رپورٹ: علی ہلال
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا راونڈ اسلام آباد میں منعقد ہونے کا امکان روشن ہوگیا ہے۔ پاکستانی قیادت کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک مرتبہ پھر مثبت جواب ملا ہے۔ عرب میڈیا سے وابستہ بااعتماد ذرائع کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دور کرنے اور مشرقِ وسطیٰ پر جنگ کے پھیلتے ہوئے سائے کم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ پاکستان نے پہلا راونڈ بغیر کسی نتیجہ ختم ہونے کے بعد کوششیں ترک نہیں کیں اور دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہونے کے باعث معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے مذاکراتی وفود آئندہ چند دنوں میں دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل پاکستانی دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے تھے۔ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی تاہم امکان ہے کہ فریقین ہفتے کے آخر تک دوبارہ ملاقات کریں۔ ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ جمعہ سے اتوار کے درمیان کا وقت فی الحال کھلا رکھا گیا ہے۔ بعدازاں ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ ملاقات ایک دہائی سے زائد عرصے میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات تھی جبکہ 1979 ء کے بعد اسے اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت قرار دیا جا رہا ہے۔ادھر پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیشکش اس بات پر منحصر ہے کہ آیا فریقین کسی اور مقام کو ترجیح دیتے ہیں یا نہیں۔
امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ مذاکرات میں ’کچھ پیش رفت‘ہوئی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے لیکن امریکا کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اتوار کے روز 34 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر ’کنٹرول قائم کرنا‘ شروع کردیا ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج نے پیر کے روز خلیج میں ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والی یا وہاں سے آنے والی بحری آمدورفت پر پابندی عائد کرنا شروع کردی ہے۔ واشنگٹن کے مطابق یہ اقدام مذاکرات کی ناکامی کے بعد اٹھایا گیا جس کی ذمہ داری ایران پر عائد کی گئی ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحری پابندی پیر کو گرینچ وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے سے نافذ ہوچکی ہے اور اس کا اطلاق تمام ان جہازوں پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں یا وہاں سے روانہ ہو رہے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے راونڈ کو اسرائیل کی جانب سے بھی خواہش ظاہر کیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے اور اسرائیلی اداروں کی جانب سے امریکا کے اوپر مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں کمی آنے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے اندرونی حلقوں میں شدید کشیدگی نے وزیرِاعظم کے زیرِ قیادت سکیورٹی کابینہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک اہم سفارتی موقع ضائع ہونے پر وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا سامنا ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اب پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ موقع دوبارہ ملنا مشکل تھا۔باخبر ذرائع کے مطابق حالیہ گھنٹوں کے دوران ہونے والے ہنگامی اجلاسوں میں اعلیٰ مشیروں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال خود حکومتی فیصلوں کا نتیجہ ہے اور اب کھوئے ہوئے استحکام کی بحالی کے لیے انہی سے رائے طلب کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے ثالثی کرنے والے فریق کے سامنے چند اہم مطالبات پیش کیے جن میں اسرائیل کو خطے میں امریکی کردار کا حصہ تسلیم کرنا، ایران کے اتحادی گروہوں (لبنان، یمن اور عراق) کو کسی بھی جنگ بندی میں شامل کرنا اور ان گروہوں پر اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی ضمانت دینا شامل تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، ان مطالبات پر غور کر رہا تھا اور معاملات طے ہونے کے قریب تھے۔ تاہم اسی دوران اسرائیلی وزیرِاعظم کی جانب سے مسلسل رابطوں کے ذریعے ان مطالبات کو مسترد کرنے پر زور دیا گیا۔رپورٹس کے مطابق اس صورتحال نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ناراض کردیا جبکہ امریکی وفد دباو کا شکار دکھائی دیا جس کے نتیجے میں مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیوں کے ارادے واضح تھے اور مذاکرات کی ناکامی کے بعد لبنانی محاذ پر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس دوران ایران کے حمایت یافتہ گروپ کی جانب سے جوابی کارروائی بھی کی گئی جس کے نتیجے میں اسرائیلی علاقوں میں خطرے کے سائرن دوبارہ سنائی دینے لگے ہیں اور اسرائیلی حکومت کو عوامی دباو کا سامنا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک نازک جنگ بندی کے ثمرات حاصل ہونے ہی والے تھے کہ صورتحال دوبارہ بگڑ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا نیتن یاہو اس موقع کے ضیاع کو اپنی حکمت عملی کی غلطی کے طور پر تسلیم کریں گے یا نہیں۔ تاہم اسرائیل کے پاس بھی اب امریکی مذاکرات کی حمایت کے علاہ کوئی آپشن بظاہر نہیں ہے جس کے باعث وہ امریکا پر دباو کم کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔

