پاکستان کی انتھک کوششوں سے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات توقعات کے برعکس کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں، تاہم مذاکرات کے اختتام پر دونوں جانب سے سامنے آنے والے موقف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ بات چیت کا سلسلہ، امن کی امید اور سفارتکاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ہمارا وفد بغیر کسی معاہدے کے امریکا واپس جا رہا ہے اور ایرانی موقف اس کے برعکس مذاکرات کے تسلسل کی طرف اشارہ دے رہا ہے، جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امید ہے دونوں فریق جنگ بندی اور بات چیت کا تسلسل حتمی معاہدے تک جاری کھیں گے۔
اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات اگرچہ متاسفانہ طور پر کسی حتمی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے، مگر اس کے باوجود یہ عمل بجائے خود اپنی نوعیت، اہمیت اور اثرات کے اعتبار سے ایک غیر معمولی پیشرفت تھا۔ یہ کہنا آسان ہے کہ بیس گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے اعصاب شکن مذاکرات ناکامی پر ختم ہوئے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ جن دو ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے، یہ محض اس حالیہ جنگ کے فریق نہیں، دونوں کے درمیان عدم اعتماد، عداوت، دشمنی اور سنگین اختلافات کا دائرہ عشروں تک پھیلا ہوا ہے۔اسلام آباد میں مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جس صاف گوئی کے ساتھ یہ تسلیم کیا کہ کوئی قابل قبول اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا، وہ ایک طرف امریکی موقف کی وضاحت کرتا ہے تو دوسری طرف مذاکراتی عمل کی سنجیدگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان مذاکرات میں امریکا کی بنیادی ترجیح ایران کے جوہری پروگرام پر واضح اور طویل المدتی یقین دہانی حاصل کرنا تھی، جو امریکی وفد کے بقول فی الحال نہ مل سکی۔ اس کے برعکس ایرانی ذرائع نے اس تعطل کی ذمہ داری امریکی غیر منطقی مطالبات پر عائد کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
تاہم ان متضاد بیانات کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بات چیت کا عمل مکمل منقطع نہیں ہوا اور امن کی امید کی ڈوری ابھی نہیں ٹوٹی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے مذاکرات کے تسلسل کی امید اور ایرانی حکام کا یہ کہنا کہ یہ ایک عارضی وقفہ ہے، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی دروازے بدستور کھلے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ کسی بھی تنازع میں مکمل تعطل ہی سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔اسلام آباد مذاکرات کی ایک اور نمایاں کامیابی یہ رہی کہ امریکا اور ایران، جو گزشتہ چار دہائیوں سے ایک دوسرے کے سخت مخالف رہے ہیں، پہلی بار اس سطح پر براہ راست آمنے سامنے بیٹھے۔ ٹرمپ کے دور میں کشیدگی جس انتہا کو پہنچی، اس کے بعد یہ تصور بھی مشکل تھا کہ دونوں ممالک کسی ایک میز پر بیٹھ کر اتنے طویل اور تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ عمل بذاتِ خود ایک تاریخی پیش رفت کا مظہر ہیں، چاہے اس کا فوری نتیجہ سامنے نہ آیا ہو۔ پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی نائب صدر نے کھلے الفاظ میں پاکستان کی میزبانی اور کوششوں کو سراہا، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اس کردار کو سراہتے ہوئے اسے مخلصانہ اور متوازن قرار دیا۔ یہ کوششیں اس بات کا مظہر ہیں کہ پاکستان نہ صرف امن کا خواہاں ہے بلکہ اس کیلئے عملی اقدامات بھی کر رہا ہے۔ اس پیشرفت نے پاکستان کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا، بلکہ پاکستان نے اپنے مضبوط سفارتی کردار سے قابل فخر مقام حاصل کیا ہے۔یہ پاکستان ہی تھا جس کی پوزیشن دونوں فریقوں کیلئے قابل قبول تھی اور دونوں کو پاکستان پر اعتبار تھا، جس کی وجہ سے مذاکرات کا بہرحال آغاز ہوا۔
جہاں تک معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کی وجوہات ہیں ، اگر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اختلافات کی جڑیں نہایت گہری ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، اور مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار وہ بنیادی نکات ہیں جن پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے اور ایرانیوں نے موقف اختیار کیا کہ امریکی مطالبات حد سے زیادہ اور غیر منطقی ہیں۔ ایران اور پاکستان کو بھی امید تھی کہ مذاکرات کا سلسلہ اتوار کے دن بھی جاری رہے گا، مگر بدقسمتی سے امریکی وفد مذاکرات کے تین دور کے بعد ہی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر روانہ ہوگیا۔ دنیا کا بڑے سے بڑا جھگڑا بھی بات چیت سے بہ آسانی حل ہوسکتا ہے تاہم بات چیت کی کامیابی کیلئے یہ ضروری ہے کہ کچھ لو، کچھ دو کا اصول پیش نظر رکھا جائے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی فریق کی ساری باتیں رکھ لی جائیں اور دوسرے پر مرضی تھوپ دی جائے۔ دیکھا جائے تو ان مذاکرات کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کی وجہ یہی تھی کہ امریکا کچھ زیادہ ہی اپنے مطالبات پر اصرار کر رہا تھا، جو بہرحال ایک قابل اصلاح رویہ ہے۔ امریکا کو اپنے مفادات پر ہی اصرار کی بجائے دنیا اور پوری انسانیت کا مفاد بھی پیش نظر رکھنا چاہیے تھا، جو الفور کسی بھی شکل و صورت میں حتمی معاہدے کے ذریعے جنگ اور خونریزی کا خاتمہ تھا۔
مذاکرات کے اس مرحلے کے بعداب اہم سوال جنگ بندی کے مستقبل کا ہے۔ اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، مگر اس کی مدت محدود ہے اور اگر اس دوران کوئی مزید مثبت پیشرفت نہ ہو سکی تو جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں عالمی برادری، خصوصاً علاقائی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ بات چیت کے عمل میں کسی بھی صورت تعطل نہ آنے دیں اور ہر حال میں مذاکراتی عمل آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ یہ عارضی وقفہ مستقل امن و استحکام میں تبدیل ہو سکے۔ دنیا اس وقت جس غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال سے گزر رہی ہے، اس میں ہر وہ قدم جو جنگ کی بجائے امن و استحکام کی طرف لے جائے، قابل قدر ہے، پاکستان نے اپنے حصے کا کردار بڑی عمدگی سے ادا کیا اور اب بھی تھکا نہیں ہے اور امن عمل کے دوبارہ جلد آغاز کیلئے پر امید ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے مذاکرات کے اختتام پر باوقار رویے کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے، چنانچہ امید کی شمع روشن ہے اور یہی اس پورے عمل کی بڑی کامیابی ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ جلد بات چیت کی میز دوبارہ سجے اور دنیا کو خطرناک جنگ کی تباہی سے مستقل نجات کا معاہدہ طے پا جائے۔

