قریب تر ہے نمود جس کی ،اسی کا منتظر ہے زمانہ

ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے مراکز پر مطلق اختیار کے حصول کی خاطر لڑی جانے والی جنگ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی جاری ہے۔ایران نے اب تک غیر متوقع طورپر مزاحمت کی ہے ۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مزید حملے کیے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے بھی تل ابیب اور حیفہ کو نشانہ بنایا گیاہے۔ امریکی صدر نے دھمکی دی ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں ایران کے شہری نظام کو تباہ کردیا جائے گا جبکہ ایرانی مندوبین نے اقوام متحدہ کو متوجہ کیا ہے کہ وہ جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کے ارتکاب پر آمادہ امریکی صدر کا مواخذہ کرے۔ دوسری طرف ایران کی جانب سے عرب امارات کے شہروں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ عرب امارات ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست شرکت کا فیصلہ کرسکتاہے ۔اگر ایسا ہوا تو جنگ کا دائرہ آبنائے ہر مزسے باب المندب تک اور خلیج فارس سے بحرِ عرب تک وسیع ہوجائے گا۔

درحقیقت دنیا میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے لیے جاری کشمکش اس جنگ کی وجہ سے عروج پر پہنچ چکی ہے۔اس امر میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ جنگ سے متاثرہ کسی بھی ملک کے ایک غلط اقدام سے دنیا میں تیسری عالمی جنگ کا بھرپور آغاز ہوجائے گا جو مشرق سے لے کر مغرب تک ہر منظر پر چھا جائے گی۔ جنگ کے ان وحشت ناک مناظر سے انسانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بین الممالک سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور امریکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان پینتالیس روزہ جنگ بندی کے لیے ابتدائی بات چیت شروع ہوچکی ہے۔اگر امریکی صدر اپنے لب ولہجے پر قابو رکھ پائے تو مذاکرات کی ناکامی کی کوئی وجہ نہیں کیوں کہ جنگوں کا اختتام بہر حال ہمیشہ بات چیت اور مذاکرات ہی پر ہوتاہے۔سوال یہ ہے کہ امریکی قیادت کا غیر منطقی ،ناشائستہ اور غیر مہذب رویہ دیکھتے ہوئے اسے کس حد تک قابلِ اعتماد سمجھا جاسکتاہے ؟۔

امریکی صدر کی بدزبانی جنگ کے غیر متوقع نتائج سے پیدا ہونے والے اس نفسیاتی دباؤ کے اثرات بھی ہوسکتے ہیں جو امریکا کے اقتدار کے ایوانوں میں بڑھتاجارہاہے تاہم اس موقع پر امریکا اور اسرائیل کے اقتدار پر براجمان افراد کے کردار و نفسیات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔ کیا دنیا اس بات سے بے خبر ہے کہ امریکی اقتدار و اختیار کیسی بدقماش شخصیات کے ہاتھوں میں ہے ؟ایک طرف بچوں کی عصمت دری کرنے والے جنسی مجرموں کا ٹولہ ہے تو دوسری جانب دہشت گردی کے عالمی مرکز اسرائیل پر ہزاروں معصوم بچوں کا قاتل مکمل فرعونیت کے ساتھ راج کررہاہے۔ان فسادی اور نفسیاتی مریضوں سے انسانوں کی بہتری ،بھلائی، امن اور احترام کی کوئی بھی امید بھلا کیسے وابستہ کی جاسکتی ہے ؟علاوہ ازیں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مجرموں اور فسادی عناصر پر مشتمل یہ طاقت ور لوگ دراصل کس گروہ کا تسلسل ہیں ؟کیا امریکی تاریخ سے سیاہ فاموں کی نسل کشی اور صہیونی دہشت گردوں کے ہاتھوں گزشتہ ایک صدی میں فلسطینیوں کے قتلِ عام کو منہا کیا جاسکتاہے ؟امریکا اور اس کے زیر انتظام اسرائیل نامی رقبے میں موجوددہشت گردوں نے دنیا کو جنگوں کے سوا کچھ نہیں دیا اور اس وقت بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یا ہو نامی انسانیت کے مجرم ہی دنیا میں موجود فساد ، جنگ اور انسانوں کو درپیش زندگی کی شدید مشکلات کے اہم ترین ذمہ دار ہیں۔

