمی آئے گی، جو بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وسائل کا دانشمندانہ استعمال صرف بحران کے وقت کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ہمارا مستقل قومی مزاج ہونا چاہیے۔ اسلام بھی ہمیں میانہ روی اور کفایت شعاری کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد کہ ”اخراجات میں میانہ روی نصف معیشت ہے“ نہایت جامع اور حکیمانہ اصول کا حاملہے۔ اگر اس اصول کو اجتماعی سطح پر اپنایا جائے تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں بھی معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کو بھی اس حوالے سے مثال قائم کرنا ہوگی۔ اعلیٰ افسران اور سرکاری اداروں کو دی جانے والی غیر ضروری مراعات، خصوصاً مفت پٹرول اور وسائل کے بے دریغ استعمال کو محدود کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک حکمران خود کفایت شعاری کا مظاہرہ نہیں کریں گے، عوام سے اس کی توقع رکھنا مشکل ہوگا۔ ملک اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں ہر سطح پر چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ سیکورٹی کے محاذ پر غفلت کی کوئی گنجائش نہیں، جبکہ معاشی میدان میں دانشمندانہ فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کےلئے سیکورٹی اداروں کو مستعد رہنا ہوگا، جبکہ توانائی بحران سے نمٹنے کےلئے حکومت اور عوام دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان حالات کو سنجیدہ لے کر بروقت اور درست فیصلے کیے جائیں تو نہ صرف موجودہ چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور محفوظ پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