اس پسِ منظر کو دیکھتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کا مستقبل زیادہ امید افزا معلوم نہیں ہوتا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں اور گالم گلوچ پر مشتمل زبان کو دیکھتے ہوئے ہی غالبا ً ایرانی قیادت نے امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا اور یہ ایک مزاحمت کرنے والی ریاست کا فطری ردعمل بھی ہوسکتا ہے تاہم یہ امر امید افزا ہے کہ سفارتی سطح پر کی جانے والی کاشوں کی بدولت ایرانی قیادت بات چیت سے انکاری نہیں جیسا کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی توثیق سے معلوم ہوتاہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے اشتراک سے معاملات کو سفارتی سطح پر لانے اور فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد میں مصرو ف ہے تاہم یہ کوششیں اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہیں جب مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم عالمی دہشت گردوں کی سازشوں پر بھی مکمل نظر رکھی جائے اور عرب ریاستوں کو باہم لڑانے اور ”گریٹر گیم ”کھیلنے والے ممالک اور ان کی پراکسی کی خفیہ کوششوں کو ناکام بنایا جائے۔ اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک فریقین کو پہنچنے والے نقصانات کی درست تفصیلات سامنے نہیں آئیںجس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ کون سا فریق اپنے نقصانا ت کی وجہ سے مذاکرات کی میز پر بحالتِ مجبوری بیٹھے گا تاہم یہ امر عین قرینِ قیاس ہے کہ مذاکراتی عمل کی ناکامی کا بڑا سبب اعتماد سازی کو سبوتاژ کرنے والی ان سرگرمیوں کی وجہ سے ہے جس نے عالم ِ عرب میں ایک ہیجان کی سی کیفیت پیدا کررکھی ہے ،پاکستان انہی سرگرمیوں کو خطے کے امن کے لیے شدید نقصان دہ سمجھتے ہوئے اعتماد کی بحالی کے درکار فضا کو قائم کرنے کے لیے کوشش کررہاہے اور اس تمام ماحول میں ترکیہ اور مصر پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ سعودی عرب نہایت ضبط اور تحمل کے ساتھ مسلسل مخدوش ہوتی صورتِ حال کے باوجود امن کی خاطر بات چیت کو ترجیح دیتا نظر آرہاہے۔

پاکستان کی کوششیں اگر کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہیں تو بلاشبہ موجودہ حالا ت کے تناظر میں یہ ایک تاریخی سفارتی کامیابی ہوگی جس کے مثبت معاشی و اقتصادی پہلو ہوں گے لیکن ان کا دفاعی پہلو بھی نہایت اہمیت کا حامل ہوگا۔ پاکستان ان تمام حالات میں چومکھی جنگ لڑ رہاہے لیکن میدان میں اس کے مضبوط قدم دراصل یہ ظاہر کررہے ہیں کہ مملکتِ خدادا د کا سبز ہلالی پرچم سربلند ہوگا اورستارہ بفضلہ تعالیٰ چمک اٹھے گا۔ بدترین معاشی بحرانوں، داخلی خلفشار کی سازشوں، سنگین ترین حملوں اور انارکی پھیلانے کی زیرزمین کارروائیوں اور بھارت جیسے توسیع پسندانہ عزائم کی حامل دہشت گرد ریاست کے بالمقابل سیسہ پلائی دیوار کے مانند ثابت قدم رہنے والی پاکستان کی ریاست موجودہ حالات سے سرخرو ہوکر نکلی تو اس کے حوصلے آسمان پر ہوں گے اور کسی دشمن کے لیے اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا ممکن نہ ہوگا۔ بہرحال وقت ہی بتائے گا کہ پاکستان موجودہ بحران سے کیسے نکلا لیکن پاک، سعودیہ دفاعی معاہدے کے بعددنیا پاکستان کے اس دور کی منتظر ہے جس کی نمود بفضلہ تعالیٰ قریب تر دکھائی دیتی ہے۔ فی الوقت دیکھنا ہوگا کہ ایران کی قیادت پاکستان کے کردار سے کیا فائدہ اٹھاسکتی ہے۔